حج سبسڈی کا خاتمہ مناسب یا نامناسب؟

سہیل انجم

ہندوستان میں مسلمانوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ ہو وہ متنازعہ ہو ہی جاتا ہے۔ ابھی ہم طلاق ثلاثہ پر مچنے والی جوتم پیزار سے نکلے بھی نہیں تھے کہ حج سبسڈی کے خاتمہ کا ہنگامہ شروع ہو گیا۔ سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے جو کہ جسٹس رنجن ڈیسائی اور جسٹس آفتاب عالم پر مشتمل تھی 2012 میں ایک پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت حج پر دی جانے والی سبسڈی کو 2022 تک بتدریج ختم کر دے۔ ابھی اس مدت میں چار سال باقی ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت نے اسی سال اس کو ختم کر دیا اور وہ یہ کہنے میں خود کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے حکم کی پابندی کی ہے۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمانوں کے تشٹی کرن یعنی ان کی منہ بھرائی میں نہیں بلکہ ان کو بااختیار بنانے میں یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ سبسڈی ختم کرنے سے جو رقم بچے گی، یعنی تقریباً سات سو کروڑ روپے سالانہ، اسے مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ انھوں نے ایک بات اور کہی کہ ہم نے یہ قدم اٹھا کر مسلمانوں کو ایک باوقار مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔ کیونکہ سبسڈی سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا بلکہ ان کی بدنامی ہی ہوتی تھی۔
حکومت کے اس اچانک اعلان پر چوطرفہ رد عمل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مسلمان بھی اس پر اظہار خیال کر رہے ہیں اور میڈیا والے بھی اور سیاست داں بھی۔ جب بھی یہ بات اٹھتی تھی کہ حکومت حج سبسڈی کے نام پر مسلمانوں کی منہ بھرائی کرتی ہے تو مسلمانوں کی بعض تنظیموں کی جانب سے حج سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگتا تھا۔ لیکن اب جبکہ حکومت نے اسے ختم کر دیا تو ان تنظیموں کی جانب سے جہاں اس کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے وہیں اس پر سوالات بھی اٹھائے جانے لگے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ عرض کر دیا جائے کہ اسلام میں حج ایک ایسی عبادت ہے یا ایک ایسا مذہبی فریضہ ہے جو سب پر نافذ نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص صاحب استطاعت ہے یعنی وہ حج پر جانے کی مالی طاقت رکھتا ہے تو وہ حج کا فریضہ ضرور ادا کرے۔ لیکن اگر کسی کے اندر اتنی مالی استطاعت نہیں ہے کہ وہ اتنا بڑا خرچہ برداشت کر سکے تو اس پر حج فرض نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص اپنے خرچے سے کسی کو حج پر بھیجتا ہے اور یہ سوچ کر بھیجتا ہے کہ اس سے اس کو بھی ثواب حاصل ہوگا تو پھر کوئی بھی حج کر سکتا ہے۔ حج کی ایک شکل حج بدل بھی ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص مالی قوت تو رکھتا ہے لیکن جسمانی قوت نہیں رکھتا یا کسی اور وجہ سے قانونی یا کسی بھی وجہ سے حج پر نہیں جا سکتا تو وہ کسی دوسرے شخص کو حج بدل کروا سکتا ہے۔ یعنی اپنی جگہ پر کسی اور کو بھیج دے۔ لیکن یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کے پاس استطاعت نہیں ہے تو آپ کسی سے قرض لے کر جائیں یا کسی سے مالی مدد لے کر جائیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو حکومت کی مالی مدد سے بھی حج کرنا کوئی بہت اچھی بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ کیا حکومت حاجیوں کو مالی مدد سے حج پر بھیجتی تھی۔ اگر حقائق کو دیکھا جائے تو اس کا جواب نفی میں ملے گا۔ کیونکہ حکومت نے حاجیوں پر یہ پابندی عائد کر رکھی ہے کہ وہ سرکاری ایئر لائن یعنی ایئر انڈیا سے ہی جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایئر انڈیا ہمیشہ خسارے میں چلتی ہے۔ لہٰذا حاجی اس سے جائیں گے اور آئیں گے تو ایئر انڈیا کو بڑا مالی فادئہ پہنچے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ عام دنوں میں سعودی عرب جانے کا کرایہ کم ہے اور حج کے لیے جانے پر کرایہ زیادہ وصول کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے بھی ایئر انڈیا کو فائدہ پہنچایا جاتا تھا۔ اسی لیے بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ حج سبسڈی در اصل حاجیوں کو نہیں بلکہ ایئر انڈیا کو دی جاتی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب جبکہ حکومت نے حج سبسڈی ختم کر دی ہے تو اسے حاجیوں پر ایئر انڈیا سے ہی جانے کی پابندی بھی ختم کر دینی چاہیے۔ حاجی جس ایئر لائن سے سستی ٹکٹ حاصل کر لے اس سے جائے یا جس سے اس کو جانے میں دلچسپی ہو اس سے جائے اور آئے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ حاجیوں کو چالیس چالیس دن سعودی عرب میں نہیں رہنا ہوگا۔ لہٰذا اس مطالبے میں دم ہے کہ حکومت ایئر انڈیا کی پابندی ختم کر دے۔ اگر نہیں ختم کرتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگااکہ وہ اب بھی حاجیوں کے پیسے سے ایئر انڈیا کے خسارے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہم اس سے بحث نہیں کریں گے کہ حکومت نے یہ قدم چار سال پہلے ہی کیوں اٹھا لیا ہے۔ اس پر بہت سے سیاسی بیانات آچکے ہیں۔ لیکن اس بات پر ضرور خیال آرائی ہونی چاہیے کہ کیا صرف ایک مذہب کو دی جانے والی مالی امداد ختم کرنا درست ہے جبکہ دوسرے مذاہب کو دی جانے والی مالی امداد جاری ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے۔ کسی بھی سیکولر ملک میں کسی مذہب کو حکومت کی جانب سے فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن عوامی فلاح و بہبود کے نام پر مختلف مذاہب کے لوگوں کو مالی مدد دی جا سکتی ہے اور حج سبسڈی بھی حکومت کے ایک فیصلے کے تحت 1954 سے دی جا رہی ہے۔ اسی کے ساتھ ہندو مذہب کے پیرووں کو بھی مالی مدد دی جاتی ہے۔ خاص طور پر مذہبی یاتراؤں کے لیے۔ ابھی اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ جو شخص مان سروور کی یاترا پر جائے گا اس کو حکومت ایک لاکھ روپے تک کی مدد دے گی۔ مدھیہ پردیش حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ معمر شہریوں کو ایودھیا اور متھرا جانے کے لیے اور سری لنکا، کمپوچیا اور پاکستان کے مندروں کے درشن کے لیے جانے والوں کو مالی امداد دے گی۔ چھتیس گڑھ، کرناٹک، ہریانہ، تمل ناڈو اور اب حال ہی میں دہلی کی حکومت نے بھی معمر شہریوں اور دوسروں کو مذہبی یاتراؤں کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ سبسڈی ایک ایک شخص کو پچیس ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ تک ہے۔ کمبھ میلہ اور سبری مالا یاترا کے لیے الگ سے مالی امداد دی جاتی ہے۔ کمبھ میلا کا انتظام تو حکومت ہی کرتی ہے۔ کیا سبسڈی کی ان اقسام کو بھی ختم کیا جائے گا یا نہیں۔ مختار عباس نقوی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے حج سبسڈی ختم کرکے مسلمانوں کا وقار واپس دلایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندووں یا دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا کوئی مذہبی وقار نہیں ہے۔ اگر حکومت مسلمانوں کا مذہبی وقار واپس کر رہی ہے تو ہندووں کا بھی واپس کرے۔ ان کو ملنے والی مالی امداد کا بھی خاتمہ ہو۔ یہ مطالبہ بہت ساری تنظیمیں بھی کر رہی ہیں اور سیاسی شخصیات بھی کر رہی ہیں۔
مختار عباس نقوی نے یہ بھی کہا ہے کہ جو رقم بچے گی وہ مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔ لیکن انھوں نے ابھی اس کا کوئی خاکہ پیش نہیں کیا ہے لہٰذا اس پر گفتگو کی گنجائش ذرا کم ہے۔ لیکن اس بیان کے بین السطور سے شکوک وشبہات کے بادل جھانکتے نظر آرہے ہیں۔ بہر حال حکومت کی نیت پر بھی بڑے پیمانے پر بحث ہو رہی ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس میں حکومت کی بدنیتی نظر آتی ہے اور بہت سے لوگ خاص طور پر میڈیا کے لوگوں کو حکومت کا خلوص ہی خلوص نظر آرہا ہے۔ لیکن وہ اس پر کوئی بحث نہیں کر رہے ہیں کہ حکومت دوسرے مذاہب کے پیرووں کو ملنے والی مالی امداد بھی ختم کرے جبھی اس کی نیک نیتی واضح ہو پائے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: abolishing haj subsidy justified | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )