اردو صحافت میں ایک خوشگوار اضافہ

سہیل انجم

سال 2017 میں اردو صحافت میں پاکستان سے ایک خوشگوار اضافہ ہوا ہے۔ وہ اضافہ ہے ماہنامہ ”صحافی“ کا اجرا۔ یہ کراچی یونین آف جرنلسٹس کا ترجمان ہے۔ مارچ میں اس کا پہلا شمارہ آیا تھا۔ میرے سامنے اس کے تین شمارے ہیں یعنی مارچ، اپریل اور مئی کے۔ یہ بڑی تقطیع میں فور کلر میں انتہائی خوبصورت رسالہ ہے۔ تقریباً ساٹھ صفحات کے اس رسالے میں نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان کی صحافت کے خد و خال کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ایڈیٹر سینئر صحافی سید شاہد رضا ہیں، جنھوں نے تاریخ صحافت اردو کے مصنف مولانا امداد صابر پر پی ایچ ڈی کی ہے۔
وہ پہلے شمارے کے اداریے میں رسالے کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں ”یقیناً آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ ذرائع ابلاغ کے اس سمندر میں ایک نیا ماہنامہ جاری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس کا بہت سادہ سا جواب ہے کہ صحافت اور صحافیوں کے لیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم صحافی حضرات اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرکے اخبارات، رسائل و جرائد اور ریڈیو و ٹیلی ویژن چینلوں پر ایسا مواد پیش کرتے ہیں جس میں قارئین، سامعین اور ناظرین کی پسند و ناپسند کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ مگر اس عمل میں ہماری اپنی پسند ناپسند اور وہ تخلیقی صلاحیتیں کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہیں جو بطور ادیب، شاعر، ڈرامہ و افسانہ نگار ہمارے اندر موجود ہوتی ہیں۔ ہم ملک و قوم اور عوام کی خدمت کرتے کرتے خود کو فراموش کر بیٹھتے ہیں اور پھر کسی ناگہانی حادثے یا طبعی موت کے نتیجے میں ایک سنگل کالمی خبر بن کر ہمیشہ ہمیش کے لیے فنا ہو جاتے ہیں…. جن عظیم صحافیوں نے اپنے خون جگر سے صحافت کی آبیاری کی ہے ہم ”صحافی“ کے ذریعے ان مرحومین کی خدمت میں خراج عقیدت کے پھول پیش کریں گے۔ اظہار رائے کی آزادی کے لیے جد و جہد کرنے والے دلیر صحافی رہنماو¿ں کے ہراول دستے اور اس کے سپہ سالار کے اذکار سے موجودہ دور کے صحافیوں اور نئی نسل کو آگاہ کریں گے…. برصغیر کی صحافت اور مورخین صحافت کا تذکرہ بھی ”صحافی“ کے صفحات کی زینت بنتا رہے گا۔ اس کے علاوہ صحافیوں کی دیگر تخلیقی صلاحیتوں سے بھی آپ کو روشناس کرائیں گے۔ صحافیوں کی نئی نسل سے بھی مکالموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دنیا بھر میں اور خصوصاً پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مسائل و مشکلات کو زیر بحث لا کر ان کے تدارک کے لیے تجاویز پیش کرتے رہیں گے“۔
اس کے پہلے شمارے میں پاکستان میں آزادی صحافت کی جنگ کے سرخیل منہاج برنا کی یاد میں ”وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا“ کے زیر عنوان ایک تفصیلی مضمون شامل ہے۔ روزنامہ ایکسپریس میں میگزین کے انچارج احفاظ الرحمن کا تحریر کردہ یہ مضمون منہاج برنا کی قربانیوں کو شاندار خراج عقیدت ہے۔ اس کے علاوہ خیرپور جیل سے میر خلیل الرحمن کے نام منہاج برنا کا ایک مکتوب بھی شامل اشاعت ہے جو آزادی اظہار و آزادی صحافت کے سلسلے میں ایک تاریخی مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپریل مئی کے شمارے میں پاکستانی صحافت کا سربلند کرنے والی صحافی زبیدہ مصطفیٰ کا ایک خصوصی انٹرویو ہے۔ ماہنامہ صحافی میں سینئر اور نسبتاً کم عمر صحافیوں اور فوٹو گرافروں کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔ اس تعلق سے45 برسوں تک بطور فوٹو جرنلسٹ خدمات انجام دینے والے فوٹو گرافر زاہد حسین کا ایک طویل انٹرویو ہے جو نہ صرف ان کی خدمات پر روشنی ڈالتا ہے بلکہ پاکستان کی سیاست پر بھی اور بالخصوص پیپلز پارٹی کی سیاست اور ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے متعلق ایسی باتوں کو روشنی میں لاتا ہے جو ابھی تک صیغہ راز میں تھیں۔ ایک تحقیقی مضمون بلوچستان کے چالیس سے زائد صحافیوں کی شہادت پر ہے۔ ایک مضمون میں اردو اخباروں میں املا کی غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور غلط اور اس کے سامنے صحیح الفاظ کی فہرست دے دی گئی ہے۔ یہ زبان کی اصلاح کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ پاکستان کی سرفہرست نیوز کاسٹر اسما اقبال کی دلچسپ باتیں بھی ہیں۔ ان سے گفتگو کا عنوان ہے ”نکاح کے عین موقع پر شادی سے انکار کر دیا“۔ کچھ ایسے کالم بھی ہیں جو بہت دلچسپ ہیں جیسے کہ ایک شاعر ایک صحافی اور ایک صحافی ایک کتاب۔ ان کالموں میں کسی صحافی کے فن سے جو شاعر بھی ہو اور کسی صحافی کی کسی تصنیف سے قارئین کو باخبر کرایا گیا ہے۔

A new chapter in Urdu journalism
magazine sahafi logo:فوٹو

ہندوستان کے سہارا میڈیا سے وابستہ فرحت رضوی کا ایک مضمون قسطوار شائع کیا گیا ہے جس میں ہندوستانی میڈیا میں مسلم خواتین کی تفصیلات ہیں۔ یہ بڑا معلوماتی مضمون ہے۔ گرونانک دیو یونیورسٹی امرتسر میں شعبہ اردو سے وابستہ ڈاکٹر ریحان حسن کا منشی نول کشور پر ایک طویل مضمون بھی شائع ہوا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن کے استاد پروفیسر عبید صدیقی کا بھی ایک انٹرویو ہے جس کا عنوان ہے ”ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جس دن وہ سیکولر نہیں رہے گا ختم ہو جائے گا“۔ اس کے ایڈیٹر سید شاہد رضا نے ایک مضمون ہندوستانی میڈیا پر سپرد قلم کیا ہے اور اس میں اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کا میڈیا کس طرح سیاسی جماعتوں کے زیر اثر رہتا ہے۔ ان کا یہ جملہ ملاحظ فرمائیں کہ ”ہندوستان میں گزشتہ تقریباً تیس برسوں سے میڈیا اس طرح اپنا رنگ بدلتا رہا ہے جس طرح وہاں کی سیاست اپنا رنگ بدلتی رہی ہے۔ اب ہندوستان میں بھی پاکستان کی طرح سیاسی رہنماو¿ں کے خلاف میڈیا کے ذریعے کی جانے والی تنقید سے کسی سازش کی بو آنے لگتی ہے“۔ اس شمارے میں خاکسار کا ایک مضمون ”میڈیا کی نئی جہت ای میل صحافت“ بھی شامل اشاعت ہے۔
ماہنامہ صحافی میں صحافیوں کے مسائل کو اٹھانے اور ان کے حل کی راہیں سجھانے کی بہت اچھی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بڑا تنوع ہے۔ پہلے اداریے میں جس عزم کا اظہار کیا گیا ہے اگلے شماروں میں اس کی جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اس رسالے میں جہاں سینئر صحافیوں سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے وہیں نوعمر و نوخیز صحافیوں کو بھی ہم جان پاتے ہیں۔ اس کا دائرہ نہ تو کسی خاص عمر تک محدود ہے اور نہ ہی کسی خاص شعبے تک۔ اس میں میڈیا کے تمام شعبوں اور پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وہ اخبار کے ڈیسک پر کام کرنے والے ہوں یا نیوز چینلوں کے اسٹوڈیو کی چمک دمک میں خدمات انجام دینے والے ہوں۔ اس کے علاوہ صحافتی اداروں سے متعلق قوانین کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ پریس کلب کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ بھی ہے اور صحافیوں کی دیگر تقریبات پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان میں صحافت کرنا آسان نہیں ہے۔ بات بات پر صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ ان کو ہلاک تک کر دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بھی گفتگو کی گئی ہے۔ یونیورسٹیوں میں شعبہ ابلاغ عامہ کا تعارف کرانے کا بھی سلسلہ ہے۔
مجموعی طور پر یہ ایک انتہائی خوبصورت، معلوماتی اور دلچسپ رسالہ ہے۔ البتہ اس کے مضامین کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں بھی ہندوستان کی مانند پروف ریڈنگ پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اس کے مطالعہ کے بعد یہ احساس شدت سے ہو رہا ہے کہ کیا ہندوستان میں اس قسم کا کوئی رسالہ نہیں نکل سکتا۔ ضرور نکل سکتا ہے بشرطیکہ کوئی اردو میڈیا ادارہ اس جانب توجہ دے۔ ایسے رسالوں کی بڑی سخت ضرورت ہے جو صحافیوں کے مسائل کو بھی اٹھائیں اور اس کے ساتھ ساتھ صحافت کی زریں تاریخ سے نئی نسل کو اور خاص طور پر نئے صحافیوں کو روشناس بھی کرائیں۔ یقیناً کراچی یونین آف جرنلسٹس کا یہ ایک انتہائی اہم اور قابل ستائش قدم ہے اور اس کے لیے جہاں کراچی پریس کلب مبارکباد کا مستحق ہے وہیں اس کے مدیر شاہد رضا بھی قابل مبارکباد ہیں۔ مجھے ان کی یہ ادا بہت پسند آئی کہ انھوں نے کہیں بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ سیکڑوں تصویروں میں وہ صرف ایک جگہ نظر آئے ہیں۔ اس سے ان کی دیانتداری کا پتہ چلتا ہے۔ دعا ہے کہ یہ رسالہ ترقی کے منازل طے کرے اور اسی طرح صحافت اور صحافیوں کی خدمت انجام دیتا رہے۔
sanjumdelhi@gmal.com-9818195929-

Title: a new chapter in urdu journalism | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )