فلسطینیوں پر مظالم کی ایک نئی داستان کا آغاز

سہیل انجم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم یعنی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی پوری دنیا میں احتجاجوں اور مظاہروں کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے۔ عرب و مسلم ملکوں کے ساتھ ساتھ یوروپی یونین کی جانب سے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ او آئی سی نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت اعلان کر دیا ہے۔ ادھر فلسطینی عوام نے ایک بار پھر انتفاضہ شروع کر دیا ہے۔ وہ اسرائیلی مظالم کا جواب پتھروں سے دے رہے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر سفاکی کی حدیں عبور کرنی شروع کر دی ہیں۔ انھوں نے نہتے فلسطینیوں کو بندوقوں اور رائفلوں کی زد پر رکھ لیا ہے۔ متعدد فلسطینی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ کہاں جا کر تھمے گا کہا نہیں جا سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف ظلم و بربریت کی ایک نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔
ارض فلسطین پر صہیونی مملکت کا قیام در اصل عالم اسلام کے قلب میں ایک خنجر کی مانند آج بھی پیوست ہے اور اس کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ یہ خنجر کب تک وہاں پیوست رہے گا۔ عالم اسلام اور خاص طور پر اہل فلسطین کو جو کاری ضرب برطانیہ اور دوسری قوتوں نے لگایا تھا اس کو اب ایک صدی مکمل ہو گئی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمس بَلفور نے نومبر 1917 میں فلسطین کی سرزمین پر صہیونی مملکت کے قیام کا جو اعلانیہ جاری کیا تھا وہ در اصل فلسطینیوں سے ان کی زمینیں چھیننے کا پروانہ ثابت ہوا۔ اگر ہم اس تنازعہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ فلسطینیوں کو مشق ستم بنانے کا سلسلہ نیا نہیں ہے بلکہ ایک صدی پرانا ہے۔ اعلان بَلفور نے اس سلسلے میں کلیدی مگر انتہائی غیر منصفانہ کردار ادا کیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے موقع پر ڈاکٹر وائز مین نے جو اس وقت یہودیوں کے قومی وطن کی تحریک کا علمبردار تھا، انگریز حکومت سے اعلان بالفور نامی پروانہ حاصل کر لیا اور اس کی بنیاد پر اسرائیلی مملکت کے قیام کی کوششیں تیز کر دیں۔ اعلان بالفور کے وقت فلسطین میں یہودیوں کی کل آبادی پانچ فیصد بھی نہ تھی۔ اس موقع پر لارڈ بالفور اپنی ڈائری میں لکھتا ہے: ”ہمیں فلسطین کے متعلق کوئی فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے موجودہ باشندوں (یعنی فلسطینیوں) سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صیہونیت ہمارے لیے ان سات لاکھ عربوں کی خواہشات اور تعصبات سے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو اس قدیم سرزمین میں اِس وقت آباد ہیں“۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1917 میں یہودی آبادی جو صرف 25 ہزار تھی وہ پانچ سال میں بڑھ کر 38 ہزار کے قریب ہو گئی۔ 1922 سے 1939 تک ان کی تعداد ساڑھے چار لاکھ تک پہنچ گئی۔ جنگ عظیم دوم کے زمانے میں ہٹلر کے مظالم سے بھاگنے والے یہودی ہر قانونی اور غیر قانونی طریقے سے بے تحاشہ فلسطین میں داخل ہونے لگے۔ صیہونی ا یجنسی نے ان کو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں فلسطین میں گھسانا شروع کر دیا اور مسلح تنظیمیں قائم کیں۔ جنھوں نے ہر طرف مار دھاڑ کر کے عربوں کو بھگانے اور یہودیوں کو ان کی جگہ بسانے میں سفاکی کی حد کر دی۔ اب ان کی خواہش تھی کہ فلسطین کو یہودیوں کا ”قومی وطن“ کی بجائے ”قومی ریاست“ کا درجہ حاصل ہو جائے۔ 1947 میں برطانوی حکومت نے فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کر دیا۔ نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اس کے حق میں 33 ووٹ اور اس کے خلاف31 ووٹ پڑے تھے۔ دس ملکوں نے ووٹ نہیں دیا۔ آخر کار امریکہ نے غیر معمولی دباؤ ڈال کر ہئیتی، فلپائن اور لائبیریا کو مجبور کر کے اس کی تائید کرائی۔ یہ بات خود امریکن کانگریس کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ یہ تین ووٹ زبردستی حاصل کیے گئے تھے۔ تقسیم کی جو تجویز ان ہتھکنڈوں سے پاس کرائی گئی اس کی رو سے فلسطین کا 55 فیصد رقبہ 33 فیصد یہودی آبادی کو اور 45 فیصد رقبہ 67 فیصد عرب آبادی کو دیا گیا۔ حالانکہ اس وقت تک فلسطین کی زمین کا صرف 6 فیصد حصہ یہودیوں کے قبضے میں آیا تھا۔ یہودی اس تقسیم سے بھی راضی نہ ہوئے اور انہوں نے ظلم و ستم ڈھا کر عربوں کو نکالنا اور ملک کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے۔ عرب عورتوں اور لڑکیوں کا برہنہ جلوس نکالا گیا۔ ان حالات میں14 مئی 1948 کو عین اس وقت جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلہ پر بحث کر رہی تھی، یہودی ایجنسی نے رات کے دس بجے اسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور سب سے پہلے امریکہ اور روس نے آگے بڑھ کر اس کو تسلیم کیا۔ حالانکہ اس وقت تک اقوام متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین میں اپنی قومی ریاست قائم کرنے کا حق نہیں دیا تھا۔ اس اعلان کے وقت تک 6 لاکھ سے زیادہ عرب گھر سے بے گھر کیے جا چکے تھے اور اقوام متحدہ کی تجویز کے بالکل برخلاف یروشلم (بیت المقدس) کے آدھے سے زیادہ حصے پر اسرائیل قبضہ کر چکا تھا۔ پس یہی ہے وہ منحوس دن جس کو تاریخ فلسطین میں ”یوم نکبہ“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
توسیع پسندی کے نشے میں چور اسرائیل نے 1967 میں عربوں کے خلاف ایک بھیانک جنگ چھیڑ دی اور تمام فلسطین پر قبضہ کر لیا اور مقامی باشندوں کو بے دخل کر دیا۔ اس طرح اس سرزمین کے اصل وارث لاکھوں کی تعداد میں اردن،لبنان اور شام میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے، مگر سامراجی اور استعماری ہتھکنڈوں نے انہیں یہاں سے بھی نکالنے کی سازش کی۔ چنانچہ ستمبر 1975 میں اردن کی شاہی افواج نے اپنے یہاں مقیم فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ جس پر فلسطینیوں کو لبنان میں پناہ پر مجبور کر دیا گیا۔ اس بھیانک ظلم کو سیاہ ستمبر کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ ناجائز ریاست اسرائیل کے حکمرانوں نے اس دوران مظالم کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کی مثال تاریخ کے صفحات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔کون سا ظلم ہے جو معصوم اور مظلوم قرار دیے گئے ارض مقدس فلسطین کے باسیوں پر روا نہیں رکھا گیا۔ ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے اور اپنے وطن، گھر اورآبائی سرزمین کے حصول کی خواہش رکھنے والے فلسطینیوں نے استعماری سازشوں کا مقابلہ اور اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے کارروائیاں شروع کیں۔ دوسری طرف اسرائیل کو عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ نے بہت زیادہ مالی و فوجی امداد دی اور ہر قسم کا تعاون کیا۔
1948 میں جب برطانیہ نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ریاست قائم کی تو یروشلم اس کا حصہ نہیں تھا۔ اقوام متحدہ نے علاقے کو فلسطین اور اسرائیل میں تقسیم کرنے کے لیے جو نقشہ بنایا اس میں بھی یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی سفارش کی گئی تھی۔ مگر فلسطینیوں نے یہ پلان تسلیم نہیں کیا اور اپنے پورے علاقے کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ 1948 کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کر لیا جب کہ مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں رہا۔ 1967کی جنگ میں اسرائیل نے اردن سے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی چھین لیا۔ اس نے مشرقی یروشلم کو اپنا علاقہ قرار دیا تو 1967 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر اس کی مخالفت کی۔ 1993 کے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطین اور اسرائیل نے ایک دوسرے کا وجود تسلیم کیا۔ غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینی اتھارٹی کی حکومت قائم کی گئی۔لیکن اب ایک بار پھر صہیونی طاقتوں نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم ظاہر کر دیے اور اس طرح ایک اور انتفاضہ کا دروازہ کھول دیا۔
آج ہر فلسطینی بچہ اپنے مادر وطن پر اپنی قیمتی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہر ماں اپنے بچے کو شہادت کے درجے پر فائز دیکھنا چاہتی ہے۔ ہر باپ اپنی اولاد سے یہی توقع رکھ رہا ہے کہ وہ اپنے وطن کی بازیابی اور بیت المقدس کی آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دے گا۔ یہی جذبہ نہتے فلسطینیوں کو اسرائیلی توپوں کے دہانے کے سامنے صرف غلیلوں کے سہارے کھڑے ہونے کی قوت بخش رہا ہے۔ ہر فلسطینی نے یہ عزم کر رکھا ہے کہ وہ اپنی جان قربان کر دے گا مگر قبلہ اول کو آزاد کرا کے ہی دم لے گا۔ کاش ہمارے مسلم حکمرانوں کے اندر بھی یہی جذبہ پیدا ہو جائے۔ اگر اللہ نے ان کے دلوں میں بھی یہی جذبہ بیدار کر دیا تو کوئی نہ کوئی صلاح الدین ایوبی ضرور پیدا ہو جائے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: new tale of jews cruelty on palestinians | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )