ہادیہ کے جذبہ ایمانی کو سلام

سہیل انجم
خلفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے سے قبل پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے جانی دشمن تھے۔ ایک روز ان کو بہت غصہ آیا۔ انھوں نے اللہ کے رسول کو قتل کر دینے کی ٹھان لی۔ ننگی تلوار لے کر نکل پڑے۔ راستے میں نعیم نامی ایک شخص سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پوچھا کیا بات ہے بہت غصے میں ہو کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا کہ محمد (ﷺ) نے پورے مکہ کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے، میں آج ان کو قتل کرکے اس قصے کو ختم کر دینا چاہتا ہوں۔ نعیم نے کہا کہ وہاں جانے سے پہلے ذرا اپنی بہن کے گھر چلے جاؤ۔ انھوں نے پوچھا کیا ہوا۔ بتایا گیا کہ تمھارے بہن بہنوئی بھی مشرف بہ اسلام ہو چکے ہیں۔ پھر کیا تھا وہ وہی ننگی تلوار لیے اپنی بہن کے گھر جا پہنچے۔ اس وقت تک اسلام کی تبلیغ مشرکین مکہ کے خوف کی وجہ سے علی الاعلان نہیں ہو پا رہی تھی۔ حضرت عمر بہن کے گھر پہنچے تو انھیں کچھ پڑھنے کی آواز سنائی دی۔ ان کی بہن اور بہنوئی قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ بہن نے بھائی کو ننگی تلوار کے ساتھ انتہائی غصے کے عالم میں دیکھا تو قرآن کے اوراق چھپا دیے۔ بھائی نے پوچھا کیا پڑھ رہی تھی۔ انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا۔ بھائی کو اور غصہ آیا۔ انھوں نے بہن اور بہنوئی کو پیٹنا شروع کر دیا اور اتنا مارا کہ ان کا جسم لہو لہان ہو گیا۔ مار مار کر تھک جانے کے بعد حضرت عمر نے پھر بہن سے پوچھا اور جب انھیں معلوم ہو گیا کہ بہن اسلام لا چکی ہے تو انھوں نے اسلام سے پھرنے کے لیے بہت زور ڈالا۔ اس پر ان کی بہن نے بڑی جرات و بیباکی کے ساتھ کہا کہ بھائی تم مجھے مار ڈالو، میری بوٹیاں کتوں سے نچوا لو، میں اسلام سے پھر نہیں سکتی۔ شاہ نامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کی زبان میں :
بہن بولی عمر ! ہم کو اگر تو مار بھی ڈالے
شکنجوں میں کسے یا بوٹیاں کتوں سے نچوا لے
مگر ہم اپنے دین حق سے ہر گز پھر نہیں سکتے
بلندی معرفت کی مل گئی ہے گر نہیں سکتے
کیرالہ کی نو مسلم دوشیزہ ہادیہ کی جرات و ہمت، اس کی ایمانی غیرت، اللہ پر بھروسہ اور اپنے ایمان پر استقلال کو دیکھ کر مجھے بار بار یہ واقعہ یاد آرہا ہے۔ ہادیہ نے جس کا سابق نام اکھیلا اشوکن ہے، اسلام کیا قبول کیا کہ اسلام دشمن حلقوں میں زلزلہ آگیا۔ اس کے قبول اسلام کو ایک بے بنیاد اصطلاح لو جہاد کا نام دے دیا گیا اور اس کو پھر سے اپنے سابقہ مذہب میں واپس چلے جانے کا دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے شافعین جہاں سے اس کی شادی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اس کو اس کے والدین کی تحویل بلکہ نظر بندی میں دے دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کرنے کی ذمہ داری این آئی اے کو دے دی تاکہ وہ پتا لگائے کہ یہ لو جہاد کا کیس تو نہیں۔ وہ گیارہ ماہ سے والدین کے قبضے میں تھی۔ اب سپریم کورٹ نے اس کو تھوڑی سی راحت دی ہے۔ اسے جب کیرالہ سے دہلی لایا گیا اور سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تو 26 سالہ ہادیہ کی ایمانی غیرت دیکھنے کے لائق تھی۔ وہ ایک کمزور و ناتواں لڑکی جسے غالباً پہلی بار دہلی آنے کا موقع ملا اور وہ بھی پولیس دستے کے جلو میں۔ اسے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کی کورٹ میں پیش کیا گیا۔ لیکن قابل مبارکباد ہے ہادیہ جس کے ایمان میں ذرا بھی لغزش نہیںآئی اور اس نے بھری عدالت میں علی الاعلان اپنے ایمان کو بیان کیا اور بتایا کہ اسے اسلام قبول کرنے کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا۔ اس نے مطالعہ کرنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے اور وہ اب اسی مذہب پر قائم رہے گی۔ اگر دیکھا جائے تو اسلام کے اولین دنوں میں مشرف بہ اسلام ہونے والوں پر کفار جو مظالم ڈھاتے تھے، ہادیہ کے ساتھ اس سے کم ظلم نہیں ہوا ہے۔ دائیں بازو کی جماعتیں اس کے خلاف تیغ برہنہ بنی ہوئی ہیں۔ اس کے والدین نے ان گیارہ مہینوں میں اس پر جانے کیسی کیسی زیادتی کی۔ لیکن چونکہ اس ملک میں آئین و قانون کی بھی حکمرانی ہے اس لیے ہادیہ اور انصاف پسند طبقات کو یہ امید ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہوگا۔
اس ملک کے قانون نے ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر چلنے یا اپنا مذہب بدلنے کی آزادی دی ہے۔ ابھی اُس فیصلے کو زیادہ دن نہیں ہوئے جو سپریم کورٹ کی 9 رکنی آئینی بنچ نے سنایا ہے او رجس میں ہندوستان کے ہر شہری کی انفردای اور نجی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ ہادیہ کا معاملہ بھی ذاتی اور نجی آزادی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ آئین و قانون کی بالادستی کا بھی معاملہ ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں اور پتا نہیں کس بنیاد پر کیرالہ ہائی کورٹ نے اس کی شادی کو کالعدم قرار دے دیا۔ جبکہ یہ معاملہ بھی شخصی آزادی سے متعلق ہے۔ اب ہا دیہ کو اپنی ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے اور اس کے والدین سے اس کی تحویل کالج کے پرنسپل کو دے دی گئی ہے۔ ہادیہ نے تمل ناڈو کے سلیم میں جہاں وہ ہومیوپیتھی کی ڈاکٹری کی پڑھائی کر رہی تھی، پہنچنے کے بعد سوال کیا کہ میری آزادی کہاں ہے۔ کیا یہی میری آزادی ہے کہ میں اپنی مرضی سے کسی سے بات نہیں کر سکتی۔ اس سے پوچھا گیا کہ وہ کس سے بات کرنا چاہتی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے بات کرنا چاہتی ہے۔ بالآخر پرنسپل صاحب نے اپنے موبائیل فون سے اس کے شوہر سے اس کی مختصر بات کرائی۔
سپریم کورٹ کی بینچ نے جب اس سے پوچھا کہ کیا تمھاری تعلیم اور دوسرے اخراجات حکومت کے ذمہ کیے جائیں تو اس نے برجستہ جواب دیا کہ اس کا شوہر اس کے اخراجات اٹھانے کی پوزیشن میں ہے اور وہ یہی چاہے گی کہ اس کا شوہر ا سکی کفالت کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسے کس کی حفاظت یا نگرانی میں دیا جائے تو اس نے کہا کہ اس کے شوہر کی ۔تاہم اسے عدالت نے فی الحال پرنسپل کی نگرانی میں دے دیا ہے۔
جہاں تک ہادیہ کے قبول اسلام کی بات ہے تو بتا دیں کہ وہ کیرالہ کے ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔ اس نے اپنے مسلم دوستوں کے توسط سے اسلام کا مطالعہ کیا، قرآن کو پڑھا، سمجھا اور پھر اس نے قبول اسلام کر لیا۔ اس نے شادی کے لیے ایک اخبار میں اشتہار دیا۔ قبول اسلام کے بعد خلیج میں ملازمت کرنے والے ایک مسلم نوجوان شافعین جہاں سے جو کہ اپنے وطن کیرالہ آیا ہوا تھا، اس کی شادی ہو گئی۔ چونکہ شافعین خلیج میں برسوں سے ملازمت کرتے رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی وہیں سکونت پذیر ہیں اس لیے اس معاملے کو داعش سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس دوران شادی کے بعد کورٹ کچہری کے چکر میں پڑنے کی وجہ سے شافعین کو انڈیا ہی میں رہنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی خلیج کی ملازمت بھی ختم ہو گئی۔ لیکن اس نے بھی ہادیہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ ہر حال میں ہادیہ کو اپنے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رکھنا چاہتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ماہ جب اس معاملے پر سماعت شروع ہوگی تو سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ اگر آئین و قانون کی بالادستی کو قائم کیا گیا اور اس معاملے پر دائیں بازو کی شدت پسند جماعتوں اور میڈیا میں چل رہی بحثوں کا کوئی اثر قبول نہیں کیا گیا تو امید ہے کہ ہادیہ کو انصاف ملے گا۔ اس وقت ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہادیہ کے ایمانی جذبے کو سلام۔

Title: kerala love jihad case | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )