پاکستان پھر بے نقاب ہو گیا

سہیل انجم

اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں کے حوالے سے دو خبریں گرم ہیں۔ ایک تو ہندوستانی شہری کل بھوشن جادھو سے ان کی اہلیہ کی ملاقات کی حکومت پاکستان کی جانب سے اجازت دینا اور دوسری کالعدم جماعت الدعویٰ کے امیر حافظ سعید کو نظربندی سے رہا کر دینا۔ کل بھوشن کے بارے میں پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ ہندوستانی جاسوس اور یہاں کی خفیہ ایجنسی RAW کے ایجنٹ ہیں۔ حالانکہ ان کو ایران پاکستان سرحد سے گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عاید کر دیا گیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلا اور انھیں موت کی سزا سنا دی گئی۔ اس درمیان ہندوستان بار بار قونصلر رسائی کی اجازت طلب کرتا رہا لیکن پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس نے کل بھوشن سے ملنے کی ہندوستان کی پندرہ درخواستیں مسترد کر دیں۔ اسی درمیانہندوستان نے اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھا دیا جہاں بحث ہوئی اور عالمی عدالت نے اپنے عبوری فیصلے میں کہا کہ جب تک حتمی فیصلہ نہ آجائے کل بھوشن کو پھانسی پر نہ لٹکایا جائے۔
ہندوستان میں بہت سے لوگوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ ممکن ہے کہ کل بھوشن نام کا کوئی وجود ہی اب نہ ہو اور انھیں ختم ہی کر دیا گیا ہو۔ پاکستان کی جیلوں کے ریکارڈ کے پیش نظر اس کو بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن بہر حال یہ خدشہ غلط ثابت ہوا اور اب پاکستان نے کل بھوشن کی اہلیہ کو ان سے ملنے کی اجازت دے دی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کی یہ پیشکش تو مان لی ہے لیکن اس نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کل بھوشن کی بیوی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی گارنٹی دی جائے۔ چونکہ ان کی بیوی کا پاسپورٹ عام پاسپورٹ کی مانند ہے یعنی ان کو وہ سہولتیں نہیں مل سکتیں جو ایک سفارتکار کو ملتی ہیں اس لیے اندیشہ ہے کہ پاکستان میں ان کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی تک پاکستان نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان یہ بھی چاہتا ہے کہ کل بھوشن کی اہلیہ کے ساتھ ان کی ماں بھی پاکستان جائیں۔ وہ پہلے ہی اس کی درخواست دے چکی ہیں۔ ان کو بھی ایسی ہی سیکورٹی کی یقین دہانی کرائی جانی چاہیے۔ عام طور پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کل بھوشن جادھو کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہوگا اور پہلے ان کی حالت ایسی نہیں رہی ہوگی کہ ان سے کسی کو ملنے دیا جائے۔ شاید اسی لیے پاکستان نے اپنے ملکی قوانین کی آڑ میں قونصلر رسائی دینے سے انکار کیا۔ ممکن ہے کہ اب ان کی حالت اتنی بہتر ہو گئی ہو کہ ان سے کسی رشتے دار کو ملنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن بہر حال یہ معاملہ ہے بہت پیچیدہ۔
اسی درمیان ہندوستان کو ایک اور کامیابی ملی ہے۔ وہ یہ کہ ہندوستان عالمی عدالت انصاف میں اپنا ایک ممبر نامزد کروانا چاہتا تھا۔ برطانیہ نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن بہر حال اس نے اپنی نامزدگی واپس لے لی اور ہندوستان کے دل ویر بھنڈاری کو کورٹ کا ممبر نامزد کر دیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس سے عالمی عدالت انصاف میں کل بھوشن کا کیس لڑنے میں کافی مدد ملے گی۔ لیکن سردست معاملہ کل بھوشن سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات اور ان کی سیکورٹی کا ہے۔ یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہوگا کہ عالمی عدالت میں اپنا کیس لڑنے میں پاکستان کے پسینے چھوٹ گئے تھے جبکہ ہندوستان کے حق میں آسانی سے فیصلہ آگیا تھا۔ پاکستان نے بعد میں اپنا وکیل بھی بدلا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ سماعت میں کیا کچھ ہونے والا ہے۔
دوسری خبر یہ ہے کہ حافظ سعید کو رہا کر دیا گیا ہے۔
اس پر ہندوستان نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی مخالف جنگ میں کتنا سنجیدہ ہے۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پاکستان کی عدالت کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ دہشت گردوں کو مین اسٹریم میں لانے کی پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اس کا اعلان تو کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی مخالف جنگ میں سنجیدہ ہے اور ایک ایک دہشت گرد کو ختم کرکے ہی دم لے گا لیکن اس کا عمل اس کے برعکس ہے۔ ادھر حافظ سعید نے رہا ہوتے ہی ایک بار پھر ہندوستان کے خلاف زہرپاشی کی اور کشمیر کی آزادی کا راگ الاپا ہے۔ حافظ سعید کے وکیل کے مطابق حکومت نے عدالت میں حافظ سعید کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
اس نے ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو سونپے گئے اس ڈوزئیر کو بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جس میں ممبئی حملوں میں حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ ممبئی کے خوفناک حملے کا منصوبہ حافظ سعید نے ہی بنایا تھا۔ اس بارے میں اس نے بہت سے ثبوت پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔ لیکن حکومت پاکستان نے ان ثبوتوں کو عدالت میں پیش ہی نہیں کیا۔ پاکستان کے قانون کے مطابق کسی کو مختلف الزامات کے تحت تین ماہ تک نظربند یا حوالات میں رکھا جا سکتا ہے اور اگر اس مدت میں توسیع چاہیے تو نظرثانی عدالت کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ نظرثانی عدالت اس وقت اجازت دیتی ہے جب اس کے سامنے اس بارے میں پختہ شواہد پیش کیے جائیں۔جہاں تک کشمیر کے بارے میں حافظ سعید کی دھمکی کی بات ہے تو وہ اس بارے میں تنہا نہیں ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے بار بار کشمیر کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے اور اسے بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ جموں و کشمیر میں ہنگامے کو حمایت دینے سے پاکستان کا پیٹ نہیں بھرا تو اس نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھا دیا۔
نواز شریف جب پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو انھوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنی پندرہ منٹ کی تقریر میں 75 فیصد حصہ کشمیر پر مرکوز رکھا تھا۔ انھوں نے تقریر کا آغاز افغانستان میں دہشت گردی سے کیا اور پہنچ گئے تھے کشمیر۔ انھوں نے برہان وانی کو جو کہ حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا کشمیری عوام اور نام نہاد تحریک آزادی کی آواز اور علامت قرار دیا تھا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں استصواب رائے کا مطالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کو اس سلسلے میں تفصیلات پیش کرنے کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ہندوستان پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ ظاہر ہے انھوں نے جو کچھ کہا تھا ان کو وہی کہنا تھا۔ کیونکہ پاکستانی عوام وہی سننا چاہتے تھے۔ وہ اس سے بھی سخت زبان کی توقع کر رہے تھے۔ پاکستانی حزب اختلاف کا ان کی تقریر پر کہنا تھا کہ ان کو توقع تھی کہ نواز شریف کشمیر کے معاملے پر زیادہ سخت لب و لہجہ اختیار کریں گے لیکن بقول اس کے انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ گویا اس کے خیال میں انھیں اور سخت گفتگو کرنی چاہیے تھی۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ شائد پاکستان کے حزب اختلاف کو بھی ہندوستان اور پاکستان کے مابین دوستی اور خیرسگالانہ تعلقات پسند نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو کم از کم اس کو یہ بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔
بہر حال ہندوستان اور پاکستان کے باہمی رشتوں میں متعدد ایشوز حائل ہیں لیکن جو سب سے بڑا مسئلہ ہے یعنی دہشت گردی کا، پاکستان اس کا نام نہیں لیتا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی موثر کارروائی کرتا ہے۔ اگر وہ دہشت گردی مخالف جنگ میں واقعی سنجیدہ ہوتا تو اسے حافظ سعید کو رہا کرنے کی راہ ہموار نہیں کرنی چاہیے تھی۔ حکومت کو عدالت میں ان کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرنا چاہیے تھا جس کی کمی نہیں ہے۔ لیکن وہاں کی حکومت شدت پسندوں سے خوف زدہ رہتی ہے کہ پتا نہیں کب دہشت گرد تنظیمیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: pakistan exposed again | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )