خواتین کی پہلی آل انڈیا سیاسی جماعت پر ایک نظر

سہیل انجم

”ہندوستان میں خواتین کی تعداد 64 کروڑ ہے۔ ان کے بے شمار مسائل ہیں۔ ان کے ساتھ جگہ جگہ ناانصافی ہوتی ہے۔ حکومتیں ان کی فلاح و بہبود کی اسکیمیں تو بناتی ہیں مگر ان تک اسکیموں کا فائدہ نہیں پہنچتا۔ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر جرائم ہوتے ہیں مگر بہت کم لوگوں کو سزا ہو پاتی ہے۔ کیا خواتین کو بااختیار نہیں بنانا چاہیے، کیا ان کی اپنی کوئی آواز نہیں ہونی چاہیے؟ ضرور ہونی چاہیے۔ اور اسی مقصد کے تحت ہم نے عورتوں کی سیاسی جماعت آل انڈیا مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی کا قیام کیا ہے“۔ یہ کہنا ہے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا۔ وہ ہندوستان میں قائم ہونے والی خواتین کی پہلی سیاسی جماعت ”آل انڈیا مہیلا ایمپاورمنٹ“ کی صدر ہیں۔
آئیے پہلے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا مختصر تعارف کراتے ہیں۔ وہ ملک کی مغربی ریاست آندھرا پردیش کے حیدرآباد میں سرگرم ہیں۔ وہ ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او ہیں۔ یہ گروپ آندھرا پردیش میں دو تعلیمی اداروں اور 20 تجارتی کمپنیوں پر مشتمل ہے اور سونا، سرمایہ کاری، ٹیکسٹائل، زیورات، منرل واٹر، گرینائٹ، ٹورس اینڈ ٹریولس، رئیل اسٹیٹ، الیکٹرانکس اور حج و عمرہ سروسز جیسے شعبوں میں سرگرم ہے۔ وہ ہندوستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، چین، کینیڈا اور گھانا سمیت متعدد ملکوں میں بزنس چلا رہا ہے جو کہ غیر سودی نظام پر مبنی ہے اور اس کا تمام کاروبار شرعی نظام کے تحت چلتا ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا نے 19 سال کی عمر میں آندھرا پردیش کے مندروں کے شہر تروپتی میں لڑکیوں کا ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا تھا جس کا مقصد قرآنی ہدایات کے تحت زندگی گذارنے کے طریقے سکھا نا ہے۔ یہ ادارہ اب کافی ترقی کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور تعلیمی ادارہ قائم ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا جو کہ ایک عالمہ بھی ہیں، پابند شرع ہیں اور خالص اسلامی اصولوں پر تجارت کرتی ہیں۔ ان کی تجارت سود سے پاک ہے۔ ملک و بیرون ملک کے بہت سے لوگوں نے ان کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا نفع نقصان کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کو ان کا حصہ دیتی ہیں۔ انھیں تجارت کے میدان میں متعدد ملکی و عالمی ایوارڈ حاصل ہو چکے ہیں۔ وہ 1998 سے ہی خواتین کی فلاح و بہبود کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ 12 نومبر کو دہلی کے للت پیلیس میں انھوں نے اپنی آل انڈیا سیاسی پارٹی کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے حیات میں نمایاں خدمات انجام دینے والی پچیس تیس خواتین کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ان میں سے بہت سی خواتین اب بھی سماجی فلاح و بہبود کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ڈاکر نوہیرا شیخ نے اپنی پارٹی کے اغراض و مقاصد ملک کے عوام تک پہنچانے کے لیے نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس بھی کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ملک کی تمام ریاستوں سے 16 لاکھ افراد ان کی پارٹی کے ممبر بن چکے ہیں جن میں 80 فیصد خواتین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کسی ایک مذہب کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پارٹی کے ممبران میں 30فیصد غیر مسلم خواتین بھی ہیں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر چہ یہ خواتین کی سیاسی جماعت ہے لیکن اس میں باکردار مردوں کے لیے بھی جگہ ہے۔ البتہ ان کی شرح صرف 20 فیصد ہوگی۔ ان کی پارٹی قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مخصوص کرانے کے بل کو جو کہ پارلیمنٹ میں اٹھارہ برسوں سے معلق ہے، منظور کرانے کی کوشش کریں گی اور آگے چل کر اس کی کوشش خواتین کو پچاس فیصد ریزرویشن دلانے کی ہوگی۔ انھوں نے ان طاقتوں پر شدید حملہ کیا جو فرقہ واریت کی سیاست کرتی ہیں خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان ہوں۔ ڈاکٹر نوہیرا نے اس نمائندے سے بات چیت میں کہا کہ وہ ملک کی تمام عورتوں کی فلاح و بہبود چاہتی ہیں۔ وہ نہ صرف ان کے مسائل کی نشاندہی کریں گی بلکہ ان کو حل کرنے کے فارمولے بتائیں گی اور انھیں حل بھی کروائیں گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا تعلق کبھی بھی کسی سیاسی جماعت سے نہیں رہا ہے۔ وہ نہ تو کسی پارٹی کی ممبر ہیں، نہ ہی ایم پی یا ایم ایل اے ہیں۔ وہ خواتین کے ساتھ ہندوستان کی مین اسٹریم کی سیاسی جماعتوں کے رویے سے بہت شاکی ہیں۔ انھیں بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ پارٹیاں خواتین کے مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اسی لیے مجبور ہو کر ان کو سیاست کے میدان میں قدم رکھنا پڑا۔
ڈاکٹر نوہیرا نے جدہ میں مقیم ایک این آر آئی محمد عاقل کو دہلی شاخ کا صدر مقرر کیا ہے۔ محمد عاقل نے بھی خواتین کے مسائل کے سلسلے میں سیاست دانوں کے رویے پر اظہار افسوس کیا۔انھوں نے کہا کہ اس پارٹی کا مقصد خواتین کے ہر قسم کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جس میں صنفی مساوات ہو۔ انھوں نے عورتوں کی تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا اور کہا کہ اگر ایک خاتون تعلیم یافتہ ہوگی تو وہ ہر اعتبار سے مضبوط ہوگی۔ اور جب وہ مضبوط ہوگی تو پورا خاندان مضبوط ہوگا اور اسی طرح پوری کمیونٹی مضبوط ہوگی۔ جب تک خواتین مضبوط نہیں ہوں گی اس وقت تک ہندوستان میں ایک مثالی معاشرہ قائم نہیں ہو سکے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے 16 لاکھ ممبر بن چکے ہیں تو کیا اس میں بڑی خاتون شخصیات بھی شامل ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہمارا نظریہ بڑا ہے، ہمارا مشن اور وژن بڑا ہے اور جب وژن بڑا ہوتا ہے تو لوگ خود بہ خود بڑے ہو جاتے ہیں۔
کچھ لوگ سوال کر سکتے ہیں کہ کیا واقعی یہ خواتین کی پہلی سیاسی جماعت ہے کیونکہ دسمبر 2016 میں بھی دہلی میں خواتین کی ایک سیاسی جماعت قائم کی گئی تھی جس کا نام تھا ”آل انڈیا وومین یونائٹیڈ پارٹی“۔ اس نے بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کو اپنا ایجنڈا قرار دیا تھا۔ اس کی صدر نسیم بانو خان کو بنایا گیا تھا جو کہ تیس برسوں سے سماجی خدمات کے شعبے میں سرگرم ہیں۔ لیکن اس کے بعد اس پارٹی کا نام نہیں سنا گیا اور نہ ہی اس کی کوئی سرگرمی کہیں نظر آئی۔ اس نے اپنے ممبران کی تعداد بھی نہیں بتائی تھی۔ ممکن ہے کہ وہ اب بھی کام کر رہی ہو لیکن اس کی سرگرمیاں میڈیا میں نظر نہیں آتیں۔ آل انڈیا مہیلا ایماورمنٹ پارٹی کے ذمہ داروں کا یہ تو دعویٰ ہے کہ اب تک اس کے 16 لاکھ ممبر بن چکے ہیں لیکن انھوں نے یہ دعویٰ نہیں کیا ہے کہ یہ خواتین کی پہلی سیاسی جماعت ہے۔ لیکن انھوں نے جن عزائم کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ پارٹی آگے جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے بتایا کہ ان کی پارٹی ملک کی تمام 29 ریاستوں میں سرگرم رہے گی اور وہ اپنی انتخابی سیاست کا آغاز کرناٹک میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے کر کرنے جا رہی ہے۔
نوہیرا شیخ اور ان کے رفقا کو یہ بات ضرور معلوم ہوگی کہ سیاست کی وادی بڑی پُر خار ہے۔ یہاں قدم قدم پر کانٹوں سے الجھنا پڑتا ہے اور تلووں کو لہو لہان کرنا پڑتا ہے۔ سیاست بہت بے رحم بھی ہوتی ہے۔ اس میدان میں بڑے بڑوں کی دستاریں اچھلتی ہیں اور شرفا کی تو عزت اچھالی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا کی یہ بات درست ہے کہ اگر یہ سوچ کر کہ سیاست میں گندے لوگ بہت آگئے ہیں لہٰذا اس سے دور رہا جائے، مناسب نہیں ہے۔ اگر اچھے لوگ سیاست میں نہیں آئیں گے تو اسے صاف کیسے کیا جا سکے گا۔ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ لوگ الیکشن جیتنے کے لیے کیا کیا ہتھکنڈے اختیار نہیں کرتے۔ کیا کیا سازشیں نہیں کی جاتیں۔ کیسی کیسی عیاریاں اور مکاریاں نہیں کی جاتیں۔ یہاں تک کہ مخالفین کی کردار کشی تک کی جاتی ہے۔ اصلی نقلی سیکس سی ڈی جاری کرکے دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فرضی اسٹنگ آپریشنوں کی مدد سے رسوا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یقیناً ان باتوں پر پارٹی کے ذمہ داروں کی نظر ہوگی۔ ڈاکٹر نوہیرا ایک تو خاتون ہیں، دوسرے مسلمان ہیں اور تیسرے پابند شرع ہیں۔ لہٰذا ان کے سامنے خطرات کہیں زیادہ ہیں۔ انھیں بہت بچ بچ کر چلنا ہوگا۔ انھیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کی سازشوں کا بھی سامنا ہوگا۔ لوگ مسلکی و مذہبی تنازعات میں بھی الجھانے کی کوشش کریں گے۔ انھیں ایسے تنازعات سے بہر حال بچنا ہوگا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر نوہیرا کا یہ قدم قابل ستائش ہے۔ کیونکہ بہر حال اگر خواتین بااختیار ہوں گی تو وہ پورے معاشرے کو سدھار سکتی ہیں۔ لیکن یہ کام آسان نہیں اور بے خطر نہیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: first indian women political party at a glance | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )