یوم اردو اور یوم اقبال

سہیل انجم

بیس سال قبل یعنی 1997 میں چند گنے چنے محبان اردو نے شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال کے یوم پیدائش 9 نومبر کو ”یوم اردو“ کے نام سے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے اس موقع پر اردو کے نام پر ایک ننھا سا چراغ روشن کیا تھا۔ ملک کے معروف اور جید صحافی محفوظ الرحمن مرحوم کی تحریک پر اور ان کی سرپرستی میں دو غیر معروف تنظیموں اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید احمد خاں نے یوم اردو کے انعقاد کی ذمہ داری اپنے دوش پر لی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ اس پروگرام کا شہرہ ہونے لگا۔ محبان اردو از خود اس سے منسلک ہونے لگے اور ملک کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے اپنے آپ یوم اردو کا انعقاد شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا اور لوگ اس سے جڑتے گئے۔ آج جبکہ یوم اردو کے انعقاد کو بیس سال مکمل ہو گئے ہیں تو اس ننھے سے چراغ کی روشنی نہ صرف ہندوستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئی بلکہ بیرون ملک کے ان علاقوں میں بھی اس کا اجالا پھیل گیا ہے جہاں اردو بولنے والے موجود ہیں۔ لہٰذا اب یوم اردو ”عالمی یوم اردو“ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گویا :
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اب تو پاکستان میں بھی اسی تاریخ کو یوم اقبال کے ساتھ ساتھ یوم اردو بھی منایا جانے لگا ہے۔ 1997 سے قبل یوم اردو منانے کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ یوم اقبال منانے کا بھی کوئی رواج نہیں تھا۔ ہندوستان میں خاص طور پر یوم اقبال منانے والوں کی تعداد بہت مختصر تھی۔ یونیورسٹیوں کے اردو شعبے مناتے رہے ہوں تو نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن عوامی طور پر یوم اقبال منانے کا کوئی چلن نہیں تھا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ہندوستان میں یوم اقبال منایا ہی نہیں جا رہا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کے بعض متعصب حلقوں کی جانب سے اقبال کے خلاف پروپیگنڈہ ہے۔ حالانکہ اقبال نے ”سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا“ جیسا ہندی ترانہ دیا ہے جس کی مثال آج تک پیش نہیں کی جا سکی ہے۔ بہر حال رفتہ رفتہ یوم اقبال اور یوم اردو کی دھوم مچ گئی اور نہ صرف اہل اردو کی نظریں اس جانب مبذول ہوئی ہیں بلکہ غیر اردو داں طبقہ بھی اس پر توجہ دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔
اس کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہندوستان کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ”ہندوستان ٹائمز“ نے 9 نومبر کے اپنے ایڈیشن میں یوم اردو پر تقریباً ایک صفحے کا مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون کے ساتھ ساتھ اردو کے تعلق سے کئی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ آج نوجوان نسل اردو زبان کی طرف تیزی سے راغب ہو رہی ہے۔ وہ اردو سیکھنا چاہتی ہے، اسے لکھنا اور پڑھنا چاہتی ہے۔ مضمون نگار نے یہ بھی لکھا ہے کہ آج یعنی 9 نومبر کو پورے بر صغیر میں ”یوم اردو“ منایا جا رہا ہے۔ مضمون میں اس کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ اردو کے بغیر بالی ووڈ کیسا ہوگا۔ اس سلسلے میں دو مشہور ڈائیلاگ ہندی زبان میں لکھے گئے ہیں۔ یہ ہیں”موگیمبو پرسنّ ہوا“ اور ”جا سمرن جا وَیتیت کر لے اپنا جیون“۔ اس کے علاوہ جنگ آزادی میں اردو زبان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ ”ٹائمس آف انڈیا“ نے بھی 9 نومبر کے اپنے ایڈیشن میں یوم اقبال اور یوم اردو کے تعلق سے رپورٹیں شائع کی ہیں۔ کئی ہندی اخباروں میں بھی یوم اردو کے تعلق سے مضامین اور رپورٹیں شائع ہوئی ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیس سال قبل جو پودا لگایا گیا تھا وہ اب ایک شجر سایہ دار بن گیا ہے اور اس کے سائے میں اہل اردو کو سکون اور مسرت حاصل ہو رہی ہے۔ ان بڑے انگریزی اخباروں میں یوم اردو کی مناسبت سے مضامین اور رپورٹوں کی اشاعت مذکورہ پروگرام کے بانیوں کی خدمات کا اعتراف ہے اور ان کے لیے یہ ایک بہت بڑی سند بھی ہے۔
اس پروگرام کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کے ذمہ داروں کا خلوص اور للہیت ہے۔ محفوظ الرحمن مرحوم نے شروع ہی میں یہ ہدایت کر دی تھی کہ اسے اردو کی دوسری دکانوں کی مانند دکان مت بنائیے گا۔ اگر اس پلیٹ فارم سے اردو کی کوئی خدمت کرپانے میں خود کو اہل پائیے گا تو کام کیجیے گا ورنہ اسے بند کر دیجیے گا۔ اب جبکہ اس پروگرام کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور پوری اردو دنیا کی توجہ بلکہ غیر اردو دنیا کی توجہ بھی اس کی جانب مبذول ہوئی ہے تو بہت سے ایسے لوگ جو کہ اپنی مضبوط مالی پوزیشن کے سبب لوگوں کو خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کر رہے ہیں اور اپنا دست تعاون پیش کر رہے ہیں۔ لیکن مرحوم محفوظ صاحب کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ایسی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ ہم خود اس کے اہل ہیں کہ اپنی جیب خاص سے اس پروگرام کا انعقاد کریں، ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اب بھی بہت سے لوگ اس کی جانب للچائی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ خدا کرے کہ ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
اردو زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی زبان ہے جسے گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ زبان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کسی خاص قوم یا مذہب کی زبان نہیں ہے۔ ہندوستان کی بیشتر تہذیبوں اور ثقافتوں کا علمی ورثہ اس زبان میں موجود ہے۔ ا س کی پرورش و پرداخت کسی ایک فرقے یا طبقے یا مذہب کے ماننے والوں نے نہیں کی بلکہ اس میں تمام ہندوستانیوں کی شرکت رہی ہے۔ لیکن ایک خاص طبقہ ہمیشہ موجود رہا ہے جو اس کی مخالفت کو اپنے لیے عین ثواب سمجھتا ہے اور اردو اور اہل اردو کو زک پہنچانا باعث فخر تصور کرتا ہے۔ اگر چہ یہ طبقہ مٹھی بھر لوگوں پر مشتمل ہے پھر بھی اس کی سازشوں نے سماج میں زہریلے بیج بوئے ہیں اور پیار محبت کو فروغ دینے والی اس زبان کے نام پر دو فرقوں کو لڑا کر ان میں فسادات بھی کروائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ لوگ یہ پروپیگنڈہ کرنے میں ہمیشہ ملوث رہتے ہیں کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ حالانکہ آج کے دور میں بھی ایسے غیر مسلموں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اردو سے پیار کرتے ہیں، جنھیں اس سے عشق ہے اور جو اس کے لیے اپنی جان تک کی بازی لگا دینے کے لیے تیار ہیں۔ بہت سے غیر مسلموں کی روزی روٹی بھی اسی زبان کی وجہ سے چل رہی ہے۔ ایسے لوگ بھلا اس کے دشمن کیوں ہوں گے اور ایسے لوگوں کی موجودگی کے پیش نظر یہ پروپیگنڈہ کیسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔
ڈاکٹر سید احمد خاں نے اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب انھوں نے اس تحریک کا آغاز کیا تھا تو ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اردو سے محبت کرنے والے ان کی اس چھوٹی سی کوشش کی اتنی پذیرائی اور وہ بھی عملی پذیرائی کریں گے۔ کچھ لوگوں نے ان سے سوال کیا تھا کہ آپ کی یہ مہم کیا کوئی رنگ لا سکتی ہے اور یہ کہ جب کوئی کچھ نہیں کر رہا ہے اور اردو کے تعلق سے اردو والوں پر بھی جمود طاری ہے تو آپ کیوں خواہ مخواہ اپنا سر کھپا رہے ہیں؟ اس پر انھوں نے جواب دیا تھا کہ میں نے ایک ننھا سا چراغ جلایا ہے اگر اس چراغ کی لو سے دوسرے لوگ بھی اپنا چراغ جلاتے ہیں تو مجھے بے حد خوشی ہو گی۔ اور اگر نہیں جلاتے ہیں تو کوئی بات نہیں۔ ان کا جو کام ہے وہ اہل سیاست جانیں، میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ میں محبت کے اس پیغام کو عام کرنے کی جد و جہد جاری رکھوں گا۔ اگر مخالفین زمانہ کی تند و تیز آندھیاں اس چراغ کو بجھانا چاہیں گی تو بجھائیں، لیکن میں اس کے بعد ہی دوسرا چراغ جلانا نہیں بھولوں گا۔ ان کے بقول میں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ خواہ کچھ ہو جائے میں یوم اردو منانے کا سلسلہ بند نہیں کروں گا۔ کوئی ساتھ آئے یا نہ آئے ۔ اگر کوئی ساتھ آتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی اور اسے بھی اس قافلے میں شامل کر لیا جائے گا اور اگر کوئی نہیں بھی آتا ہے جب بھی یہ قافلہ رواں دواں رہے گا۔ چاہے اس میں صرف میں ہی اکیلا کیوں نہ رہوں۔ ڈاکٹر سید احمد خاں کے مطابق محفوظ الرحمن صاحب نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور میں نے یہ سلسلہ نامساعد حالات میں بھی جاری رکھا۔ کیونکہ میرے نزدیک اردو کی بقا کا سوال تھا، اس کے تحفظ کا سوال تھا اور اس کو اس کا حق دلانے کا سوال تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری کوششوں سے کوئی فائدہ پہنچا یا نہیں؟ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میرے ایک چراغ کے جلو میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں چراغ جل اٹھے ہیں اور میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے جو کوشش شروع کی تھی وہ رائیگاں نہیں گئی۔ اسے لوگوں نے شرف قبولیت سے نوازا ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: urdu day and iqbal birthday | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )