بابری مسجد : کوئی سازش تو نہیں رچی جا رہی ؟

سہیل انجم
جب بھی دسمبر کا مہینہ قریب آتا ہے یا بابری مسجد کے تعلق سے کوئی اہم موقع ہوتا ہے یا پھر کوئی اہم سیاسی واقعہ پیش آنے والا ہوتا ہے تو عدالت سے باہر بابری مسجد رام جنم مندر تنازعہ کا حل ڈھونڈنے کا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور پوری قوم اسی میں الجھ جاتی ہے۔ تقریباً ایک ماہ بعد بابری مسجد انہدام کی تاریخ یعنی 6 دسمبر آنے والی ہے اور اس سے ایک روز قبل یعنی 5 دسمبر سے سپریم کورٹ میں اس معاملے پر یومیہ سماعت ہونے والی ہے۔ اسی درمیان عدالت سے باہر اس قضیہ کا حل تلاش کرنے کی باتیں بھی ہونے لگی ہیں۔ اچانک ہندو دھارمک گرو اور آرٹ آف لیونگ فاونڈیشن کے بانی شر ی شری روی شنکر میدان میں کود پڑے ہیں اور یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ عدالت کے باہر اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں متعدد اماموں اور سوامیوں کے رابطے میں ہیں۔ فاونڈیشن کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے بھی اس کا ”مژدہ“ سنایا گیا ہے۔ جبکہ ایک اردو اخبار میں شری شری روی شنکر کے ساتھ کچھ ہندو اور مسلم شخصیات کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ بنگلور میں واقع فاونڈیشن میں حال ہی میں لی گئی تصویر ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملاقاتوں کا سلسلہ واقعی شروع ہو گیا ہے۔
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سب سے زیادہ رد عمل مسلمانوں کی طرف سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وشو ہندو پریشد یا رام مندر کا مقدمہ لڑنے والوں کی طرف سے کوئی اکا دکا بیان آگیا ہو تو آگیا ہو، کسی نے باضابطہ کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ البتہ بی جے پی کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ رام ولاس ویدانتی نے روی شنکر کی پہل کی مخالفت کی ہے۔ لیکن ان کی یہ مخالفت اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ عدالت کے باہر حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ چونکہ ان کا رام مندر تحریک سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ کبھی جیل نہیں گئے اور انھوں نے کبھی رام کے درشن نہیں کیے اس لیے وہ اس کے مجاز نہیں ہیں۔ یعنی اگر رام مندر تحریک سے وابستہ کوئی ایسا شخص سامنے آئے جو جیل بھی گیا ہو اور رام کے درشن بھی کیے ہوں تو وہ اس کی مخالفت نہیں کریں گے۔ دوسری طرف بی جے پی، وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے لیڈروں کی جانب سے بار بار ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ جلد ہی رام مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔
مسلمانوں کی جانب سے سب سے پہلے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور اس کی بابری مسجد کمیٹی کے کنوینر ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ بات چیت کا کوئی مطلب نہیں ہے اور بورڈ نے شری شری سے بات کرنے کے لیے نہ تو کسی کو مجاز ٹھہرایا ہے اور نہ ہی کسی کو نمائندہ مقرر کیا ہے۔ بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی کی جانب سے بھی کچھ ایسا ہی بیان سامنے آیا۔ بابری مسجد کمیٹی کے کو کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس کی جانب سے بھی بات چیت کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ لیکن اسی درمیان بورڈ کے ترجمان اور ایک مخصوص رکن کی جانب سے ایسے بیانات بھی آئے کہ اگر کوئی ٹھوس فارمولہ سامنے آئے گا اور وہ انصاف پر مبنی ہوگا تو اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ لیکن ان دونوں نے اس فارمولے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ اخبار میں شائع تصویر کے ساتھ ساتھ ایک خبر اور آئی کہ بورڈ کے جس رکن نے شری شری سے ملاقات کی تھی اس نے ان کی بات چیت بورڈ کے جنرل سکریٹری سے بذریعہ فون کرائی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات چیت کے دوران اس مسئلے کے حل کا کوئی ذکر نہیں آیا اور یہ کہ یہ بات چیت خالص ذاتی نوعیت کی تھی۔
اسی درمیان بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا ایک بیان اخبارات میں آیا کہ شری شری سے ان کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے اور یہ کہ بات چیت کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ اب عدالت کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے اور وہ جو بھی فیصلہ کرے گی اسے منظور کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ بھی کئی علما نے جن میں جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری اور جمعیة علمائے ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی بھی شامل ہیں، کہا کہ اس مسئلے پر بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور عدالت کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے۔ گویا مسلمانوں کی جانب سے یہ بات بہت شد و مد کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ ہم بات چیت نہیں کریں گے۔ ایسی کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے کئی ادوار چل چکے ہیں اور دور کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاہے۔ مزید برآں یہ کہ جب بھی کوئی بات چیت ہوتی ہے تو ہندو فریقوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ مسلمان بابری مسجد کی جگہ ہندوؤں کو دے دیں اور وہاں مسجد کی تعمیر سے دستبردار ہو جائیں۔ اس طرح جب پہلے سے ہی ایک شرط لگا دی جاتی ہے تو پھر بات چیت کسی نتیجے پر پہنچ ہی نہیں سکتی۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے بات چیت میں ثالث بننے کی پیشکش کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ اگر فریقین چاہیں تو وہ اس بارے میں ججوں کی ایک بنچ تشکیل دے سکتے ہیں۔ لیکن ان کی اس پیشکش کی حوصلہ شکنی کی گئی تھی اور یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس کا مقصد رام مندر کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔ ادھر عدالت نے حکم دے رکھا ہے کہ اس معاملے کی یومیہ سماعت ہو اور دو سال میں اس کا تصفیہ کر دیا جائے۔ اب جبکہ عدالت سے باہر بات چیت کا شوشہ چھوڑا گیا ہے اور بورڈ کے کچھ ممبران کی شری شری سے ملاقات کی بات سامنے آئی ہے تو بعض حلقوں سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس بارے میں اندر ہی اندر کھچڑی پک رہی ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اندرونی طور پر سازش تیار کی گئی ہے جس کا مقصد بابری مسجد ہندوؤں کو دے دینا ہے۔ دہلی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری سمیت دیگر کئی لوگوں نے ایسا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ احمد بخاری نے تو براہ راست بورڈ کے عہدے داروں پر ساز باز کرنے کا الزام عاید کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ بابری مسجد ہندوؤں کے حوالے کر دی جائے۔ ان کے اس الزام پر بورڈ کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی ہے اور پوری قوت سے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بات چیت کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ عدالت کے باہر کوئی تصفیہ نہیں ہوگا۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اسے تسلیم کیا جائے گا۔
اسی درمیان اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے بھی شری شری سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ 2018 میں رام مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ ان کے بیان کو کوئی بھی شخص اہمیت نہیں دے رہا ہے۔ اس کے برعکس ان پر الزام عاید کیا جا رہا کہ وہ اپنے عہدے کے تحفظ اور اپنے خلاف جانچ سے بچنے کے لیے ایسا بیان دے رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ اس قسم کا بیان دے چکے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہمایوں کے مقبرے کو توڑ کر اسے قبرستان میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ بابری مسجد ایک شیعہ مسجد ہے اور وہ اس کے مقدمے میں فریق بننے کی کوشش کریں گے۔ ان کے ان اقدامات کی مخالفت خود شیعہ حضرات بھی کر رہے ہیں۔
ان تمام تفصیلات کی روشنی میں فطری طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی بابری مسجد کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے اور کچھ مسلمان ہی اس سازش کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ جب یہ بات بات بار بار کہی گئی ہے کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی اسے تسلیم کیا جائے گا تو پھر اس بارے میں بات چیت کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ہندوؤں کی جانب سے بات چیت پر زور دیا جاتا رہا ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ آپسی سمجھوتے سے کوئی حل نکل آئے تو زیادہ اچھا ہے۔ شاید ان کو یہ اندیشہ ہے کہ عدالت سے رام مندر کے حق میں فیصلہ نہیں آئے گا۔ اس لیے باہر باہر ہی کوئی حل نکال لیا جائے۔ یہ شبہ اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ رام مندر کا مقدمہ لڑنے والوں کی جانب سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی ہم مانیں گے۔ بلکہ یہ کہا گیا کہ اگر ہمارے خلاف فیصلہ آیا تو ہم نہیں مانیں گے۔ چونکہ وہ اسے آستھا کا معاملہ قرار دیتے ہیں ملکیت کا نہیں، اس لیے ان کے مطابق رام مندر کی تعمیر کے علاوہ اس کا کوئی اور حل نہیں ہے۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک فریق عدالت کو وہ وقار اور اہمیت نہیں دے رہا ہے جو دوسرا فریق دے رہا ہے۔ جہاں تک دستاویزات اور کاغذات کا تعلق ہے تو وہ بابری مسجد کے حق میں ہیں۔ لیکن رام مندر کے حق میں بھی کچھ کاغذات ہیں خواہ ان کی بنیاد کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اس معاملے کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق دو سال کے اندر اس معاملے میں فیصلہ آجانا چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ اگر مقررہ مدت میں فیصلہ آتا ہے تو اس وقت لوک سبھا انتخابات کا موسم شروع ہو جائے گا۔ فیصلہ کسی کے بھی حق میں آئے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ بہر حال یہ معاملہ بہت نازک ہے اور اس کو جتنی جلد حل کر لیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ وہ حل عدالت کے اندر ہو یا عدالت کے باہر۔ بہر حال حل نکلنا ہی چاہیے۔
sanjumdelhi@gmail.com
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں ،اردو تہذیب کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Title: babri masjid conspiracy is being hatched | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )