کشمیر پر مذاکرات کا اعلان خوش آئند

سہیل انجم

اسے کہتے ہیں دیر آید درست آید۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے بالآخر مذاکرات کا اعلان کر دیا گیا۔ آئی بی کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو حکومت کا مذاکرات کار بنایا گیا ہے۔ وہ پہلے بھی وہاں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس لیے وہ کشمیری عوام کے مزاج سے واقف ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ سب سے بات چیت کریں گے۔ ان پر یہ پابندی نہیں ہے کہ وہ فلاں سے بات کریں اور فلاں سے نہ کریں۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ہری جھنڈی دے دی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ دنیشور شرما کس سے بات کریں گے کس سے نہیں، یہ ان کے صوابدید پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ علاحدگی پسند حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو بھی مذاکراتی عمل میں شریک کریں گے۔ حالانکہ ابھی تک حکومت یہ کہتی رہی ہے کہ وہ کشمیر کے صرف ان لوگوں سے بات کرے گی جو مین اسٹریم کی سیاست کرتے ہیں۔ یعنی جو الیکشن لڑتے ہیں اور جو علاحدگی پسندی کی باتیں نہیں کرتے۔ اس نے حریت رہنماؤں سے مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ جو ہندوستانی آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرے گا اسی سے ہم بات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہتی رہی ہے کہ تشدد اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ یعنی پتھراؤ بند ہونا چاہیے۔ دہشت گردانہ وارداتیں بند ہونی چاہئیں۔ خود کش حملے بند ہونے چاہئیں۔ لیکن اب اس نے جو اعلان کیا اس سے اس کے رویے میں لچک کا پتا چلتا ہے۔
حالانکہ فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملی ٹینٹوں کے خلاف جو کارروائی چل رہی ہے وہ بند کر دی جائے گی۔ فوجی سربراہ بپن راوت کے مطابق ان کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ یعنی بات چیت بھی ہوگی اور دہشت گردی مخالف اقدامات بھی ہوں گے۔ اس صورت میں یہ کہنا مشکل ہے کہ علاحدگی پسند مذاکرات کی میز پر آئیں گے یا نہیں۔ ابھی ان کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ حالات کا مشاہدہ کریں گے اور بات چیت کا عمل کس رخ پر چلتا ہے یا اس میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنا رخ طے کریں گے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیر سے متعلق کوئی بھی بات چیت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ علاحدگی پسندوں کو بھی اعتماد میں نہ لیا جائے یا کم از کم ان کو بات چیت کی میز پر نہ بٹھایا جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ہم مذاکرات کے ذریعے کشمیری عوام کی جائز امنگوں کو جاننا چاہتے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ جب تک ہم کشمیریوں کے خیالات و نظریات سے واقف نہیں ہوں گے اس وقت تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکے گا۔ جہاں تک کشمیریوں کے خیالات و نظریات کا تعلق ہے تو دو قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو سیاسی عمل میں شریک ہیں اور جو مسئلے کے سیاسی حل میں یقین رکھتے ہیں۔ جو دہشت گردی کے مخالف ہیں۔ جو ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیاسی عمل کی ضرورت ہے۔ جو ریاست میں روزگار کی بات کرتے ہیں۔ جو تعلیمی فروغ کی بات کرتے ہیں۔ جو سیاحتی ترقی کے ہمنوا ہیں۔ جو ریاست کو خوشحال اور پر امن دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو تشدد اور خون خرابے سے اکتا چکے ہیں اور پر امن زندگی جینے کے خواستگار ہیں۔ جو کشمیری عوام کے ساتھ ایک عرصے سے جاری ناانصافی کا ازالہ چاہتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان لوگوں پر مشتمل ہے جو دہشت گردی کو جہاد قرار دیتے ہیں۔ جو کشمیر کو ہندوستان سے آزاد کرانے کا خواب دیکھ رہے ہیں یا آزادی کی تحریک کے نام پر تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ جن کو بیرونی امداد ملتی ہے۔ جو امن کے دشمن اور انسانیت کے بدخواہ ہیں۔
ایک فریق اور ہے اور وہ پاکستان ہے۔ پاکستان نے حکومت کے اعلان پر منفی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک دکھاوا ہے۔ جب تک اسے بھی بات چیت میں شامل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کی یہ بات اس حد تک درست ہے کہ چونکہ اس پر دہشت گردوں اور علاحدگی پسندوں کی ہر ممکن مدد و اعانت کا الزام ہے اس لیے اس سے بھی بات کی جانی چاہیے۔ وہ کھلے عام کہتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاری مہم کو جسے وہ آزادی کی تحریک قرار دیتا ہے، اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستانی حکمرانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ وہ اس مسئلے کو عالمی فورموں پر اٹھا کر اسے بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں اسے حل کیا جائے۔ جبکہ اس مسئلے پر دونوں میں کئی کئی بار مذاکرات ہو چکے ہیں۔ شملہ سمجھوتہ ہوا اور لاہور اعلانیہ جاری ہوا۔ ان دونوں معاہدوں میں کہا گیا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر کو باہمی گفت و شنید سے حل کریں گے، اس میں کسی تیسرے فریق کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے باوجود پاکستان تیسرے فریق کی شمولیت کی آواز اٹھاتا رہتا ہے۔ کبھی اقوام متحدہ میں تو کبھی عالمی رہنماؤں سے بات چیت کے دوران۔ جبکہ ہندوستان اس موقف پر قائم ہے کہ وہ اسے دوطرفہ مذاکرات سے ہی حل کرے گا۔ لیکن ابھی جو اعلان ہوا ہے اس میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ صرف کشمیری عوام سے بات چیت کی بات کہی گئی ہے۔ ممکن ہے کہ حکومت نے کوئی مرحلہ وار فارمولہ سوچ رکھا ہو۔ ممکن ہے کہ اس نے یہ طے کیا ہو کہ اگر کشمیری عوام سے بات چیت کسی مثبت رخ پر جاتی ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے تو پھر اس کے بعد اس میں پاکستان کو بھی شامل کیا جائے گا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا پتا لگانا چاہتی ہے کہ سمندر میں کتنا پانی ہے۔ اس کے بعد ہی وہ آگے بڑھنے کا فیصلہ کرے گی۔ جموں و کشمیر کی سیاسی قیادت یا سیاسی شخصیات نے ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ نے اسے اچھا قدم قرار دیا ہے تو کچھ نے اس کا اشارہ دیا ہے کہ ”دیکھتے ہیں حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں“۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور کوئی نہیں کر سکتا کہ یہ ایک مثبت قدم ہے اور سوچا سمجھا قدم ہے اور ا گر سنجیدگی سے بات چیت کو آگے بڑھایا گیا تو اس کے نتائج بہر حال برآمد ہوں گے۔
مرکز میں مودی حکومت کو تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ملی ٹینٹوں کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی جاری رہی ہے۔ چاہے سنگ بازوں کے خلاف کارروائی ہو یا بم بازوں کے خلاف۔ حکومت نے کسی بھی معاملے میں نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس دوران کئی سو جنگجو ہلاک کیے گئے۔ سیکڑوں افراد اور نوجوان زخمی ہیں۔ ان تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ مختلف حلقوں سے یہ آواز بھی اٹھتی رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے سیاسی پہل کی ضرورت ہے۔ ابھی چند روز قبل کشمیر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس شیش پال وید نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امسال سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں اب تک 160 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ لیکن کشمیر کو ایک سیاسی پہل کی ضرورت ہے اور مرکزی حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ ریاست کے بے روزگار نوجوان ناپسندیدہ اور خطرناک عناصر کے ہتھے نہ چڑھیں۔
حکومت کی جانب سے اس قسم کے اقدامات وقتاً فوقتاً کیے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر پولیس اور سیکورٹی فورسز میں بھرتی کے کیمپ لگانا اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شریک کرنا۔ پولیس فورس میں بھرتی کے لیے نوجوانوں نے جوش کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں کی سیاسی شخصیات کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور نوجوانوں کو بھی۔ اس کے علاوہ علاحدگی پسندوں کو بھی بات چیت کے عمل میں شامل کیا جائے۔ ممکن ہے کہ اس سے کوئی راستہ نکلے۔ اسی کے ساتھ کشمیر کے باہر رہنے والے کشمیری افراد اور کشمیری طلبہ کے ساتھ برتے جانے والے رویے میں تبدیلی کی بھی ضرورت ہے۔ ان کو شک کی نظریوں سے دیکھنا بند کرنا ہوگا۔ ان پر اعتماد کرنا ہوگا۔ ان کو اپنے عمل سے یہ بتانا ہوگا کہ جس طرح کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے اسی طرح تم بھی ہمارے اپنے ہو۔ یہ ملک تمھارا اپنا ہے۔ ملک کے لوگ تمھارے بھائی ہیں۔ میڈیا کو بھی نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیا کو یہ ہدایت دے کہ وہ کشمیریوں کے خلاف اسٹوری کرنا بند کرے اور ایسے مبا حثوں سے گریز کرے جن سے حالات خراب ہوتے ہیں۔ اگر عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی اپنا رویہ بدل لے تو حالات کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: talks for peace in kashmir | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )