یہ ہمارے لیے شرم کا مقام ہے!

سہیل انجم

کوئی ملک اگر دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت بن رہا ہو، وہ عالمی قائد بننے کا خواب دیکھ رہا ہو، بلیٹ ٹرین کے توسط سے عوام کو برق رفتار ترقی کے منازل طے کرانے میں مصروف ہو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا خواہشمند ہو ، جو مریخ پر گاڑی بھیج چکا ہو اور بیک وقت متعدد سیٹلائٹ خلا میں چھوڑ کر ایک عالمی ریکارڈ بنا چکا ہو اگر اس ملک میں بھوک کی وجہ سے کوئی موت ہوتی ہے تو یہ اس ملک اور اس کے باشندوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ قارئین سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ کسی اور ملک کی کہانی نہیں ہے بلکہ اپنے ہی ملک ہندوستان کی داستان ہے جہاں ایک گیارہ سالہ بچی کھانا مانگتے مانگتے تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ اس واقعہ نے پوری دنیا میں ہندوستان کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ لیکن ہم اتنے بے غیرت اور بے شرم ہو گئے ہیں اور ہماری کھال اتنی موٹی ہو گئی ہے کہ نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی اکیسویں صدی کی چمک دمک کے درمیان اس انسانیت سوز واقعہ سے ہمارے اوپر کوئی فرق نہیں پڑتا اور ہم اپنے شب و روز میں مگن رہتے ہیں۔ ورنہ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں ایک بچی ”بھات بھات“ چلاتے ہوئے دم توڑ دے۔
یہ واقعہ جھارکھنڈ کے سمڈیگا ضلع کا ہے۔ گیارہ سالہ سنتوشی کماری کی موت 28 ستمبر کو ہی ہو گئی تھی لیکن اس کا علم دنیا کو 17 اکتوبر کو ہوا اور اس کا سہرا غذائی شعبے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم Right To Food Campaign اور Watch NREGA کے سر جاتا ہے جس نے اس واقعہ کا انکشاف کیا۔ سنتوشی کماری ایک اسکول میں پڑھتی تھی۔ وہاں دوپہر کا کھانا یعنی مڈ ڈے میل ملتا تھا۔ اسی پر اس کا گزارا تھا۔ لیکن درگا پوجا کے موقع پر اسکول کی چھٹی ہو گئی۔ لہٰذا وہ مڈ ڈے میل سے محروم ہو گئی۔ بہت سے بچوں کے لیے اسکول کی تعطیل خوشیوں کی سوغات لاتی ہے، بچے کچھ دنوں کے لیے اسکول کی پڑھائی سے آزادی حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن سنتوشی کے لیے یہ چھٹی موت کا پروانہ لے کر آئی۔ اس کا باپ ذہنی مریض ہے اور اس کی ماں اور بڑی بہن جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے ہیں اور اس سے روزی روٹی چلاتے ہیں۔ وہ یومیہ چالیس پچاس روپے ہی کما پاتے ہیں۔ یہ خاندان انتہائی افلاس زدہ ہے اور نیشنل سیکورٹی فوڈ ایکٹ کے تحت سرکاری راشن کی دکان یعنی PDS سے اناج حاصل کرنے کا مجاز ہے۔ لیکن پی ڈی ایس کے مالک نے آٹھ مہینے قبل اسے راشن دینا بند کر دیا تھا۔ سنتوشی کماری کی ماں کوئیلی دیوی کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی اپنے گاؤں ”پٹیامبا“ سے پانچ کلو میر دور راشن کی دکان پر جاتی تھی تو دکاندار اس سے آدھار نمبر مانگتا تھا اور کہتا تھا کہ راشن کارڈ کو آدھار نمبر سے لنک کرانا ضروری ہے۔ میرے پاس 2013 سے آدھار کارڈ ہے مگر اسے راشن کارڈ سے لنک نہیں کرایا گیا ہے۔ اس لیے اس نے راشن دینے سے منع کر دیا۔ اس کے بعد جب اس نے وہاں جانا بند کر دیا تو راشن کارڈ کی فہرست سے اس کا نام ہی خارج کر دیا گیا۔
کچھ سماجی کارکنوں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سنتوشی کی موت ملیریا سے ہوئی ہے۔ لیکن کوئیلی دیوی کا دعویٰ ہے کہ وہ بھوک سے مری ہے۔ وہ ”بھات بھات“ چلاتے ہوئے مر گئی۔ اس نے بتایا کہ چار دنوں سے گھر میں کسی نے کچھ نہیں کھایا تھا۔ گھر میں کچھ تھا ہی نہیں کہ اسے کھانے کے لیے دے دیتے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ نہ تو کسی ڈاکٹر کے پاس گئی تھی اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر اس کے گھر آیا۔ وہ بھوک سے ہی مری ہے۔ سنتوشی کی بڑی بہن 26 سالہ گڑیا دیوی بھی کہتی ہے کہ ہمارے گھر میں اناج نہیں تھا۔ ہمیں اناج خریدے ہوئے ڈیڑھ ماہ ہو گئے ہیں۔ تاہم ان دونوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے راشن نہ ملنے کی شکایت کسی سے نہیں کی۔ کوئیلی نے ایک اخبار کو بتایا کہ اندرا آواس یوجنا کے تحت 25 سال قبل اسے ایک تعمیر شدہ مکان ملا تھا جس کی حالت اب خستہ ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ لوگ اسے چھوڑ کر دوسری جگہ رہنے پر مجبور ہیں۔
اب اس پر بحث ہو رہی ہے کہ اس خاندان کو آدھار کارڈ کو راشن کارڈ سے لنک نہ کرانے کی وجہ سے راشن بند کر دینا ٹھیک تھا یا نہیں۔ سمڈیگا کے ڈپٹی کمشنر اس بات کو مانتے ہیں کہ فروری سے ہی اس خاندان کو راشن نہیں مل رہا تھا۔ اب کچھ لوگ اس کی شکایت کر رہے ہیں کہ کوئیلی اور ا سکے گھر والوں نے راشن نہ ملنے کی شکایت کسی سے کیوں نہیں کی۔ گویا یہ اس کا جرم ہے اور اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ خبروں میں جو کچھ آیا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کوئیلی اور اس کے گھر والے انتہائی سیدھے اور سادہ لوح ہیں۔ جب ان کو راشن دینا بند کر دیا گیا تو انھوں نے اس کی کوئی شکایت نہیں کی اور نہ ہی دکاندار پر راشن دینے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا۔ اس نے کہا کہ اب راشن نہیں ملے گا اور وہ واپس چلی آئی۔ ان لوگوں نے یہی سوچا ہوگا کہ وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹیں گے، انھیں فروخت کریں گے اور اس سے ہونے والی آمدنی سے گھر چلائیں گے۔ چونکہ وہ لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں اس لیے نہ تو راشن کارڈ کو آدھار سے لنک کرانے کے بارے میں انھیں کوئی علم ہے اور نہ ہی اس کا کوئی علم ہے کہ نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے تحت وہ راشن پانے کے حقدار ہیں۔
ادھر حکام کا کہنا ہے کہ اس کی بہت واضح ہدایت دی گئی تھی کہ کوئی بھی شخص راشن سے محروم نہ رہے۔ اس کی کوئی ہدایت نہیں تھی کہ لنک نہ کرانے والے کو راشن نہ دیا جائے۔ لیکن چونکہ اس بہانے سے راشن ڈیلر نے راشن دینا بند کر دیا اس لیے اس کے خلاف کارروائی ضروری ہو گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کا لائسنس رد کر دیا گیا ہے۔ حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ راشن بند نہ کرنے کی ہدایت تھی جبکہ جھارکھنڈ کے چیف سکریٹری نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ جو کوئی بھی راشن کارڈ کو آدھار کارڈ سے لنک نہیں کرائے گا وہ راشن پانے کا حقدار نہیں ہوگا۔ ریاست کے پی ڈی ایس وزیر سرجو رائے اس اعلان پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی کی وجہ سے ہی کنفیوژن پیدا ہوا اور اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے متاثر ہوئے۔ لیکن وہ اس بارے میں خاموش ہیں کہ چیف سکریٹری کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔ اس درمیان ملیریا اور بھوک سے مرنے کے سلسلے میں دعویٰ اور جواب دعویٰ کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن جو بھی ہوا افسوسناک ہے اور ہمارے لیے باعث شرم ہے۔
خیال رہے کہ غذا ئی پالیسی سے متعلق واشنگٹن کے ایک ادارے انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے 12 اکتوبر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ ہندوستان بھکمری اور غذائی قلت کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ یہاں کے حالات کی ابتری کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ شمالی کوریا اور عراق کی صورت حال بھی ہندوستان سے بہتر ہے۔ اس نے دنیا کے 119 ترقی پذیر ملکوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں ہندوستان 100ویں مقام پر ہے۔ یہاں تک کہ ہمسایہ ملکوں کی کارکردگی بھی اس سے اچھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیپال 72ویں، میانمار 77 ویں، بنگلہ دیش 88 ویں، سری لنکا 84 ویں اور چین 29 ویں مقام پر ہے۔ پاکستان کے حالات بھی ہندوستان سے بہتر ہیں۔ حالانکہ اس بارے میں گزشتوں برسوں میں ہندوستان کی حالت میں کچھ سدھار ہوا ہے۔ 2008 میں اس کی ریٹنگ 35.6 تھی جو کہ رواں سال میں 31.4 پر آگئی ہے۔ لیکن رپورٹ کہتی ہے کہ ہندوستان جیسے ملک کے لیے جو کہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بننے والا ہے، خوشی کا کوئی مقام نہیں کیونکہ جبوتی اور یوگنڈا جیسے افریقی ممالک کے حالات بھی اس سے اچھے ہیں۔ گزشتہ سال ہندوستان 97 ویں نمبر پر تھا مگر اب وہ اس کڑی میں اور نیچے چلا گیا ہے۔ یعنی اب بھکمری کے حالات اور خراب ہو گئے ہیں۔ مذکورہ ادارے کے مطالعے سے ہندوستان میں بچوں کی صحت کے بارے میں انتہائی ابتر صورت حال سامنے آتی ہے۔ یہاں پانچ سال تک کے 21 فیصد بچے کم وزن اور ناقص غذائیت کے شکار ہیں۔ ان کے قد کے تناسب میں ان کا وزن نہیں ہے۔ ایک تہائی آبادی یا 38.4 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا جسمانی فروغ عمر کے تناسب میں نہیں ہے۔ بھوک سے متاثر ملکوں کی عالمی فہرست میں ہندوستان اس مقام پر ہے جسے سنگین زمرہ قرار دیا گیا ہے۔
کیا یہ حقائق ہمارے سیات دانوں اور حکمرانوں کو کچھ سوچنے پر مجبور کریں گے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سیاست کرنے کے بجائے عوام کو بہتر زندگی گزارنے کے مواقع دینے کی کوئی کوشش کریں گے؟
sanjumdelhi@gmail.com

Title: jharkhand girl starvation death | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )