پاکستان کا ”احساس ندامت“

سہیل انجم
پاکستان نے غالباً پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کالعدم جماعت الدعویٰ اور لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک پاکستان کے لیے بوجھ ہیں اور اسے ان سے جلد از جلد جان چھڑا لینی چاہیے، ان سے نجات حاصل کر لینی چاہیے۔ یہ بیان ہے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا جو انھوں نے نیویارک کے ایشیا سوسائٹی فورم کی ایک تقریب کے دوران سوالوں کے جواب میں دیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ انھوں نے دو اور باتیں بھی کہی ہیں۔ پہلی یہ کہ پاکستان ان سے جلد نجات حاصل نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس ان تنظیموں اور ان کے سربراہوں کے مساوی وسائل نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ کہ انھوں نے پاکستان میں ان کی موجودگی سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی اور کہا ان کے لیے پاکستان پر ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی۔ کیونکہ بیس تیس سال قبل یہی لوگ امریکہ کے ڈارلنگ تھے، اس کے محبوب تھے۔ امریکہ نے وائٹ ہاوس میں ان کو کھلایا پلایا۔ بلکہ انھوں نے اس کے لیے انگریزی میں Dined and wined کہا ہے۔ یعنی ان کو نہ صرف کھلایا بلکہ شرابیں بھی پلائیں اور اب وہی امریکہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پاکستان پر دباو¿ ڈال رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور افغانستان میں جو جہادی گروپ ہیں ان کو پیدا کرنے کی ذمہ داری کسی حد تک امریکہ پر عاید ہوتی ہے۔ اسی نے ان کو افغانستان میں سوویت روس کے خلاف جنگ میں استعمال کیا۔ ان کو اسلحے دیے اور انھیں روس کے خلاف میدان جنگ میں تعینات کیا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرد جنگ اور افغانستان میں سوویت روس کے خلاف لڑائی کے بعد امریکہ نے جہادی گروپوں سے دامن جھاڑ لیا۔ اب وہ اس کے محبوب نہیں رہ گئے۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا کہ وہ پاکستان کے ڈارلنگ بن گئے۔ پاکستان نے ان کو اپنا محبوب بنا لیا۔ یہ پاکستان کی کوتاہ اندیشی تھی کہ اس نے یہ نہیں سوچا کہ یہ جہادی گروپ خود اس کے خلاف ہی ہتھیار اٹھالیں گے یا دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی وارداتیں انجام دیں گے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کر دیں گے۔ پاکستان کی حکومتوں نے ان کی مالی، اخلاقی اور ہر سطح پر مدد کی۔ لشکر طیبہ کے مختلف دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے بعد جب اس کے ارد گرد اسکریو ٹائٹ ہونے لگا تو حافظ سعید نے جماعت الدویٰ نام کی تنظیم بنا لی اور کہا کہ یہ ایک فلاحی تنظیم ہے۔ انھوں نے اس کے تحت کچھ ادارے کھولے۔ لیکن عام طور پر ان کا اور جماعت الدعویٰ کا اصل مقصد جہادی ذہنیت کو پروان چڑھانا ہی تھا اور اب بھی ہے۔ پاکستانی حکومت نے جماعت الدعویٰ کو کروڑوں روپے کی یہ کہہ کر امداد کی کہ وہ سماجی و فلاحی کاموں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ حکومت کی اعانت کے سبب دہشت گرد گروپوں کی طاقت بڑھتی رہی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے عوام میں بھی اپنی جڑیں گہرائی تک پیوست کر لیں۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ ان کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوا جس کے نتیجے میں آج پاکستان میں مذہبی شدت پسندی اور مسلکی منافرت کا بول بالا ہے۔ اقلیتوں کے خلاف معاندانہ ماحول ہے اور اہانت قانون کے تحت کسی سے بھی اپنی دشمنی نکالی جا سکتی ہے، کسی سے بھی انتقام لیا جا سکتا ہے۔
اگر پاکستان کی حکومت نے ان گروپوں کی مدد نہ کی ہوتی تو آج خواجہ آصف کو یا کسی کو بھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ ہم ان سے چھٹکارہ حاصل کر لیں۔ اس کا بہت واضح مطلب یہ ہوا کہ یہ گروپ اسی طرح سرگرم رہیں گے جیسے کہ ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کی دہشت گردانہ وارداتیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ امریکہ نے بار بار پاکستان پر دباو¿ ڈالا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ لیکن ابھی تک ایسی کارروائی نہیں کی جا سکی ہے کہ اس کی کمر ٹوٹ جائے۔ حقانی نیٹ ورک نے بہت سے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کو ختم کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے یا ہو رہی ہے تو کامیاب نہیں ہو رہی ہے۔ جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں پاکستان پر دباو¿ میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ دہشت گردی کے سخت خلاف ہیں۔ انھوں نے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو دہشت گردی مخالف کارروائیوں سے مشروط کر دیا ہے۔ انھوں نے پچھلے دنوں جب افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی نئی پالیسیوں کا اعلان کیا تو انھوں نے پاکستان پر شدید الفاظ میں تنقید کی اور کہا کہ امریکہ پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے مالی مدد دیتا ہے لیکن پاکستان انہی دہشت گرد گروپوں کے ساتھ ملا ہوا ہے اور یہ کہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں امریکی شہری مارے جا رہے ہیں۔ ان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے باہمی رشتوں میں بہت تلخی آگئی ہے اور پاکستان رفتہ رفتہ امریکہ کی گڈ بک سے نکلتا اور چین کی گود میں بیٹھتا جا رہا ہے۔ چین کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر نے دونوں کو مزید قریب کر دیا ہے۔ یہ بات تو درست ہے کہ اس راہداری سے پاکستان کو فائدہ پہنچے گا لیکن یہ بھی درست ہے کہ چین کو کہیں زیادہ فائدہ ہوگا اور وہ خطے میں اپنے اثرات میں بہت زیادہ اضافہ کر لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اس میں شامل نہیں ہوا ہے۔
دہشت گرد گروپوں کو پاکستانی حکومت کی جانب سے اعانت کے نتیجے میں خود پاکستان میں بے تحاشہ وارداتیں ہو رہی ہیں اور ابھی گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے یہ بیان آیا تھا کہ ان وارداتوں میں پاکستان کے کم از کم 70 ہزار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ اس بیان سے یہ بتانا مقصود تھا کہ پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے لیے اسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لیکن پاکستان کے ارباب اقتدار کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ان گروپوں کو عروج کیسے حاصل ہوا۔ کیا اس میں پاکستانی حکومتوں کا ہاتھ نہیں ہے۔ پاکستان نے ان گروپوں کو اپنے اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر استعمال کیا۔ یعنی ہندوستان کے خلاف ان کو استعمال کیا۔ کشمیر کا معاملہ ہو یا ہندوستان کے دیگر شہروں میں ہونے والی وراداتوں کا معاملہ ہو۔ ہندوستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان وارداتوں کو پاکستان کی شہہ حاصل رہتی ہے۔
بہر حال اگر خواجہ آصف یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں کہ امریکہ نے انھیں پیدا کیا اور کھلایا پلایا اور ہم کو مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ان سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں یہ دکھاتا ہے کہ حکومت کا رویہ اب بھی ان گروپوں کے تئیں ہمدردانہ ہے۔ ورنہ ان کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ہم ان کے خلاف ٹھوس اور موثر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں اس بارے میں عالمی برادری کی حمایت اور امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ حکومت، فوج اور آئی ایس آئی میں ایسے بہت سے عناصر ہیں جو دہشت گرد گروپوں سے اچھے مراسم رکھتے ہیں۔ وہ ہندوستان کی مخالفت میں اور افغانستان میں ہندوستان کی سرگرمی کو روکنے کے لیے ان گروپوں کی مدد کرتے رہیں گے۔ اور جب تک وہ ان کی مدد کرتے رہیں گے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا اور پاکستان کے حالات بھی بہتر نہیں ہوں گے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: pakistan admits hafiz saeed haqqanis are liabilities | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )