غالب کی حویلی میں غالب کا مذاق

سہیل انجم
ہم نے گلی قاسم جان، بلی ماران، دہلی میں واقع مرزا غالب کی حویلی کی یوں تو بارہا زیارت کی ہے اور غالب کے شایانِ شان انتظام کے فقدان پر آنسو بہائے ہیں۔ لیکن وہاں غالب اور کلام غالب کے ساتھ کیا جانے والا بھونڈا مذاق ہمارے دیدہ بینا سے اکثر و بیشتر اوجھل ہی رہا۔ لیکن حالیہ دنوں میں جب ہم ایک بار پھر زیارتِ حویلی کو گئے تو کئی باتوں نے ہمیں مایوس کیا۔ ہمارے دیرینہ دوست، روزنامہ قومی آواز کے سابق کارکن اور ہمسایہ غالب جناب ریحان ہاشمی نے جب ہماری توجہ وہاں کی بدانتظامیوں کے ساتھ ساتھ غالب اور کلام غالب کے ساتھ کیے جانے والے بھونڈے مذاق کی طرف مبذول کرائی تو ہم واقعی ششدر رہ گئے اور کفِ افسوس ملنے لگے۔
حویلی میں غالب اور ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلات اور متعدد اشعار اردو اور ہندی میں دیواروں پر آویزاں ہیں اور نیچے انگریزی میں ان کے ترجمے دیے ہوئے ہیں۔ لیکن کئی اشعار میں فاش غلطیاں نظر آئیں۔ غالب کا ایک شعر ہے: ”کوئی ویرانی سی ویرانی ہے، دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا“۔ یہ شعر ایک دیوار پر آویزاں ایک بڑے بورڈ پر کئی تصاویر کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی میں لکھا ہوا ہے اور نیچے انگریزی میں اس کا ترجمہ دیا ہوا ہے۔ (خیال رہے کہ یہاں وہ تصویرِ بتاں نہیں ہیں جن کے بارے میں غالب نے کہا تھا کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے گھر سے ”یہ ساماں نکلا“، بلکہ خود غالب کی کئی تصویریں ہیں اور ان سے متعلق دوسری چیزوں کی بھی ہیں)۔ جب ہم نے شعر پر غور کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ مصرعہ اولیٰ تو درست لکھا گیا ہے مگر مصرعہ ثانی غلط ہے اور یوں لکھا ہوا ہے: ”گھر کو دیکھ کر دشت یاد آیا“۔ کیا تیا پانچہ کیا ہے مصرعے کا۔ ایسا لگتا ہے جیسے بد ذوق کاتبِ شعر نے عمداً غالب کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کو شعر و سخن سے کوئی دلچسپی بھی نہیں۔ وہ کم از کم یہی دیکھ لیتا کہ مصرعہ بحر سے خارج ہو رہا ہے۔ خیر کاتبِ شعر کو کیوں برا بھلا کہیں جن مداحانِ غالب نے وہ بورڈ دیوار پر آویزاں کرایا کیا ان کو بھی اتنا شعور نہیں تھا کہ وہ اسے ایک بار پڑھ لیتے اور غلطی کی اصلاح کرا لیتے۔
غالب کا ایک اور شعر یوں ہے: ”اُگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالب، ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے“۔ یہ شعر ایک دوسری دیوار پر غالب کی دیوار پوش تصویر کے ساتھ اسی ہجم میں آویزاں ہے۔ غالب اس رنگین، بڑی اور خوبصورت تصویر میں نیم دراز ہیں، بائیں ہاتھ سے حقے کی نئے تھامے ہوئے ہیں اور دائیں ہاتھ سے ایک ڈائری پر کچھ لکھ رہے ہیں اور نیچے ایک موٹی سی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ غالباً اس سے دیوان غالب کا تصور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں جو شعر درج ہے اس کا مصرعہ ثانی تو درست ہے مگر مصرعہ اولیٰ یوں لکھا ہے:”اُگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب“۔ اس میں ”پہ“ کو ”سے“ کر دیا گیا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ غلطیاں اردو میں ہیں ہندی میں نہیں ہیں۔ اگر ہندی میں ہوتیں تو بات سمجھ میں آنے والی تھی اور صبر کرنے والی بھی تھی۔ کہ ہندی کے بہت سے لوگ دیوانِ غالب کو ”دیوانے غالب“ کہتے ہیں۔ لیکن اردو میں ایسی فاش غلطیاں ؟ اللہ کی پناہ۔ آج اگر غالب آجائیں اور ان غلطیوں پر ان کی نظر پڑ جائے تو یقیناً وہ اسی وقت دوبارہ مر جائیں گے یا ممکن ہے کہ وہ اپنا یہ شعر باآواز بلند پڑھتے اور سر پیٹتے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوں: ”حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں، مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں“۔
ہم مطمئن تھے کہ ہندی میں کوئی غلطی نہیں ہے لیکن بہت غور کے بعد ہندی میں بھی کئی غلطیاں نظر آگئیں۔ غالب کا ایک شعر یوں ہے: یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح، کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا۔ ہندی میں اس کا مصرعہ ثانی صحیح لکھا ہے مگر مصرعہ اولیٰ میں ”یہ کہاں کی دوستی ہے“ کو یہ کہاں ”کہ“ دوستی ہے“ لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح ہندی میں یہ شعر بھی درج ہے: ترے وعدے پر جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا، کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ پہلا مصرعہ درست ہے مگر دوسرے مصرعے میں ”آگر اعتبار ہوتا“ لکھا ہوا ہے۔ ایک اور شعر ہے: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے۔ ہندی میں پہلا مصرعہ درست ہے مگر دوسرے مصرعے میں ”مرے“ غائب ہے اور شعر یوں درج ہے ”بہت نکلے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے“۔ چلیے یہ تو اشعار کی بات ہو گئی۔ حد تو تب ہو گئی جب ایک جگہ خود غالب کا نام غلط لکھا ہوا پایا گیا۔ حویلی کے محراب نما دروازے سے جوں ہی اندر داخل ہوتے ہیں، بائیں جانب ایک بورڈ پر اردو، ہندی اور انگریزی میں مرزا غالب کا مختصر تعارف درج ہے۔ اردو میں مرزا اسد اللہ خاں غالب کو مرزا ”اسعد اللہ“ خاں غالب لکھا ہوا ہے۔ ایسی فاش غلطی دیکھ کر جو کوفت ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔ اشعار کا جو حشر کیا گیا ہے وہ اپنی جگہ پر۔ کم از کم غالب کے نام کے ساتھ تو زیادتی نہ کی جاتی۔
غالب کی اس حویلی میں بالکل ان کی اُسی کوٹھری کی مانند نیم تاریکی ہے جس میں وہ رمضان میں دن میں بیٹھ کر مصروف خورد و نوش رہا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع پر جب ان کے ایک قدردان نے انھیں اس کوٹھری میں دیکھاتو اس نے ان سے کہا کہ سنا ہے کہ رمضان میں شیطان قید کر لیا جاتا ہے تو انھوں نے برجستہ جواب دیا تھا کہ ”ہاں! اور وہ جہاں قید کیا جاتا ہے وہ یہی کوٹھری ہے“۔ ہم نے سوچا کہ یہاں کی کچھ تصاویر بطور یادگار اپنے موبائیل میں قید کر لیں مگر نیم تاریکی نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر نے کی بھرپور کوشش کی۔ ریحان ہاشمی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنا موبائیل ساتھ لائے ہوتے تو اس کی ٹارچ سے روشنی ڈالتے اور آپ تصاویر لے لیتے۔ پھر ہم لوگوں کو خیال آیا کہ کیوں نہ یہاں ایک کرسی پر جلوہ افروز چوکیدار صاحب سے اپنے موبائیل سے روشنی ڈالنے کو کہا جائے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس موبائیل ہے۔ انھوں نے کہا ہاں، ہے کیا کریں گے۔ ہم نے فرمائش کی کہ اس کی ٹارچ سے ذرا روشنی ڈالیے، ہم غالب کی حویلی کی کچھ یادگاریں قید کرنا چاہتے ہیں۔ چوکیدار صاحب نے اپنے موبائیل کی ٹارچ روشن کی تو انکشاف ہوا کہ اس میں اتنی بھی جان نہیں ہے کہ وہ اس نیم تاریک حویلی کے کسی گوشے کو کم کم ہی سہی، روشن کر سکے۔ اس ٹارچ کو دیکھ کر ناخدائے سخن میر تقی میر کا یہ شعر زبان پر آگیا: ”شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے، دل ہوا ہے چراغ مفلس کا“۔ لیکن بہر حال ہم ان عجائبات کا تحفہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لہٰذا ہم نے کم روشنی ہی میں کچھ تصویریں اتاریں۔ آج کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے اتنا تو فائدہ ہوا کہ ہلکے ہی سہی، ان عجائبات کے عکس ہم نے قید کر لیے۔ غالب بہت دور اندیش تھے۔ انھوں نے ایک بار انگریزوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا مقابلہ اس قوم سے ہے جو ایک بٹن دبا کر تاریک کمرے میں اجالا کر دیتی ہے۔ آج اسی قوم کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی نے ان کی تصویریں اتارنے میں ہماری مدد کی۔
یہاں دالان میں شیشے کے دو شو کیسوں میں دیوان غالب کے بڑے بڑے نسخے محفوظ کیے گئے ہیں۔ ان کو دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ غالب کے زمانے کے ہوں گے۔ بوسیدہ کاغذ اور بڑے حروف میں لکھاوٹ۔ ایک دیوان کا صفحہ نمبر 557 کھلا ہوا ہے اور آمنے سامنے کے صفحات پر وہ غزل کتابت کی ہوئی ہے جس کا مطلع ہے: ”یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا، اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا“۔ یہ دیوان یا تو غالب ہی کے زمانے کا ہے یا پھر ان کے فوراً بعد کا ہے۔ وہ آج کا نہیں معلوم ہوتا۔ کیونکہ اس دور میں عام طور پر دو لفظوں کو ملا کر لکھنے کا چلن تھا۔ مثال کے طور پر نیم کش کو ”نیمکش“ لکھا ہوا ہے۔ یہاں ایک شو کیس میں اس وقت کے کچھ برتن رکھے ہوئے ہیں اور وہاں لکھا ہوا ہے کہ یہ اوریجنل نہیں ہیں بلکہ غالب کے دور میں استعمال ہونے والے برتنوں کے نمونے ہیں۔ یہاں ستم ظریفی کا ایک اعلیٰ ترین نمونہ بھی دیکھنے کو ملا۔ جس شو کیس میں برتن رکھے ہوئے ہیں اسی میں ایک کونے میں حویلی کی صفائی ستھرائی میں استعمال ہونے والا جھاڑو پونچھا بھی رکھا ہوا ہے۔ انجان شخص اس کو دیکھ کر کہیں یہ نہ سمجھ لے کہ وہ بھی غالب کے عہد کے ہیں۔ اس شو کیس کے برابر میں دیوار میں شیشے کی ایک الماری بنی ہوئی ہے جس میں غالب سے متعلق کچھ کتابیں اور کچھ رسالے رکھے ہوئے ہیں۔ کتابیں بہت پرانی ہیں اور انھیں سجانے میں بھی بد سلیقگی سے کام لیا گیا ہے۔ کتابیں اور رسائل گرد سے اٹے ہوئے ہیں۔ یہیں ایک گوشے میں غالب خوب اونچی ٹوپی زیبِ سر کیے ہوئے اور حقے کی نئے تھامے ہوئے دو زانو بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے ایک چھوٹی سی میز اور برابر میں ایک چھوٹا سا پاندان رکھا ہوا ہے۔ پشت کی طرف گاؤ تکیہ ہے۔
جبکہ حویلی میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب کے کمرے میں غالب کا ایک سنگی مجسمہ اونچائی پر نصب ہے اور اس کی دونوں جانب بھی اسٹینڈوں پر دیوان غالب کے نسخے رکھے ہوئے ہیں۔ جن میں ایک نسخے کا جو صفحہ کھلا ہوا ہے اس پر وہ غزل ہے جس کا مطلع ہے: ہم سے کھل جاؤ بوقت مے پرستی ایک دن، ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عذر مستی ایک دن۔ سامنے کے صفحہ پر یہ غزل ہے: آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے، ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔ دوسرے دیوان کا جو صفحہ کھلا ہوا ہے اس پر یہ غزل کتابت کی ہوئی ہے: کوئی امید بر نہیں آتی، کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ حصہ کسی شو کیس میں نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا ہے۔ البتہ سامنے کی جانب ڈوری باندھ کر رکاوٹ کھڑی کر نے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر اس رکاوٹ میں بھی کوئی سلیقہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مجسمہ شاعر، نغمہ نگار اور فلم ساز گلزار کا عطا کردہ ہے۔ یہاں غالب کا ایک انگرکھا بھی لٹک رہا ہے۔ برابر میں ایک بورڈ آویزاں ہے جس پر اردو، ہندی اور انگریزی میں حیات غالب کے چند شخصی پہلو تحریر ہیں۔ اس کے بالمقابل دیوار پر ایک بورڈ اور ایک بڑا سا شو کیس آویزاں ہیں۔ بورڈ پر غالب کی شریک حیات امراؤ بیگم کی اور خود ان کی تصویر ہے اور نیچے امراو¿ بیگم کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ جبکہ شو کیس میں ان کا لباس سجایا ہوا ہے۔ ان تفصیلات کو پڑھنے کا موقع نہیں ملا، کیا پتا ان میں غلطیاں موجود ہوں۔
مجموعی طور پر یہاں کے حالات بد انتظامی اور بد ذوقی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ غالب بڑے اعلیٰ ذوق کے حامل اور نفاست پسند انسان تھے اور عمومیت تو انھیں بہت ناگوار خاطر تھی۔ یہاں تک کہ انھوں نے ایسے وبائی عالم میں جبکہ لوگ مر رہے تھے، مرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن بہر حال یہی کیا کم ہے کہ بعض مداحانِ غالب کی کوششوں سے ان کی حویلی کی بازیافت ہوئی ورنہ یہاں تو لکڑی اور کوئلے کی ٹال ہوا کرتی تھی۔ اردو کے اس زوال آمادہ دور میں وہ لوگ بہر حال مبارکباد کے مستحق ہیں جنھوں نے فردوسی ہند مرزا اسد اللہ خاں غالب کی حویلی کی بازیابی میں اہم رول ادا کیا۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں کے انتظامات بہتر ہوں۔ روشنی کا معقول انتظام کیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ کہ اشعار اور نام میں جو غلطیاں ہیں ان کی تصحیح کی جائے۔ کم از کم یہ کام تو ہر حال میں ہو جانا چاہیے۔
پس نوشت: ہم فلم ساز اور نغمہ نگار گلزار کے بہت قدردان ہیں کہ انھوں نے غالب پر ایک سیرئیل بنایا جس میں غالب کا رول نصیر الدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ اسے 1988 میں دور درشن پر دکھایا گیا جو کہ بہت مقبول ہوا۔ اس کی تمام قسطیں یو ٹیوب پر موجود ہیں۔ نصیر الدین کی اداکاری لاجواب ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں غالب کی روح حلول کر گئی ہے۔ کم از کم ہمیں جب بھی غالب کی یاد آتی ہے تو بھارت بھوشن کا نہیں بلکہ نصیر الدین شاہ کا رول یاد آجاتا ہے۔ حالانکہ 1954 میں سہراب مودی کی بنائی ہوئی فلم ”مرزا غالب“ میں بھارت بھوشن نے غالب کے کردار میں جو اداکاری کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے فلم میں غالب کو زندہ کر دیا ہے۔ وہ فلم تو ہم نے پوری نہیں دیکھی ہے لیکن ٹی وی سیرئیل پورا دیکھا ہے۔ سیرئیل میں ایک مقام ایسا آتا ہے جب بڑی کوفت ہوتی ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ غالب اور ذوق میں چشمک چلتی تھی۔ ذوق آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے۔ غالب جو کہ خود کو ذوق سے بڑا شاعر سمجھتے تھے، اس منصب پر فائز نہیں ہو سکے تھے۔ ذوق کے انتقال کے بعد انھیں یہ منصب ملا تھا۔ ایک بار ذوق کو آتا دیکھ کر غالب نے کہا تھا کہ ”بنا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا“۔ سیرئیل میں جب نصیر الدین شاہ اس مصرعے کو ادا کرتے ہیں تو ”شہ“ کو کھینچ کر ”شاہ“ کہتے ہیں۔ صرف یہیں نہیں بلکہ اس واقعہ کے بعد جب دربار میں مشاعرہ ہوتا ہے اور ذوق کا ایک شاگرد بادشاہ سے مرزا کی شکایت کرتا ہے تو وہ بھی ”شاہ“ کہتا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جب بادشاہ سلامت مرزا سے یعنی نصیر الدین شاہ سے دریافت کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ یہ میری تازہ غزل کے مطلعے کا مصرعہ اولیٰ ہے۔ جب ان سے غزل سنانے کی فرمائش کی جاتی ہے تو اس وقت بھی وہ لفظ شہ کو کھینچ کر ”شاہ“ کہتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ ”بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا“۔ شہ کو بار بار شاہ پڑھنا سماعتوں پر اتنا گراں گزرتا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ کانوں میں انگلی ٹھونس لی جائے۔ حیرت ہے کہ گلزار جیسے اہل زبان نے اس کی تصحیح نہیں کی اور اس بدذوقی کو گوارہ کر لیا۔ نصیر الدین شاہ کو بھی اس تلفظ میں کوئی خامی نظر نہیں آئی۔ ان دونوں کو کم از کم یہی سوچنا چاہیے تھا کہ اس سے غالب کی روح کو کتنی تکلیف پہنچ رہی ہوگی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: a visit to ghalibs haveli | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )