ہند جاپان تعلقات نئی بلندیوں پر

سہیل انجم
گجرات کے شہر احمد آباد میں دو روز تک زبردست گہما گہمی رہی۔ وزیر اعظم نریندر مودی جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے اور ان کی اہلیہ ایکی آبے کی مہمان نوازی میں مصروف رہے۔ بقول نریندر مودی یہ ایک تاریخی موقع تھا۔ تاریخی اس لیے کہ جاپان نے ہندوستان کو بو لیٹ ٹرین کا تحفہ دیا ہے جو وزیر اعظم کے مطابق ہندوستان کو جاپان کا اب تک کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔ بولیٹ ٹرین وزیر اعظم مودی کا ایک خواب ہے۔ انھوں نے شنزو آبے کے ساتھ مل کر سابرمتی میدان میں اس خواب کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اس خواب کی تعبیر 2022 میں سامنے آئے گی۔ ان کے جاپانی ہم منصب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس وقت ہم دونوں ایک بار پھر گجرات آئیں گے اور اس ٹرین کا افتتاح کریں گے۔ اس دوران ٹیلی ویژن چینلوں پر بیشتر پروگرام براہ راست دکھائے گئے۔ انھوں نے اسے ہندوستان کے لیے ایک بہترین موقع قرار دیا۔ وزیر اعظم کے خیال میں بولیٹ ٹرین سے ہندوستان کی شکل و صورت تبدیل ہو جائے گی اور جدید ہندوستان کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
ہندوستان اور جاپان میں بہت قدیم رشتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے رہے ہیں۔ اس پروجکٹ کے بعد یہ رشتے نئی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں۔ بہت سے اخبارات کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے رشتے امن عالم کے لیے بھی بہت مفید ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے بھی ان رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے تعلقات باہمی اور علاقائی دائروں تک محدود نہیں ہیں بلکہ بین الاقوامی امور و معاملات میں بھی ہمارے درمیان تعاون موجود ہے۔ کثیر الاشاعت اخبار ”دی ٹائمز آف انڈیا“ نے اپنے اداریے میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت سے ہندوستان اور خطے میں ترقیاتی منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ گزشتہ برسوں میں ہندوستان کو جا پانی بر آمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔2005 میں یہ برآمدات 22 ہزار 900 کرورڑ روپے تھیں جو 2015 میں بڑھ کر 57 ہزار 800 کروڑ روپے ہو گئی ہیں۔اور آج ہندوستان میں ایک ہزار 305 جاپانی کمپنیوں کی شاخیں موجود ہیں۔ دہلی میٹرو اور دہلی۔ ممبئی صنعتی راہداری جیسے پروجیکٹوں میں جاپان کی موجودہ اور مجوزہ سرمایہ کاری سے ملک میں زبر دست تبدیلی آئی ہے جو مستقبل میں مزید انقلاب کا باعث بن سکتی ہے۔جاپان، ممبئی۔ احمد آباد بولیٹ ٹرین پروجیکٹ کے لئے ایک اعشاریہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی مالی امداد بھی دے رہا ہے۔ اخبار نے اپنے اداریے میں اس پروجیکٹ سے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پروجیکٹ کا موازنہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ چین اپنے پروجیکٹ کے ذریعہ دیگر ایشیائی طاقتوں کو بزور قوت ایک طرف کرتے ہوئے اور اپنے زبردست زر مبادلہ کا استعمال کر کے بیرون ملک معاشی ترقی کا خواہاں ہے۔ جبکہ جا پان اور ہندوستان کثیر قطبی ایشیا کی تعمیر اور ایشیااور افریقہ کی ترقی کے لئے ایک ایسے متبادل ماڈل کی تشکیل کے لئے مل کر کام کر سکتے ہیں جو خود مختاری او رجمہوری اصولوں کے احترام پر مبنی ہو۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بولیٹ ٹرین نے جاپان میں سماجی واقتصادی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان میں بھی اس کی وجہ سے روزگار میں اضافہ ہوگا اور ملک کی پوری معیشت تیز ہو جائے گی۔ آنے والے دنوں میں شہروں کی ترقی ہائی اسپیڈ کوریڈور میں ہوگی۔ ممبئی۔ احمد آباد کے درمیان سنگل اکانامک زون بنے گا۔ اس سے کاروبار کو فروغ ملے گا۔ ملک کونئی رفتار حاصل ہوگی۔ جاپان سے ملنے والی ٹیکنالوجی کو غربت کے خاتمے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بولیٹ ٹرین پروجیکٹ سے میک ان انڈیا کو فروغ حاصل ہوگا۔ تکنیک اگرچہ جاپان سے آئے گی لیکن وسائل ہندوستان کے استعمال کیے جائیں گے۔ انھوں نے ہائی ا سپیڈ ریل ٹریک ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ادارے میں ہندوستان کے نوجوانوں کو ہائی اسپیڈ ریل ٹیکنالوجی کی تربیت دی جائے گی۔ مودی نے کہا کہ اب وقت کا انتظارکرنے کا یا آہستہ آہستہ بڑھنے کا نہیں بلکہ تیزی سے بڑھنے کا وقت ہے۔ 25 برسوں میں ٹیکنالوجی میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ہمیں ترقی کے لیے خود کو ہائی اسپیڈ کرنا ہوگا۔ انہوں نے ملک میں 106 دریاؤں میں آبی گزرگاہوں کی تعمیر، ہوا بازی سے متعلق پالیسی بنانے، مال بردار کوریڈور کی تعمیر کرنے اور 70 چھوٹے ایئر پورٹوں کو کھولنے کے لئے اڑان منصوبہ بندی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نقل و حمل کی مربوط پالیسی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان تمام منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ جاپان کے وزیر اعظم نے اس سے پہلے اپنے خطاب میں ہندوستان میں بولیٹ ٹرین کے خواب کو پورا ہونے کا کریڈٹ مودی کو دیتے ہوئے کہا کہ دو سال پہلے ہی دونوں ممالک نے اس منصوبے کی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور جاپان کے تعلقات 21 ویں صدی کو ایشیا کی صدی بنادیں گے۔
اس موقع پر ہندوستان اور جاپان نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔ بیان میں دونوں ممالک نے دہشت گردی کے مسئلے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔نریندر مودی اور شنزو آبے نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے مجرموں کے خلاف کارروائی کرے اور ان کو سزا دے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پوری دنیا کو شریک ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کا ہر حال میں خاتمہ ہونا چاہیے۔ انھوں نے پاکستان سے سرگرم لشکر طیبہ اور جیش محمد سمیت تمام دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ میں باہمی اشتراک و تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے عالمی برادری سے دہشت گردی، اس کی محفوظ پناہ گاہوں، نیٹ ورکنگ اور فنڈنگ اور دہشت گردوں کی کراس بارڈر آمد و رفت کو ختم کرنے کے سلسلے میں مل کر کام کرنے کی اپیل بھی کی۔ القاعدہ، آئی ایس آئی ایس، جیش محمد اور لشکر طیبہ کے خلاف مشترکہ تعاون کواور مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے سیکیورٹی اور سمندری علاقے میں قزاقوں کے خلاف جنگ کے سلسلے میں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔اس کے علاوہ سمندری ڈاکوؤں سے لڑنے اوردیگر منظم جرائم سے نمٹنے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی میکانیزم بنانے کی بات بھی کہی ہے۔
ممبئی احمد آباد ”ہائی اسپیڈ ٹرین“ دونوں ممالک کے مضبوط ہوتے تعلقات کی علامت ہے۔جاپان کے وزیر اعظم بھی مودی کی ضیافت سے انتہائی خوش نظر آرہے تھے۔ انہوں نے عوام سے خطاب بھی کیا۔”ہیلو“ کرکے خطاب شروع کرنے والے آبے نے کہا کہ انہوں نے اور جاپان کی حکومت اور جاپانی کمپنیوں نے مودی کے”نیو انڈیا“ کے خواب کو پوراکرنے کے لئے مکمل حمایت دینے کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں بولیٹ ٹرین لانے کیلئے مودی کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ دو سال قبل مودی کی وجہ سے ہی اس معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ شنزو آبے کا یہ دورہ ہندوستان کے لیے انتہائی اہم ثابت ہونے والا ہے۔ اگر بولیٹ ٹرین پروجکٹ پر سنجیدگی سے کام کیا گیا اور واقعی اسے رو بہ عمل لایا گیا تو جن علاقوں میں یہ ٹرین دوڑے گی ان کی شکل و صورت تو واقعتاً بدل جائے گی۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ملک کی اصل لائف لائن یعنی روایتی ریلویز کے نظام کو درست کیا جائے۔ مسافروں کو سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ آئے دن ریل حادثات ہوتے رہتے ہیں ان کو روکا جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پر چلیں۔ ان میں کھانے وغیرہ کی کوالٹی میں سدھار کیا جائے۔ نیوز چینلوں پر آئے دن خراب کھانے دکھائے جاتے ہیں اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کس طرح کینٹینوں میں بد نظمی رہتی ہے اور صفائی ستھرائی کا دھیان نہیں رکھا جاتا۔ اگر ان تمام مسائل کو حل کر لیا جائے تو بولیٹ ٹرین ہندوستان کے لیے واقعی ایک زبردست تحفہ ثابت ہوگا۔

Title: the biginning of a new chapter in indo japan ties | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )