ہندوستانی عدلیہ زندہ باد

سہیل انجم
ہندوستانی عدلیہ نے گزشتہ دنوں چند ایسے فیصلے سنائے ہیں جو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان فیصلوں نے عدالتوں اور فاضل ججوں میں عوام کے اعتماد کو ایک بار پھر بحال کیا ہے اور یہ احساس بیدار کیا ہے کہ سیاست داں اپنی اغراض کی تکمیل کے لیے اگر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں گے یا سیاسی مفادات کے لیے و قانون و دستور کو کسی کی لونڈی بنانے کی کوشش کریں گے تو عدلیہ خاموش نہیں رہے گی، جج حضرات چپ چاپ دیکھتے نہیں رہیں گے۔ وہ اٹھیں گے اور اپنا فرض منصبی ادا کریں گے۔ ایک جج یا منصف کا کام ہے کہ وہ انصاف کو ہر حال میں برقرار رکھے اور اگر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس کو قانون کی طاقت کے ذریعے ناکام بنا دے۔ شکر ہے کہ ہندوستانی عدلیہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں بیدار ہے اور اس پر یہ الزام عاید نہیں کیا جا سکتا کہ وہ حکومت یا کسی اور طاقت کے دباو¿ میں کام کرتی ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عدالتیں آزاد ہوتی ہیں۔ وہ حکومت کے زیر اثر کام نہیں کرتیں۔ جو مبنی بر انصاف ہوتا ہے وہی فیصلے سناتی ہیں۔ تازہ معاملہ پاکستان میں پیش آیا تھا جب ایک مشترکہ جانچ ٹیم کی رپورٹ کے بنیاد پر وہاں کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کا نااہل قرار دیا اور انھیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اس فیصلے کی بڑے پیمانے پر ستائش ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ پاکستانی عدلیہ نے اس کے ساتھ ایک تاریخ رقم کی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف نے اپنے اوپر عاید الزامات کی تردید کی اور اب بھی کرتے ہیں لیکن بہر حال ان کو اپنے عہدے سے ہٹ جانا پڑا۔ دیگر ملکوں میں بھی بالخصوص یوروپی ملکوں میں عدالتوں نے ایسے فیصلے سنائے ہیں جن کی عالمی سطح پر ستائش ہوئی ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ ہندوستانی عدلیہ بھی عام طور پر انصاف سے کام لیتی ہے۔ ہاں کبھی کبھار وہ رائے عامہ سے یا حکومتی موقف سے متاثر ہو جاتی ہے اور اکثریتی جذبات و احساسات کی روشنی میں فیصلے سناتی ہے۔ اس بارے میں بابری مسجد کی مثال پیش کی جا سکتی ہے۔ مسجد میں تالا ڈالنے سے لے کر تالا کھولنے، اس میں پوجا کرنے، اس کے انہدام کے بعد وہاں عارضی مندر کے قیام اور پھر بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے تک کے فیصلوں میں اکثریتی جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ رکھا گیا۔ لیکن مجموعی طور پر یہاں کی عدالتیں آزاد ہیں اور وہ وہی فیصلہ سناتی ہیں جو قانون کی رو سے برحق ہو۔
گزشتہ دنوں تین ایسے فیصلے آئے ہیں جن کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ پہلا فیصلہ طلاق ثلاثہ سے متعلق تھا۔ جس میں ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے اسے کالعدم قرار دے دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ اس نے مذہبی معاملات میں مداخلت سے انکار بھی کیا۔ اس نے طلاق ثلاثہ کو قرآن اور حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دیا۔ دوسرا فیصلہ پرائیویسی یا نجی معاملات کو راز میں رکھنے سے متعلق ہے۔ عدالت کی 9 رکنی بینچ نے اتفاق رائے سے اپنے فیصلے میں کہا کہ پرائیویسی کا حق اسی طرح بنیادی حق ہے جس طرح جینے کا حق ہے۔ اس نے دستور کی دفعہ 21 کے تحت اسے شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا۔ اس فیصلے کو انتہائی دور رس قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔ اسے آدھار کارڈ کے سلسلے میں بھی ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔ آدھار کارڈ کے ذریعے ایک شہری کی جو تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں ان کے بارے میں بار بار یہ اندیشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ وہ راز میں نہیں رہ پائیں گی اور وہ عالمی ایجنسیوں کو فراہم کر دی جائیں گی۔ خود حکومت کے سابق داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی نے کہا ہے کہ جو لوگ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں ان میں سے چالیس فیصد لوگوں کی ذاتی اور نجی تفصیلات امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور دیگر ایجنسیوں تک پہنچ گئی ہیں۔ اس لحاظ سے اس فیصلے کو بہت اہم اور شہریوں کی نجی تفصیلات کے تحفظ کے بارے میں تاریخی قرار دیا جا رہا ہے۔ تیسرا فیصلہ متنازعہ بابا گورمیت رام رحیم سنگھ کے بارے میں ہے جسے عصمت دری کے دو معاملات میں بیس سال کی قید اور تیس لاکھ روپے جرمانہ سنایا گیا ہے۔
مذکورہ تینوں فیصلے انتہائی اہم اور دور رس نتائج کے حامل ہیں۔ گورمیت رام رحیم سنگھ کو تو صرف گورمیت سنگھ ہی کہنا چاہیے رام رحیم نہیں۔ کیونکہ اس کے اندر نہ تو رام کے اوصاف ہیں اور رحیم کے اوصاف کا ہونا تو ناممکن ہی ہے۔ رحیم اللہ تعالی کے 99 صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ لوگ عبد الرحیم تو ہو سکتے ہیں بذات خود رحیم نہیں ہو سکتے۔ کسی کو رحیم کہنا شرک ہے۔ اگر کسی کا نام عبد الرحیم ہے تب بھی اسے صرف رحیم کے نام سے بلانا غلط ہے۔ دراصل گورمیت سنگھ نے اپنے نام کے ساتھ رام اور رحیم کا لاحقہ اس لیے لگایا تھا تاکہ سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے میں آسانی ہو۔ گورمیت سنگھ کے بارے میں اب جو کچھ انکشاف ہو رہا ہے وہ کوئی انہونی نہیں ہے۔ اس قسم کے آشرم چلانے والے عام طور پر یہی کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے نام نہاد گرو قانون کی گرفت میں آچکے ہیں جو عوام کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرکے اپنا دھندہ چلاتے ہیں۔ متعدد گرو جیلوں میں بند ہیں اور کئی کے خلاف کارروائی چل رہی ہے۔ کیا کوئی آسا رام کو بھول سکتا ہے۔ کوئی رام پال کو بھول سکتا ہے۔ کوئی نرمل بابا کو بھول سکتا ہے۔ جنوب میں بھی ایسے کئی نام نہاد سادھو ہیں جن پر خواتین کے جنسی استحصال کا الزام لگ چکا ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے فریبیوں اور ڈھونگیوں کو سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل رہتی ہے۔ ان دھوکے بازوں کے چرنوں میں سجدہ کرنے والے سیاست داں کسی ایک پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔ بیشتر پارٹیوں کے لیڈران ان کے قدموں میں جھکتے ہیں اور ان سے آشیرواد لیتے ہیں۔ یہ کوئی نیا معاملہ بھی نہیں ہے۔ ہندوستان میں اس قسم کے سادھووں اور گرووں کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کا سلسلہ ملک کی آزادی کے کچھ دنوں کے بعد ہی چل پڑا تھا۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ چونکہ ان کے پیروکار بڑی تعداد میں ہوتے ہیں اس لیے سیاسی پارٹیاں ووٹ کے لالچ میں ان کو چھوٹ دیتی رہتی ہیں۔ ان نام نہاد آشرموں میں کیسے کیسے جرائم پرورش پاتے ہیں اس کے بارے میں بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سب عام طور پر اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
گورمیت سنگھ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے لیڈروں نے جو کہ کئی سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں، اس کو سیاسی پناہ دے رکھی تھی۔ اس نے بھی اپنی طاقت پہچان لی تھی اس لیے انتخابات کے دنوں میں وہ اپنے عقیدت مندوں کو کسی ایک خاص جماعت یا لیڈر کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتا تھا۔ چونکہ اس کی اپیل کئی نشستوں پر اثرانداز ہوتی رہی ہے اس لیے کئی پارٹیاں اس کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگی رہتی تھیں۔ یہاں تک کہ جب دو سادھویوں کی عصمت دری کے معاملے میں اسے عدالت میں پیش ہونا تھا تو اس وقت بھی اس کو اور اس کے ماننے والوں کو پوری طرح چھوٹ دی گئی اور پھر ہریانہ اور پنجاب میں کس طرح تباہی مچی اور جان و مال کا نقصان ہوا اس سے پوری دنیا واقف ہو چکی ہے۔ سیاسی سرپرستی اور گورمیت کی طاقت کی وجہ سے ہی یہ معاملہ پندرہ سال تک چلتا رہا اور اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ اس معاملے کی جانچ کرنے والے افسر پر زبردست دباو¿ ڈالا جاتا رہا۔ لیکن اس نے کوئی دباو¿ قبول نہیں کیا اور اپنی جانچ مکمل کی۔ اسی طرح ایک صحافی کو حق گوئی کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔
لیکن قابل مبارکباد ہیں سی بی آئی کے خصوصی جج جگدیپ سنگھ جنھوں نے ہر قسم کے دباو¿ کو نظرانداز کیا اور گورمیت سنگھ کو بیس سال کی سزا سنائی۔ ان کا فیصلہ سنانا آسان نہیں تھا۔ ان کو بھی اپنی جان کا خطرہ تھا اور اب بھی ہے۔ لیکن انھوں نے انصاف کو سربلند کرنے کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالی اور گورمیت سنگھ کو مجرم قرار دیا۔ اس کے بعد پنچکولہ اور دوسرے مقامات پر گورمیت کے حامیوں نے جو طوفان برپا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ 38 افراد کی جانیں چلی گئیں۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ جج ڈر جائیں اور سزا نہ دیں۔ لیکن جج پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایسے جج کو بار بار سلام کرنے کو جی چاہتا ہے کہ جس نے اپنی زندگی کی کوئی پروا نہیں کی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے سب کچھ برداشت کیا۔ بحث کے دوران ان کو بتایا گیا کہ گورمیت سنگھ ایک سماجی کارکن بھی ہے اور وہ بہت سے فلاحی کام بھی کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ رعایت کی جائے۔ اس نے خود دست بستہ جج سے معافی کی درخواست کی۔ لیکن جج نے بڑی جرا¿تمندی سے کہا کہ تم کو لوگوں نے بھگوان سمجھا اور تم نے شیطانوں کی حرکت کی۔ تم جنگلی اور وحشی جانورں کی مانند ان خواتین پر ٹوٹ پڑے جو تمھیں پتا سمان مانتی تھیں۔ جج نے اس کے ساتھ بجا طور پر کوئی رو رعایت نہیں کی اور حکومت اور خود گورمیت کی طاقت سے مرعوب ہوئے بغیر اس کے خلاف فیصلہ سنایا تاکہ انصاف کو سربلند کیا جا سکے۔ یقیناً انھوں نے بڑی جرا¿ت سے کام لیا۔ ورنہ وہ بھی تاریخ دے کر نکل جاتے کوئی ان کا کیا بگاڑ لیتا۔ لیکن نہیں۔ انھوں نے انسانیت کو زندہ رکھنے اور متاثرہ خواتین کی عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے مذکورہ فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں یقیناً سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: long live independent indian judiciary | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )