طلاق ثلاثہ، ہندوستانی عدلیہ اور ہم

سہیل انجم
طلاق ثلاثہ پر عدالت عظمیٰ کی پانچ ججوں کی بنچ کا تاریخی فیصلہ آچکا ہے جس کی اپنے اپنے انداز میں تشریح کی جا رہی اور جس پر اپنے اپنے انداز میں رائے زنی جاری ہے۔ تین دو کی اکثریت سے آنے والے فیصلے میں بیک نشست تین طلاق کو غیر اسلامی، غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کر دیا گیا ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس عبد النذیر نے اپنی اقلیتی رائے رکھتے ہوئے طلاق ثلاثہ کو اسلامی شریعت کا حصہ قرار دیا۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی جانی چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دوران اس سلسلے میں ایک قانون وضع کرکے اسے ختم کر دے۔ لیکن باقی تین ججوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور انھوں نے اکثریتی رائے کے ساتھ طلاق ثلاثہ کو سرے سے ختم کر دیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا اس میں پانچ مذاہب کے جج حضرات تھے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر سکھ ہیں، جسٹس کورئین جوزف عیسائی، جسٹس آر ایف نریمن پارسی، جسٹس یو یو للت ہندو اور جسٹس عبد النذیر مسلمان ہیں۔ شاید ایسی بینچ اس لیے بنائی گئی تاکہ دنیا کو یہ بتایا جا سکے کہ جو بھی فیصلہ آیا ہے اس کو قانونی انداز میں پرکھا گیا ہے اور وہ خالص انصاف پر مبنی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طلاق ثلاثہ کی مخالفت کرنے والوں نے بھی اس کا خیرمقدم کیا اور حمایت کرنے والوں نے بھی۔ وہ پانچ مطلقہ مسلم خواتین خوش ہیں جنھوں نے بیک نشست تین طلاق کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا وہیں خواتین کی لڑائی لڑنے والا مسلم مہیلا آندولن بھی جوش و خروش میں مبتلا ہے۔ حکومت نے بھی اس کا بھرپور انداز میں استقبال کیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے سر اس کا سہرا باندھا جار ہا ہے۔ سب سے مزےدار بات یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی فیصلے کو اپنے حق میں قرار دیا ہے اور اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ مسلم سیاست دانوں اور مذہبی علما کی جانب سے بھی اپنی اپنی رائے رکھی جا رہی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس فیصلے سے سنگھ پریوار کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے اور یکساں سول کوڈ کے قیام کا راستہ بند کر دیا ہے۔ وہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب یکساں سول قانون کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ اسی کے ساتھ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پر بھی انگشت نمائی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر بورڈ نے درست انداز میں اپنا موقف رکھا ہوتا تو عدالت ایسا فیصلہ نہیں سناتی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عدالت میں بورڈ سے غلطیاں ہوئی ہیں جس کا خمیازہ اب تمام مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔ بورڈ کو ہدف تنقید بنانے والوں میں سرکرہ علما اور مسلم شخصیات بھی شامل ہیں۔ کچھ لوگوں نے بورڈ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بورڈ کو مبارکباد پیش کر رہے ہیں اور ”بہتر انداز“ میں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے اس کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ گویا جتنے منہ اتنی باتیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس ہاتھی کی مانند ہے جو اندھوں کے بیچ میں آگیا تھا اور وہ ہاتھی کے جسم کے مختلف حصوں پر ہاتھ پھیر پھیر کر اپنی اپنی فہم کے مطابق اس کی تشریح کر رہے تھے۔
در اصل طلاق ثلاثہ کا معاملہ ایسا معاملہ تھا ہی نہیں کہ اسے عدالت میں لے جایا جاتا۔ یہ صرف اور صرف مسلمانوں کے درمیان کا معاملہ تھا اور اسے مسلمانوں کو ہی حل کرنا چاہیے تھا۔ بورڈ کی یہ بات درست تھی کہ اس میں عدالت اور حکومت کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ لیکن بورڈ نے اسے عدالت میں جانے سے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اور جب یہ معاملہ آئینی بینچ کے سامنے پیش ہوا اور اس پر بحث اور جرح ہوئی تو یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ بورڈ کے وکلا نے بہتر انداز میں پیروی نہیں کی۔ بورڈ کے کلیدی وکیل کپل سبل نے طلاق ثلاثہ کو آستھا کا معاملہ بتا دیا جس پر بہت سے لوگوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جب بابری مسجد کے بارے میں عدالت کا فیصلہ آئے گا تو اس کا حوالہ دے کر رام مند رکے حق میں فیصلہ سنایا جائے گا۔ بورڈ نے آخری مرحلے میں طلاق ثلاثہ کو مذموم تو قرار دیا لیکن اسے برقرار رکھنے پر بھی اصرار کیا۔ البتہ جب بورڈ نے عدالت کا رخ اپنے خلاف دیکھا تو اس نے کہا کہ وہ طلاق ثلاثہ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کی مہم چلائے گا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے اپنے موقف پر زور دینے کے لیے فیصلہ کیا کہ جو کوئی بھی شخص ایک نشست میں تین طلاق دے گا اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس پر بہت سے لوگوں نے سوال کیا کہ اس دور میں کیا کسی کا سماجی بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے اور اگر کیا جاسکتا ہے تو کس طرح۔ یعنی اس فیصلے کو کس قوت کی بنیاد پر نافذ کرایا جائے گا۔ اس طرح بورڈ کے اس فیصلے کو حمایت کم اور نکتہ چینی زیادہ ملی۔
جہاں تک ایک نشست کی تین طلاقوں کے واقع ہو جانے کا معاملہ ہے تو مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر ایسا نہیں مانتے۔ مثال کے طور پر مسلک اہلحدیث اور اہل تشیع کے یہاں ایک نشست میں تین طلاقیں ایک ہی مانی جاتی ہیں تین نہیں۔ البتہ حنفی مسلک میں اسے تین مان لیا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہونے سے قبل دہلی میں بورڈ کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی جس میں بہت سے لوگوں نے یہ رائے رکھی تھی کہ ہم مسلک اہلحدیث کے موقف کو اگر اختیار کر لیں تو عدالت کو اس معاملے میں پڑنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ یعنی اگر ہم عدالت میں یہ کہہ دیں کہ ہم ایک نشست کی تین طلاقوں کو ایک ہی مانتے ہیں اور اس قرآنی اصول کے حامی ہیں کہ طلاق دینی اگر ضروری ہی ہو جائے تو تین ماہ میں دی جائے اور اس درمیان مصالحت کی کوشش کی جائے۔ لیکن میٹنگ میں شامل بعض شرکا نے بتایا کہ بورڈ کے کچھ ذمہ داروں نے اسے سرے سے مسترد کر دیا۔ ان ذمہ داروں نے ”اپنی انا کی تسکین“ کے لیے مسلک اہلحدیث کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ورنہ اگر بورڈ نے عدالت میں کہہ دیا ہوتا کہ ہم تین طلاقوں کو ایک ہی مانتے ہیں تو یہ نوبت نہیں آتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے حنفی علما کا رویہ یہ ہے کہ جب ان کے پاس غصے میں تین طلاق دینے والا کوئی مسلمان پہنچتا ہے اور اظہار افسوس کرتے ہوئے ان سے مسئلہ پوچھتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ حنفی مسلک میں تو تین طلاق واقع ہو گئی لیکن تم اہلحدیث عالم یا مفتی کے پاس جاو¿، ان کے یہاں یہ ایک ہی طلاق مانی جائے گی۔ اس طرح تمھیں وہاں سے فتویٰ مل جائے گا۔ خود دہلی میں مفتی عتیق الرحمن عثمانی ایسے لوگوں کو مدرسہ ریاض العلوم بھیج دیا کرتے تھے جہاں سے ان کو فتوے مل جایا کرتے تھے۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ آپ بھی مسلک اہلحدیث کے موقف کو درست مان رہے ہیں۔ اگر حنفی علما یہ بات تسلیم کرتے ہیں تو انھوں نے ملت کو ایک ذہنی انتشار سے بچانے کے لیے اسی موقف کو کیوں نہیں اختیار کر لیا اور عدالت میں کیوں نہیں کہا کہ ہم ایک نشست کی تین طلاقوں کو ایک ہی مانتے ہیں۔
بہت سے سرکردہ لوگوں نے اس کا حوالہ دیا ہے اور کھل کر کہا ہے کہ اگر بورڈ نے یہ موقف اختیار کیا ہوتا تو ملت ایک ذہنی اضطراب سے بچ جاتی۔ اس بارے میں دہلی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری کا موقف خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو چاہیے تھا کہ وہ شروع ہی میں طلاق ثلاثہ کے معاملے پر ایک اجتماعی رائے قائم کرتا اور مسلک اہلحدیث کے افراد کو بھی ساتھ میں لیتا اور عدالت میں کہتا کہ ایک نشست میں تین طلاق خلاف شرع ہے۔ اگر اس نے سپریم کورٹ میں ایسا حلف نامہ داخل کیا ہوتا تو آج اس کو فیصلہ سنانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آج نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اجتہاد کا نہیں۔ بورڈ کے ذمہ داروں کو اجتہاد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور عدالت عظمیٰ کو صحیح صورت حال بتانی چاہیے تھی۔ انھوں نے بورڈ پر دوہرا موقف اختیار کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ بورڈ کے وکلا نے عدالت میں بحث کے دوران کہا کہ ایک نشست میں تین طلاق دینا گناہ ہے۔ دوسری طرف انھوں نے اسے برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔ جب کوئی عمل گناہ ہے تو وہ شریعت کا حصہ کیسے ہو سکتا ہے۔اس دوہرے موقف کی وجہ سے ہی ملت کو آج یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔ انھوں نے بورڈ کے بعض عہدے داروں اور ممبران کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان پر الزام عاید کیا کہ انھوں نے بورڈ کو ہائی جیک کر لیا ہے۔ انھوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کی خاطر سازشیں رچیں اور معاملے کو یہاں تک پہنچایا۔ بورڈ نے آخری مرحلے میں آکر طلاق ثلاثہ کو خلاف شرع قرار دیا، اگر اس نے پہلے ہی یہ بات عدالت میں کہی ہوتی تو یہ نوبت نہیں آتی۔ ان حالات کی وجہ سے آج بورڈ کی بھی اپنی کوئی وقعت نہیں رہ گئی ہے۔ اغیار کو بھی موقع مل گیا ہے، ان کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں اور وہ اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ کیا الگ الگ مسلک کے مسلمانوں کی شریعت الگ الگ ہے۔ کیا سب ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن کے ماننے والے نہیں ہیں۔
جہاں تک فیصلے کا تعلق ہے تو سیاسی عزائم رکھنے والی بعض مذہبی شخصیات نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے خلاف شریعت قرار دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کے معاملات سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ وہ سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے اس قسم کے حربے اختیار کرتے ہیں۔
عدالتی فیصلہ در اصل بہت اچھا ہے۔ فیصلہ آنے سے قبل جو اندیشے ظاہر کیے جا رہے تھے وہ سب معدوم ہو گئے ہیں۔ فاضل ججوں نے جہاں طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دیا ہے وہیں انھوں نے اس بات کا لحاظ بھی رکھا ہے کہ اس کی آڑ میں حکومت اسلامی شریعت میں مداخلت کی کوشش نہ کرے۔ عدالت نے مسلمانوں کے پرسنل لا کا تحفظ بھی کیا ہے۔ جہاں تک چھے ماہ تک پابندی لگانے اور پھر قانون سازی کرنے کا سوال ہے تو اب یہ بات ختم ہو گئی۔ کیونکہ یہ اقلیتی رائے تھی ۔ اکثریتی رائے نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور تین طلاقوں کو غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دے کر ختم کر دیا۔ گویا اب حکومت کو قانون بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں جو کوئی ایک نشست میں تین طلاق دے گا وہ توہین عدالت کرے گا۔ اگر اب کوئی تین طلاق یافتہ خاتون عدالت سے رجوع کرے تو مذکورہ شخص کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلے گا اور اسے سزا ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی قانونی طور پر تین طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ویسے مسلمانوں میں تین طلاق کی شرح کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔ ہاں اسے بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ لیکن بہر حال جہالت کی وجہ سے بہت سے لوگ ایک نشست میں تین طلاق دے دیتے ہیں۔ بہت سے واٹس ایپ، ای میل، میسیج یا دوسرے ذرائع اختیار کرکے طلاق طلاق طلاق بول دیتے ہیں۔ وہ مصالحت کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتے۔
جن پانچ خواتین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ان کے معاملات پر ایک نظر ڈال لینے سے صورت حال اور واضح ہو جاتی ہے۔ 36 سالہ شاعرہ بانو کو اس کے شوہر نے شادی کے پندرہ سال بعد دبئی سے تین طلاق لکھ کر بھیج دیا تھا۔ گلشن پروین کی شادی 2013 میں ہوئی تھی، اس کے ایک بیٹا ہے۔ اس کے شوہر نے اسٹیمپ پیپر پر طلاق لکھ کر بھیج دیا۔ عطیہ صابری کی شادی 2012 میں ہوئی تھی۔ اس کے شوہر نے کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیج دیا تھا۔ آفرین پروین کو اسپیڈ پوسٹ سے طلاق نامہ ملا۔ گویا ایک بھی کیس میں وہ اسلامی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جس کاقرآن میں حکم ہے۔ لیکن اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد کوئی تین طلاق نہیں ہوگی۔ فیصلے کے اگلے روز ہی میرٹھ میں طلاق ثلاثہ کا معاملہ سامنے آگیا۔ متاثرہ خاتون نے پولیس میں اس کی شکایت کی ہے اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان معاملات میں عدالتی کارروائی کیسے چلتی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اس فیصلے سے ان مطلقہ خواتین کو کیا ملا جنھوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ کیا یہ فیصلہ ان کے زخموں پر کوئی مرہم رکھتا ہے۔ یا انھیں نان و نفقہ دینے کا حکم سابقہ شوہروں کو دیتا ہے۔ یا ان کے شوہروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی وکالت کرتا ہے۔ بظاہر اس فیصلے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ گویا عدالت میں جانے والی خواتین کو کچھ نہیں ملا سوائے ذہنی تسکین کے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ عدالت کا معاملہ تھا ہی نہیں۔ یہ صرف اور صرف مسلمانوں کا معاملہ تھا۔ طلاق ثلاثہ کی برائی کو ملت کے ذمہ داروں کو ہی دور کرنا ہوگا۔ لیکن ملت کے ٹھیکیداروں کے رویے کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ رخ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر انھوں نے مسلم خواتین کو قرآن و حدیث کے مطابق ان کے حقوق دلوانے کے سلسلے میں کوئی مثبت پہل نہیں کی تو آگے ہمیں مزید رسوائیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
(ادارہ کامضمون نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Title: triple talaq indian courts and muslim istitutions | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )