نہ گالی سے نہ گولی سے….

سہیل انجم
جموں و کشمیر میں گزشتہ سال جون میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ایک انکاونٹر میں ہلاکت کے بعد سے وادی میں کشیدگی ہے۔ خون خرابے کا دور ہے۔ کشمیری نوجوانوں اور پولیس اور سیکورٹی فورسز میں ٹکراؤ اور تصادم کی کیفیت ہے۔ سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کی ایک مہم چلا رکھی ہے اور حکومت کے ذرائع کے مطابق اس مہم کے دوران بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت بھی کم نہیں ہے۔ بہت سے نوجوان پیلٹ گنوں کے شکار بنے ہیں۔ ان میں سے کئی اپنی آنکھوں کی روشنی کھو بیٹھے ہیں۔ اسی درمیان کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والی دفعات 370 اور 35Aکو ختم کرنے پر بھی بحث شروع ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس بارے میں ایک عرضداشت پر سماعت جاری ہے۔ کشمیری علاحدگی پسندوں کی فنڈنگ کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔ این آئی اے کی جانب سے سید علی شاہ گیلانی سمیت کئی رہنماؤں کے گھروں اور دفتروں پر چھاپے ڈالے گئے ہیں۔ علاحدگی پسند کشمیری رہنما شبیر شاہ کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان حالات میں وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ بیان کہ ”نہ گالی سے کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا نہ گولی سے، مسئلہ کشمیر حل ہوگا کشمیریوں کو گلے لگانے سے“ مایوسی اور ناامیدی کی تاریکی کی ایک امید کی کرن کی طرح نظر آتا ہے۔
حالانکہ مودی کے بہت سے نکتہ چینوں نے اس بیان پر بھی نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ صرف کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوگا عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ جبکہ ایک بہت بڑا حلقہ ہے جس نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہاں تک کہ کشمیر کے علاحدگی پسند رہنماؤں نے بھی اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ اعتدال پسند حریت کانفرنس کے قائد میر واعظ عمر فاروق نے بھی خیرمقدم کیا۔ انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا ”خیر مقدم۔ نریندر مودی بھی سمجھتے ہیں کہ گولی اور گالی کشمیر کے مسئلے کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتیں۔ اگر انسانیت اور انصاف ان کی جگہ لیتے ہیں توحل ایک حقیقت بن جائے گا“۔ میر واعظ نے یہ بھی کہا کہ بنیادی طور پر بھارتی وزیر اعظم نے جو کہا ہے کہ گولی یا گالی سے بات نہیں بنے گی وہ صحیح ہے۔ ہم طویل عرصے یہ کہتے چلے آئے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اسے طاقت ، تشدد اور فوجی قوت سے حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہم یہی توقع رکھتے ہیں کہ اگر انسانی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسے حل کرنے کے لئے تمام فریقوں کے درمیان ٹھوس بات چیت شروع کی جاتی ہے تو آگے بڑھنے کے لئے راہ ہموار ہو جائے گی۔
ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو صرف پر امن طور پر افہام و تفہیم کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ سرینگر میں یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ ایک پریڈ سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے15 سال پہلے یہ نعرہ لگایا تھا – ”بندوق سے نہ گولی سے، بات بنے گی بولی سے‘- (در اصل مفتی سعید نے کہا تھا کہ گرینیڈ سے نہ گولی سے بات بنے گی بولی سے)۔ محبوبہ نے کہا کہ یہ نعرہ آج بھی اتنا ہی اہم اور برمحل ہے جتنا اس وقت تھا۔ انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بحال ہوگا اور کشمیر اور دوسرے دو طرفہ مسائل اور امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ اور پر خلوص کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اگر امریکہ جیسا بڑا اور طاقتور ملک شمالی کوریا کے ساتھ معاملات کو ڈائیلاگ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے تو ہندوستان اور پاکستان کو کون سی چیز ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر عمر عبد اللہ نے بھی مودی کے بیان کا خیر مقدم کیا۔ لیکن انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ بیان بازی کی نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ”کشمیر پر وزیر اعظم مودی کے الفاظ کا لوگوں نے خیر مقدم تو کیا ہے لیکن یہاں ہر ایک اس طرح کی بیان بازی سے اکتا گیا ہے۔ کیونکہ ٹھوس اقدامات کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ مٹھائی کی عمدگی کی دلیل اس کے کھانے میں ہے۔ ہمیں تفہیم ، قبولیت اور احترام کی گرم گرفت کے ساتھ گلے لگائے جانے کا انتظار رہے گا“۔ ہندوستان کی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے بھی اس کو بہت اچھا بیان قرار دیا ہے اور امید کی ہے کہ مذاکرات سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر اعظم کے بیان سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ طاقت سے مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک حکومت ہند کا سوال ہے تو اس کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پرامن مذاکرات کی مدد سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس نے بات چیت کا سلسلہ شروع بھی کیا تھا۔ کشمیر کے لیڈروں کے ساتھ بھی اور پاکستان کے ساتھ بھی۔ حکومت علاحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ بھی مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن اس تعلق سے اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ اگر ہندوستانی آئین و دستور کے دائرے میں رہ کر بات کریں تب بات ہوگی۔ بات مناسب بھی ہے۔ جب آپ لوگ ہندوستان کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ پاسپورٹ پر غیر ملکی دورے کرتے ہیں تو ہندوستان کے آئین کے دائرے میں رہ کر بات کرنے میں کیا مضائقہ ہے۔ جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو اس سے بھی اس مسئلے پر کئی بار بات ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ جب پرویز مشرف پاکستان کے صدر تھے اور اٹل بہاری واجپئی ہندوستان کے وزیر اعظم تھے تو آگرہ میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں ایک فارمولے پر دونوں کا اتفاق بھی ہو گیا تھا۔ لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ مشرف واپس پاکستان چلے گئے۔ جبکہ اس وقت ایک اعلانیہ بھی جاری کیا گیا تھا۔ لیکن معاملہ خراب ہو گیا۔
اس سے قبل بھی مسئلہ کشمیر کو شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلانیہ کے تحت حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں نے اپنے ان دونوں معاہدوں کے تحت یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسے انہی کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔ لیکن پاکستان یہ بھی اصرار کرتا رہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی روشنی میں حل کیا جائے اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا موقعہ دیا جائے۔ جبکہ حکومت ہند کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد فرسودہ ہو گئی ہے۔ وہ بہت پہلے وجود میں آئی تھی۔ اس کے بعد شملہ سمجھوتہ اور لاہور اعلانیہ وجود میں آگئے۔ اس لیے اقوام متحدہ کی قرارداد پرانی ہو گئی۔ لیکن پاکستان اور کشمیر کے علاحدگی پسند رہنما اقوام متحدہ کی قرارداد کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن بہر حال اس سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ اس مسئلے کو بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح حل کیا جانا چاہیے۔ واقعہ یہ ہے کہ کچھ طاقتوں نے معاملے کو الجھا دیا ہے جسے بہر حال سلجھانا ہوگا۔ اور کسیے یہ معاملہ سلجھے گا اس کا واضح اعلان نریندر مودی نے تاریخی لال قلعہ کی فصیل سے کر دیا ہے۔ ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیر اعظم اس اعلان کو عملی جامہ پہنائیں۔ اس سے قبل جب وہ سری نگر گئے تھے دیوالی منانے تو اس وقت بھی انھوں نے کہا تھا کہ وہ کشمیریوں کے دل جیتنے آئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دلوں کو جیتنے کی کوشش کی جائے۔ وادی میں کشیدگی کا جو ماحول ہے اسے ختم کیا جائے۔
جہاں تک سابقہ حکومتوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کو روزگار سے جوڑنے کے منصوبے بنائے گئے۔ ان کی تعلیمی فروغ کے پروگرام چلائے گئے۔ یہاں تک کہ نیم مسلح دستوں میں ان کی بھرتی کے کیمپ بھی لگائے گئے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیری عوام کی اکثریت نے ان پروگراموں اور اسکیمو ںکا کھلے دل سے خیرمقدم کیا اور ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک بار پھر ان اسکیموں کو زندہ کیا جائے اور کشمیری عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ حکومت ان کے مسائل کے تئیں سنجیدہے اور وہ انھیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسے چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ بھی مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے تاکہ وادی میں خون خرابے کا جو ماحول ہے اسے ختم کیا جائے اور وہاں کے عوام کو پرامن زندگی جینے کے مواقع ملیں۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: neither with bullet nor by abuses | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )