کانگریس کا وجود داؤ پر!

سہیل انجم
عام طور پر جمہوری حکومتوں میں حزب اختلاف کی وجہ سے سیاسی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ حزب اختلاف یا اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی کارگزاریوں کا محاسبہ کیا جاتا ہے اور جو فیصلے یا جو پالیسیاں اپوزیشن کو ناپسند ہوتی ہیں ان کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ یہاں پارلیمنٹ اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت چلانے میں بھی اپوزیشن کا بڑا کردار رہتا ہے۔ اگر اپوزیشن مضبوط ہو تو وہ حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ کمزور ہو یا اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا اہل نہ ہو تو پھر حکومت من مانی کرتی ہے اور جو چاہتی ہے وہ فیصلے کرتی اور کارروائیاں انجام دیتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے بھی ایک مضبوط اپوزیشن کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اگر کسی جمہوری ملک میں اپوزیشن نہ ہو یا بہت کمزور ہو تو جمہوریت کے آمریت کا لبادہ اوڑھ لینے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
اس وقت ملک میں سیاسی سرگرمیاں زور شور سے جاری ہیں۔ اصولاً تو ہونا یہ چاہیے کہ یہ سرگرمیاں اپوزیشن کے دم سے ہوں لیکن اگر ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ یہ ساری سرگرمیاں اپوزیشن نہیں بلکہ حکمراں محاذ کے دم سے ہیں، اس کے وجود کی مرہون منت ہیں۔ اپوزیشن تو ایسا لگتا ہے کہ یا تو ختم ہو چکا ہے یا بے دم ہو گیا ہے۔ اس کے اندر شاید اتنی قوت نہیں رہ گئی ہے کہ وہ حکمراں محاذ کے داؤ جھیل سکے یا اس کو کوئی جواب دے سکے۔ پارلیمنٹ کی کارروائی ہو یا پارلیمنٹ کے باہر کے بیانات و اقدامات ہوں، ہر جگہ اپوزیشن پسپا نظر آتا ہے۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں راجیہ سبھا کے انتخابات مکمل ہوئے ہیں۔ جہاں سے بی جے پی کے صدر امت شاہ اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کامیاب ہوئی ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ احمد پٹیل کی سیٹ کے لیے کیا کیا ہنگامے ہوئے اور کیسی کیسی چالیں چلی گئیں اس سے پورا ملک واقف ہے۔ جہاں حزب اقتدار کی جانب سے احمد پٹیل کی شکست کو یقینی بنانے کے تمام تر اقدامات کیے گئے وہیں کانگریس کی جانب سے اس سیٹ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا گیا۔ اس مقابلہ آرائی نے دو باتیں ثابت کر دیں۔ ایک تو یہ کہ ملک کی اصل اپوزیشن جماعت کانگریس کے لیے آئندہ بھی حالات بہتر ہونے والے نہیں ہیں۔ اس کو اپنا وجود بچائے رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑے گا۔ دوسری بات یہ کہ اگر وہ آج بھی سنجیدگی اور پوری طاقت کے ساتھ حوصلہ ہارے بغیر جد و جہد کرے تو وہ قومی سیاست کے منظرنامہ پر دوبارہ واپس آسکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کا جس سے مقابلہ ہے اس کی طاقت کو سامنے رکھ کر اپنی طاقت میں اضافہ کرے اور اس کی جانب سے جس قسم کی چالیں چلی جاتی ہیں اسی قسم کی چالیں چل کر اس کو مات دینے کی کوشش کرے۔ اسے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اپوززیشن کا اصل کردار اسی کو ادا کرنا ہے۔ اسے دوسری اپوزیشن جماعتوں کو قیادت فراہم کرنی ہے۔ کیونکہ وہی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے جس کی ایک طویل تاریخ ہے اور جس نے آزادی کے بعد ایک طویل مدت تک ملک پر راج کیا ہے۔
اگر کانگریس چاہتی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بکھرنے سے بچانے میں کامیاب ہو جائے تو اسے اپنے اندر بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔ ایسی تبدیلی جس کی جانب وقتاً فوقتاً خود اسی کے اندر سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ کبھی کسی لیڈر نے آواز بلند کی تو کبھی کسی لیڈر نے۔ لیکن ان آوازوں پر سنجیدگی کے ساتھ کان دھرنے کے بجائے تادیبی کارروائی کی گئی۔ اسے قیادت کے خلاف بغاوت سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یا تو کئی ایسے لوگوں کو پارٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا یا وہ خود باہر چلے گئے۔ حال ہی میں سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی اصلاحی آواز بلند کی ہے۔ انھوں نے کانگریس کے رویے اور طریقہ کار پر بولتے ہوئے یہاں تک کہا کہ” سلطنت چلی گئی لیکن ہم اب بھی خود کو سلطان سمجھے بیٹھے ہیں“۔ ان کا واضح اشارہ پارٹی قیادت کی جانب تھا۔ انھوں نے کہا کہ نریندر مودی اور امت شاہ دوسرے انداز کے لیڈر ہیں۔ وہ دوسرے انداز سے سوچتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں ان کو سامنے رکھ کر اپنی حکمت عملی بنانی ہوگی۔ انھوں نے بالکل درست کہا۔ لیکن پارٹی کے اندر سے ہی کچھ لوگوں نے ان کے بیان کی مخالفت کی۔ در اصل احتسابی رجحان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہی پارٹی موت کے دروازے تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاملے میں بی جے پی کی داد دینی ہوگی کہ وہ خود احتسابی کے دور سے گزرتی رہتی ہے اور اپنی کمزوریوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ اسے کسی کے خلاف سخت قدم اٹھانے سے کوئی گریز نہیں ہوتا۔ اب یہی دیکھیے کہ ایل کے آڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے انتہائی سینئر رہنماؤں کو، جنھوں نے پوری زندگی لگا کر اس پارٹی کو یہاں تک پہنچایا، نظر انداز کرکے ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا گیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا کہ پارٹی کو محسوس ہوا کہ ایسا کرنے سے وہ اقتدار میں واپس آجائے گی اور پارٹی کے اندر ایک نیا جوش بھی پیدا ہو جائے گا۔ ایسا سوچنے والے حق بجانب تھے۔ یہاں تک کہ سینئر رہنماؤں کو کابینہ سے بھی دور رکھا گیا۔ کیا بی جے پی کے اندر اس بات کا اندیشہ نہیں رہا ہوگا کہ سینئر لیڈروں کی جانب سے ایسا قدم اٹھانے کی مخالفت ہوگی اور پارٹی میں بغاوت بھی ہو سکتی ہے۔ ایسا اندیشہ ضرور رہا ہوگا لیکن پارٹی لیڈروں نے وہی فیصلہ کیا جو پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری تھا۔ انھوں نے ایک ایسا بڑا آپریشن کیا جس نے پارٹی کو ایک نئی زندگی بخش دی۔
کانگریس میں اس قسم کی سوچ کا فقدان ہے۔ وہ ایک مخصوص خاندان کے سائے سے باہر آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پارٹی اسی خاندان کے زیر سایہ ایک عرصے تک رہی ہے اور اس خاندان نے پارٹی کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ لیکن تبدیلی ایک ناگزیر عمل ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ جو بھی اس قانون سے بغاوت کرے گا فنا ہو جائے گا۔ سمجھدار اور دانشمند اسی کو کہا جا سکتا ہے جو حالات کے مطابق قدم اٹھائے۔ اگر دھارے کے برعکس تیرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور یہ بالکل واضح ہے کہ دھارے کی مخالف سمت تیرنے سے تباہی کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے، تو عقلمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ دھارے کی مخالفت ترک کر دی جائے اور ”چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ پر عمل کیا جائے۔ روایتوں کا احترام ضروری ہے لیکن اسی سے چمٹے رہنا اور حقیقت سے چشم پوشی کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ جے رام رمیش سمیت کئی لیڈروں نے اشاروں اشاروں میں کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ پارٹی کو سونیا اور راہل کے سائے سے آزاد کرایا جائے۔ ایک نئی قیادت جنم لے او رایک نئی حکمت عملی کے ساتھ مخالفوں اور حریفوں کا سامنا کیا جائے۔ اگر اقتدار میں واپس آنا ہے تو انہی ہتھیاروں اور اسلحوں سے لیس ہونا پڑے گا جن سے دشمن لیس ہے۔ لیکن یہ آواز پارٹی قیادت کو سنائی نہیں دیتی۔ اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اسے وہ اپنے خلاف بغاوت تصور کرتی ہے۔ کانگریسی لیڈروں کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ سیاسی پارٹیوں کی زندگی میں کاپی رائٹ نہیں ہوتا۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ اس ملک میں ایسی بہت سی پارٹیاں ہیں جو ون مین شو ہیں، جو خاندانی ہیں۔ یعنی باپ نے پارٹی بنائی اور اس کے بیٹوں اور پوتے پوتیوں کو تمام مناصب دے دیے گئے۔ لیکن ایسی پارٹیاں تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتی ہیں۔ وہ کچھ دنوں تک تو بہار دکھاتی ہیں۔ مگر جلد ہی خزاں کی زد میں آکر فنا ہو جاتی ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے تو یہ خاندانی پارٹی نہیں ہے۔ اس کے بنانے اور اس کو سینچنے میں بہت سے لوگوں نے اپنا خون جگر دیا ہے۔ مختلف سوچ اور نظریے کے لوگوں نے اسے پروان چڑھایا اور اس کے پرچم تلے جنگ آزادی لڑی اور کامیابی حاصل کی۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ پارٹی ایک خاندان کے ارد گرد سمٹتی چلی گئی اور آج صورت حال یہ ہے کہ اگر اس کے ذمہ داروں نے ہوش کے ناخن نہیں لیے اور اپنا احتساب نہیں کیا تو تمام بڑے لیڈر اپنا سیاسی وجود بچائے رکھنے کے لیے کسی اور کا دامن تھام لیں گے، جیسا کہ بہت سے لوگوں نے تھام لیا ہے اور یہ جماعت محض چند افراد تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: its time for change in the congress party | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )