کیا یہ عدالتی تختہ پلٹ ہے؟

سہیل انجم
اس بار پاکستان کی سیاست کا اونٹ پاناما پیپرس کی کروٹ لے کر بیٹھ گیا اور اس کے بیٹھتے ہی وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت بھی بیٹھ گئی۔ انھیں مستعفی ہونا پڑا۔ ان کے ایک معتمد خاص شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ نواز شریف کی سیاسی بد قسمتی کہ انھیں تیسری بار اپنی حکومت کی مدت کار مکمل ہونے سے قبل ہی وزیر اعظم کا عہدہ چھوڑ دینا پڑا۔ در اصل پاناما پیپرس میں ان کا، ان کے بیٹوں اور بیٹی اور دیگر اہل خانہ کا نام آیا تھا اور ان پر الزام تھا کہ ان کے اہل خانہ نے جعلی کمپنیاں بنا کر کروڑوں اور اربوں روپے کمائے ہیں۔ نواز شریف پر الزام تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی کمپنی میں ڈائرکٹر تھے اور انھیں وہاں سے تنخواہ ملتی تھی لیکن انھوں نے اسے چھپایا۔ کسی عوامی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم نواز شریف اپنے اوپر عاید الزامات کی تردید کرتے رہے۔ لیکن کچھ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک مسترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے محض دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کر دی۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نواز شریف اور ان کے گھر والے ٹیم کو مطمئن نہیں کر سکے اور ان کی بیٹی اور بیٹے نے ٹیم کے سامنے جعلی کاغذات پیش کیے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کی اور انھیں مجرم قرار دیتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ اس کے بعد ہی انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اب ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف جو کہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی ہیں الیکشن لڑ کر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوں گے۔ ان کی جگہ پر کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ اس پر کسی نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف کا کوئی تیسرا بھائی بھی ہوتا تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہوتا۔ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو نواز شریف کا سیاسی جا نشین سمجھا جا رہا تھا لیکن ان پر ایک سال تک الیکشن لڑنے پر پابندی عاید کر دی گئی ہے ورنہ ممکن ہے کہ وہی الیکشن لڑ کر ملک کی وزیر اعظم ہو جاتیں۔ شاہد خاقان عباسی کو شریف خاندان کا انتہائی وفادار ہونے کی وجہ سے وزیر اعظم بنایا گیا ہے۔ لیکن اگر وہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون پر قبضہ کر لیں اور وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹنے سے انکار کر دیں یا کوئی ایسی چال چلیں کہ انھیں ہٹایا بھی نہیں جا سکے تو پھر نواز شریف کیا کریں گے۔ حالانکہ اس کا امکان دور دور تک نہیں ہے لیکن پاکستان کی سیاست میں کب کیا ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاءالحق کو کئی جنرلوں پر فوقیت دے کر فوجی سربراہ بنایا تھا اور انھوں نے ہی بھٹو کو پھانسی پر لٹکایا۔ اسی طرح نواز شریف نے پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا تھا اور مشرف نے ہوائی جہاز سے ہی فوجی بغاوت کر دی تھی اور نواز شریف کو نہ صرف برطرف کر دیا تھا بلکہ ان کو جلا وطن بھی کر دیا تھا۔ وہ تو سعودی عرب کے شاہ عبد اللہ کی ثالثی کے بعد ان کو پاکستان واپس آنے کا موقع ملا اور اب دیکھیے کہ عدلیہ نے انھیں حکومت سے برطرف کر دیا۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں جمہوریت کی جڑیں بہت کمزور ہیں۔ جب بھی وہ مضبوط ہونے لگتی ہیں انھیں کاٹ دیا جاتا ہے یا ان میں زہریلا مادہ ڈال کر نیست و نابود کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کوئی منتخب جمہوری ملک اپنی مدت پوری نہیں کر پاتی۔ پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی لیکن اس دوران کئی شخصیات کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونا پڑا تھا۔ لیکن اس بات کی ستائش کرنی ہوگی کہ وہاں عدلیہ بہت مضبوط ہے۔ حالانکہ ایسے بھی متعدد واقعات پیش آئے ہیں کہ دہشت گردوں کو سخت سزائیں نہیں سنائی جا سکیں۔ عوامی مظاہرو ںکے دباو¿ میں ہلکی سزائیں سنائی گئیں لیکن اس کے باوجود اس نے موقع بہ موقع اپنی مضبوطی اور اپنی طاقت کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ عدالت کے حکم پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی اور اس نے دو ماہ کے اندر ہی اپنی رپورٹ پیش کر دی۔ اور آناً فاناً میں نواز شریف کو نااہل قرار دے کر بے دخل کر دیا گیا۔ کچھ لوگوں نے اس پورے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے عدالتی تختہ پلٹ قرار دیا ہے۔ پاکستان میں میڈیا پہلے بہت کمزور تھا لیکن پرویز مشرف کے دور میں اسے بہت اختیارات حاصل ہو گئے۔ اس نے بھی مذکورہ بدعنوانی کے خلاف خوب خوب ہنگامہ کیا اور عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی مہم کو تقویت فراہم کی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس تازہ صورت حال کا فائدہ عمران خان کو ہوگا یا نہیں۔ اس بارے میں سیاسی مبصرین میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران کی جماعت مزید مضبوط ہوگی جبکہ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ عمران خان وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں لیکن کیا وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے کہا نہیں جا سکتا۔ چند روز قبل ان کی ہی جماعت کی ایک رکن قانون سازیہ عائشہ گلالئی نے ان پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ انھیں موبائیل فون پر فحش پیغامات بھیجتے رہے ہیں۔ انھوں نے پارٹی اور عہدہ دونوں سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ الزام عمران کو کتنا نقصان پہنچا پائے گا اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔
نواز شریف کی بے دخلی کے موضوع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے اخباروں میں مضامین اور تبصرے شائع کیے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف زبانوں کے سرکردہ اخباروں نے اس معاملے پر اداریے اور مضامین لکھے ہیں۔ ان میں سے بعض نے پاکستانی عدلیہ کی چستی کی ستائش کی ہے اور ہندوستانی عدلیہ کو اس سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ کئی اخباروں نے لکھا کہ ہندوستان کی بھی پانچ سو شخصیات کے نام پاناما پیپرس میں آئے تھے لیکن یہاں ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ناموں کے انکشاف کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد کیا ہوا کچھ پتہ نہیں چلا۔ جن شخصیات کے نام سامنے آئے تھے اور جن پر پاناما میں کالا دھن جمع کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا ان میں امیتابھ بچن، ایشوریہ رائے بچن، ممتاز وکیل ہریش سالوے، صنعت کار گوتم اڈانی کے بڑے بھائی اور دوسرے کئی لوگ شامل ہیں۔ لیکن یہاں اس بارے میں تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
بہر حال پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چہرہ بدل جانے سے پاکستان میں کوئی تبدیلی آئی گی۔ کیا وہاں جمہوریت کو استحکام حاصل ہوگا اور کیا ان لوگوں کے خلاف بھی اسی طرح کی کوئی کارروائی ہوگی جن کے نام بھی پاناما پیپرس میں آئے ہیں یا جن پر بھی مالی اور دیگر بدعنوانیوں کے الزامات ہیں۔ اب اس بارے میں پاکستان کے ایک کثیر الاشاعت اخبار روزنامہ جنگ کے ایک کالم نگار نصرت امین نے لکھا ہے کہ فی الحال نواز شریف یقیناً ایک کٹھن دور سے گزرہے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت بھائی اور سیاسی رفقا کے ذریعے سیاست کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں! لیکن کسی دوسرے کے ذریعے کامیاب حکمرانی کرنا بھی ان کے لئے آسا ن نہ ہوگا کیوں کہ نہ تو میاں نواز شریف خود چانکیہ جیسے معاملہ فہم اور ماہر اسٹیٹس مین(statesman) ہیںاور نہ ہی ان کا کوئی عزیز ان کے لئے موریہ جیسا بہادر اور وفادار حکمراں بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔
شریف خاندان کی یہ پریشانیا ں اپنی جگہ لیکن اس نئے منظر نامے میں پاکستانی قوم کو درپیش مسائل یقیناً زیادہ توجہ طلب ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد قوم کو درپیش تما م تر مسائل فوری اور موثر طور پرحل کرلئے جائیں گے؟ شاید کوئی بھی سمجھدار پاکستانی ایسی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ البتہ جس طرح ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، سوشل میڈیا پرجا بجا مسرتوں کا اظہار کیا گیا اور جس سطح پر بہت سے لوگ پینترے بدلتے دکھائی دیے، لگتا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھنے کا رجحان اب مکمل طو ر پر مفقود ہوچکا ہے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت آج بھی عملا ًیہ ماننے کو تیار نہیں کہ صرف حکمراں بدل جانے سے حالات بدل سکتے ہیں۔ ایسا ممکن ہوتا تو پاکستان پچاس کی دہائی میں ہی دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک بن چکا ہوتا۔ کوئی بتلائے کہ جنرل ضیاءالحق کے بعد بے نظیر، پھر نواز شریف ، پھر بے نظیر اور پھر نواز شریف اور اس کے بعد جنرل مشرف، پھر زرداری اور پھر نواز شریف کا اقتدار میں آتے اور جاتے رہنا، چہروں کا بدلنا اور بدلتے رہنا، ایک کا آنا اور دوسرے کا جانا، کیا ملک میں کبھی کسی مثبت تبدیلی کاباعث بنا؟ اس سوال کا جواب در حقیقت پوری پاکستانی قوم کو معلوم ہے۔
پاکستان کے قیام کے ابتدائی سال کئی پہلوﺅں سے انتہائی اہم تھے۔ اس دوران جمہوریت کی داغ بیل ڈالی جاسکتی تھی، آئین سازی ہوسکتی تھی، انتخابی لائحہ عمل وضع کیا جاسکتا تھا، اداروں کی تخلیق اور تشکیل نوکے لئے منصوبہ بندی ہوسکتی تھی، ملنساری، اخلاقیات، رواداری، احترام، فلسفے، سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر تعلیمی نصاب مرتب کیاجاسکتا تھا، صنعتی انفرااسٹرکچر قائم کیا جاسکتا تھا، جاگیر داری اور قبائلی روایات ختم کرکے متاثرہ علاقوں اور وہاں بسنے والوں کو جدید اور مہذب معاشرے کا حصہ بنایا جاسکتا تھا، مربوط خارجہ اور دفاعی پالیسی وضع کرکے سول ملٹری تعلقات کو ابتداہی سے صحیح راستوں پر استوار کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ہوا کیا ؟ چہرے بدلتے رہے اور نتیجہ صفر رہا۔ بات صرف اتنی ہے کہ معاشرے میں اگر جمہوریت پھل پھول نہ سکے تو بدعنوانی سے لیکر دہشت گردی تک کسی بھی قسم کے جرم کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے ناگزیر طور پر درکار شفافیت دستیاب نہیں ہوتی۔ جرم و انصاف کا ہر موثر نظام صرف شفافیت ، بلاتخصیص کارروائیوں اور بلا امتیاز عدل کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے اورایسے نظام کا قیام جمہوری اقدار کے نفاذ اور فروغ کے بغیر ناممکن ہے۔ دور جدیدمیں دنیا کے مہذب اور ترقی یافتہ معاشروں میں تمام تر قدر مشترک عناصر میں جمہوریت سرفہرست ہے۔ اور حقیقی جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے کہ عوام کے منتخب کردہ کسی بھی اچھے یا برے حکمراں کو صرف عوام کی رائے کے ذریعے ہی، ایک غیر جانبدار اور شفاف انتخابی عمل کے تحت ، صحیح وقت پر اقتدار سے بے دخل کیا جاسکتا ہو۔ غیر جانبدار اور شفاف بالغ رائے دہی کے بغیر حکمر انوں کا آنا یا چلے جانا ملک کے عوام پچھلی سات دہائیوں سے بھگت رہے ہیں۔ لہٰذا انہیں معلوم کہ صحیح یا غلط، بس اب سوتے جاگتے ”ہنوز نیا پاکستان دور است “ کی صدا کانوں میں گونجتی رہتی ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: nawaz sharif overthrown | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )