صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہونے کا اعزاز پاکستان کو حاصل

سہیل انجم
دنیا کے متعدد ممالک صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جو ملک جنگ کے حالات سے گزر رہے ہیں وہاں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی زندگی کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ کب کون سا صحافی کراس فائرنگ کا شکار ہو جائے یا کون سا گروپ کب کس صحافی کو اپنا شکار بنا لے کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن جو ملک حالت جنگ میں نہیں ہیں اور جہاں امن ہے وہاں بھی اگر صحافیوں کی زندگی ہمیشہ خطرے میں رہے تو تشویش کی بات ہوتی ہے۔ حالانکہ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی میں جان سے گزرنے سے نہیں گھبراتے لیکن پھر بھی ان کی زندگیوں کا تحفظ ہمارے سماج کے لیے اور خاص طور پر جمہوریت کی بقا کے لیے بہت ضروری ہے۔ پریس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور اسی لیے جس ملک میں پریس کو آزادی حاصل نہ ہو اور جہاں صحافیوں کی زندگی کی کوئی ضمانت نہ ہو وہاں جمہوریت کو استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو حالتِ جنگ میں تو نہیں ہے لیکن وہاں کے حالات کسی جنگ سے کم بھی نہیں ہیں۔ مختلف گروپ اپنی وارداتیں دھڑلے سے انجام دے رہے ہیں۔ لاقانونیت کا بول بالا ہے اور عام لوگوں کی زندگی غیر محفوظ ہے۔ وہاں بھی صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ بلکہ صحافیوں کی کئی بین الاقوامی تنظیموں نے پاکستان کو صحافیوں کے لیے انتہائی خطرناک ملک قرار دے رکھا ہے۔ وہاں آئے دن کسی نہ کسی صحافی کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اگر اس دوران اس کی جان چلی جائے تو کوئی حیرت کی بات نہیں ہوتی۔ 2000ءسے اب تک وہاں 60 سے زائد صحافیوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ آگے کتنے صحافی اپنی جانوں سے جائیں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ادھر کچھ دنوں تک نسبتاً امن رہنے کے بعد ایک بار پھر صحافیوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے ہری پور میں ایک اردو اخبار کے بیورو چیف بخشیش الٰہی کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ وہ پرائیویٹ اردو Hindko ٹیلی ویژن K2 سے وابستہ تھے۔ وہ ایبٹ آباد میں واقع اپنے دفتر جا رہے تھے کہ لوڑا چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی اور انھوں نے جائے واردات پر ہی دم توڑ دیا۔ روزنامہ K2 کے ایڈیٹر سردار افتخار کا کہنا ہے کہ بخشیش کو جنھیں ان کے حلقہ احباب میں بخشی کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک پولیس پوسٹ کے نزدیک حملہ کیا گیا۔ جس سے ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر چہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کو کیوں ہلاک کیا گیا لیکن سردار افتخار کسی ذاتی رنجش سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بخشی ایک قابل اور اپنے کام کے تئیں وفارار صحافی تھے۔ وہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی جرات رکھتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے پاکستان کے صحافیوں نے زبردست احتجاج کیا ہے۔ ہری پور پریس کلب کے ممبران نے دھرنا دیا اور ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے جی ٹی روڈ کو جام کر دیا تھا۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے بھی اس واقعہ کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے بھی اس واردات کے خلاف احتجاج کیا ہے اور حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی درمیان لاہور میں ایک انگریزی صحافی رانا تنویر کے گھر پر حملہ کیا گیا اور وہاں تباہی مچائی گئی۔ یہ کارروائی ان کی غیر موجودگی میں کی گئی اور ان کے دروازے پر موت کی دھمکی پینٹ کر دی گئی۔ چند روز قبل ایک تیز رفتار کار ان پر چڑھ گئی تھی جس میں ان کو چوٹیں آئیں، کئی فریکچ آئے اور انھیں آپریشن کرانا پڑا۔ وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد ان کو ہلاک کرنا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رانا تنویر مذہبی اقلیتوں پر مظالم کے خلاف کھل کر لکھتے ہیں۔ شاید مذہبی شدت پسندوں کو ان کی یہ بات پسند نہیں آئی اور اسی لیے وہ انھیں بھی راستے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔
اس سے قبل متعدد صحافیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ ایک سینئر صحافی سلیم شہزاد کو بھی چند سال قبل ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ بہت مشہور ہوا تھا۔ سلیم شہزاد ایک غیر ملکی ویب اخبار ایشیا ٹائم آن لائن کے اسلام آباد میں بیورو چیف تھے۔ انہوں نے کراچی میں پاکستانی بحریہ کے اڈے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے سے متعلق ایک اسٹوری شائع کی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اس کی دوسری قسط جلد ہی آئے گی۔ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی اور وہ اچانک لاپتہ ہو گئے۔ انہیں ایک ٹی وی شو میں جانا تھا۔ وہ اپنے آفس سے اس کے لیے نکلے تھے لیکن وہاں نہیں پہنچ سکے اور پھر یہ خبر آئی کہ وہ لاپتہ ہو گئے ہیں۔ چند روز کے بعد پنجاب ضلع کے منڈی بہاؤ الدین میں ایک نہر کے کنارے جھاڑیوں میں ان کی لاش پائی گئی تھی۔ لاش پر تشدد کے نشانات تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں کافی اذیتیں دی گئی ہیں۔ بعد میں پوسٹ مارٹم سے جو درست پایا گیا تھا۔ 2001 کے بعد گزشتہ سال پہلا ایسا سال ثابت ہوا جس میں کسی صحافی کا قتل نہیں کیا گیا۔ ورنہ کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جس میں کوئی نہ کوئی صحافی اپنے فرض کی ادائیگی کی وجہ سے اپنی جان سے نہ جاتا ہو۔ صحافیوں کی زندگی یہاں کیوں خطرے میں ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صحافیوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں صرف تین صحافیوں کے قاتلوں کو سزا دی گئی ہے۔ یہ ہیں ڈینیل پرل، ولی بابر اور ایوب خٹک۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان تینوں معاملات کی بہت زیادہ شہرت ہوئی تھی اور حکومت پر ان کے قاتلوں کو سزا دینے کا شدید دباؤ تھا۔ باقی دوسرے معاملات میں مضبوط شواہد کو بھی نظرانداز کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ کئی معاملات میں ٹرائیل تک نہیں ہوئے۔ جب تک حکومت اور سیکورٹی ایجنسیاں اس سلسلے میں اپنا رویہ نہیں بدلیں گی، صحافیوں پر حملے ہوتے رہیں گے اور انھیں کبھی کرپشن کو بے نقاب کرنے تو کبھی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں اپنی جانیں گنوانی پڑتی رہیں گی۔
ایک پاکستانی صحافی نے اس بارے میں بڑا طنزیہ جملہ لکھا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہونے کا ”اعزاز“ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے حاصل کر رہا ہے اور حالیہ برس بھی جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے لگتا ہے ہم اپنے اس ”اعزاز“ کا دفاع کرنے میں یقیناً کامیاب ہوں گے“۔ پاکستان صحافیوں کے لیے کس قدر مشکل علاقہ ہے اس حققیت کا ادارک مقامی اداروں، صحافتی تنظیموں اورحکومت کو بھی ہے۔ لیکن صورتحال میں بہتری لانا تو ایک طرف رہا ان خطرات کی نوعیت کیا ہے ان کے اثرات اوراسباب کیا ہیں یہ جاننے کی بھی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ جب کوئی صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو چار دن اس کی ”شہادت“ پر آنسو بہائے جاتے ہیں، اس کی صحافتی خدمات کا چرچا کیا جاتا ہے کچھ مظاہرے ہوتے ہیں۔ پھر سب کچھ ویسا ہی ہوجاتا ہے۔ لیکن صحافیوں کی زندگی میں خطرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی صلاحیت سازی اور اس کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے انٹرمیڈیا نے قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو درپیش مشکلات اور خطرات کو جانچنے کے لیے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ ”رپورٹنگ فرام دی فرنٹ لائنز“ کے زیر عنوان شائع رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے 93 فیصد صحافی جانی اور مالی طور پر شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ 74 فیصد صحافیوں کو گزشتہ ایک سال کے دوران دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جان کا خوف تو انہیں مسلح گروہوں اور سیکورٹی اداروں سے ہے لیکن ان کے مالی استحصال کے ذمے دار میڈیا کے ادارے ہیں۔
رپورٹ کی مصنف صدف بیگ کہتی ہیں کہ دراصل مالی عدم تحفظ ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو جان کا خطرہ مول لینے پر مجبور کرتا ہے۔ فاٹا کے 53 فیصد صحافی باقاعدہ تنخواہ کے بغیر کام کررہے ہیں اور بعض اوقات تو وہ خبر جو صحافی کی جان لینے کا سبب بنتی ہے، صحافی کی موت کے بعد بھی اس کا معاوضہ دینے کو ادارے تیار نہیں ہوتے۔ صدف کے مطابق مالی استحصال نہ صرف صحافیوں بلکہ صحافت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 86 فیصد صحافیوں کو شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے کے باوجود کسی طرح کی میڈیکل یا لائف انشورنس حاصل نہیں۔
انٹرمیڈیا پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عدنان رحمت کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر تیس دن میں اوسطاً ایک صحافی ہلاک ہو رہا ہے۔ لیکن کتنے صحافیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، کتنے اغوا ہورہے ہیں اور کتنوں کو دوسرے ذریعوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے اس حوالے سے کہیں بھی مستند اعداد و شمار موجود نہیں۔ عدنان رحمت کے مطابق دوہزار بارہ سے اب تک پاکستان میں بڑی تعداد میں صحافی ہلاک ہوئے جن میں ایک افغانی اور ایک امریکی صحافی بھی شامل ہیں۔ لیکن صرف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے علاوہ کسی بھی مقدمے میں قاتلوں کو سزا نہیں ہو سکی۔ جس سے صحافیوں کو دھمکانے اور قتل کرنے والوں کو کھلی چھٹی ملی گئی ہے۔ صرف قبائلی علاقے نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ، کراچی اور بلوچستان بھی صحافیوں کے لیے کم خطرناک نہیں۔ کوئٹہ یونین آف جرنلسٹ کے صدر عیسیٰ ترین کے مطابق بلوچستان کے صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرہ دکھائی نہ دینے والے اداروں اور تنظیموں سے ہے۔ کبھی صحافیوں پر علیحدگی پسندوں کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی حکومتی نقطہ نظر کو ترجیح دینے کا۔
عیسیٰ ترین کہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال پر بھی صحافیوں پر دباو ڈالا جا تا ہے۔ ”ہمیں ایک خاص فرقے کے افراد کو ”کافر“ اور ان کے قتل پر ”مردار“ اور ”واصل جہنم“ کے الفاظ استعمال کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے بیانات شائع کیے جانے پر پابندی کے بعد تو صحافی ایک اور ہی مشکل میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کا موقف شائع نہ کرنے پر جان کا خطرہ اور شائع کرنے پر مقدمات کا سامنا۔ عیسیٰ ترین کے مطابق کالعدم تنظیموں کا موقف شائع کرنے پر کئی صحافیوں پر دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ اگر کسی بڑے چینل کے کسی بڑے صحافی کو کہیں سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو ذرائع ابلاغ پر شور مچ جاتا ہے۔ لیکن خطرے میں کام کرنے والے صحافی کی خبر تو اس کے مر جانے کے بعد ہی نشر کی جاتی ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ اگر وہ کسی بڑے اخبار یا چینل کا باقاعدہ ملازم ہو۔ پاکستان میں جموریت کے استحکام کی بات اس وقت تک تو محض نعرہ ہی رہے گی جبکہ تک آزادی اظہار کی ضمانت نہیں ہوگی اور ایسی صورتحال میں جہاں صحافیوں کی اکثریت جانی اور مالی عدم تحفظ کا شکار ہو پاکستان میں آزادی اظہار کا گمان صرف خام خیالی ہی ہے۔

Title: pakistan the most dangerous country for journalists | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )