ایسی کہانیاں کبھی کبھار ہی جنم لیتی ہیں

سہیل انجم
یہ کہانی اگر چہ تھوڑی پرانی ہو گئی ہے لیکن باسی نہیں ہوئی ہے۔ ایسی کہانیاں یوں بھی پرانی اور بوسیدہ نہیں ہوتیں۔ ایک زمانے تک ان کو دلچسپی کے ساتھ سنا اور پڑھا جاتا ہے اور نہ صرف ہمعصر نسلیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے ترغیب حاصل کرتی ہیں، انسپریشن لیتی ہیں۔ یہ ایک انتہائی غریب اور مفلوک الحال مسلم خاندان میں پیدا ہونے والی ایک لڑکی کی کہانی ہے۔ یہ لڑکی بچپن سے ہی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہو گئی جس میں ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور گر پڑنے سے ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس لڑکی کی سولہ بار ہڈیاں ٹوٹی ہیں اور بارہ آپریشن ہوئے ہیں۔ یہ راجستھان کے مارواڑ علاقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ جب بہت چھوٹی تھی جبھی اس کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ والد نے دوسری شادی کر لی۔ غریبی نے اس خاندان پر اپنا پنجہ گاڑ رکھا تھا۔ جب مارواڑ میں روزی روٹی کے لالے پڑ گئے تو اس کے والد مع خاندان دہلی چلے آئے۔ انھوں نے حضرت نظام الدین کے نزدیک بارہ پلا میں ایک جھگی میں پناہ لی۔ وہاں انھوں نے رہائش اختیار کر لی۔ نظام الدین اسٹیشن کے پاس گھوم گھوم کر سامان فروخت کرنے لگے۔ تھوڑی بہت یافت ہونے لگی اور گھر کے اخراجات کسی طرح پورے ہونے لگے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کو جس کی یہ کہانی ہے اسکول میں داخل کر دیا۔ یہ لڑکی بچپن سے ہی بہت ذہین تھی اور کلاس میں اول آتی رہی۔
یہ دوسری کلاس میں تھی جبھی اس نے ایک خواب دیکھا۔ جاگتی آنکھوں کا خواب۔ یعنی اسے آئی اے ایس بننے کا خواب۔ ایک بڑے عہدے پر فائز ہو کر اپنے ملک اور قوم کی خدمت کرنے کا خواب۔ آئی اے ایس بننے کا خواب بہت سہانا ہوتا ہے۔ لیکن ہر کوئی اس خواب کی تعبیر پا لے، ایسا ممکن ہے۔ سالوں تک سخت محنت کے ساتھ پڑھائی کرنے کے بعد ہندوستان کے سب سے مشکل مگر سب سے باوقار امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔لوگ کئی کئی بار قسمت آزمائی کرتے ہیں پھر بھی ناکام رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی قسمت اور محنت ساتھ دیتی ہے اور وہ پہلی مرتبہ ہی میں یہ امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ کچھ کی محنت اور قسمت اور رنگ دکھاتی ہے تو وہ ٹاپ کر جاتے ہیں۔ بہر حال اس لڑکی نے بھی آئی اے ایس بننے کا خواب دیکھا اور اس خواب کے ساتھ جینا شروع کر دیا۔ یہ 2001 کا سال تھا۔ ابھی اس نے ساتویں ہی پاس کی تھی کہ بارہ پلا کی جھگیاں توڑ دی گئیں۔ دوسروں کی مانند اس کا خاندان بھی سڑک پر آگیا۔ کسی طرح اس کے والد نے جمنا پار کے علاقے ترلوک پوری کی جھگیوں میں ایک جھگی لی اور پھر ان لوگوں نے وہاں رہنا شروع کر دیا۔ باپ کی کمائی بند ہو گئی۔ اس لڑکی نے، جو کہ ایک خطرناک بیماری میں مبتلا تھی اور جس کو ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ اگر وہ کہیں پھسل کر گر گئی تو اس کی ہڈی ٹوٹ جائے گی، جب آٹھویں پاس کر لیا تو اس کے والد نے اس سے تعلیم چھوڑنے کو کہا۔ انھوں نے کہا کہ بس اب بہت پڑھ لکھ لیا۔ اب سلائی کڑھائی وغیرہ سیکھو تاکہ گھر میں کچھ پیسے آنے لگیں۔ ہم لوگوں کے گھروں میں اس سے زیادہ نہیں پڑھاتے۔ لیکن اس نے کہا کہ نہیں وہ تو پڑھے گی۔ وہ جب پڑھنا چاہتی تو اس کی سوتیلی ماں بتی بجھا دیتی۔ اسے پڑھنے سے روک دیتی۔ اس بات پر اختلاف ہوا اور پھر اس لڑکی نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ایسی ہمت دکھائی جیسی بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے وہیں ترلوک پوری ہی میں ایک جھگی کرائے پر لے لی۔ حالانکہ وہ ایک کمزور،ناتواں، پستہ قد اور بیمار لڑکی تھی۔ لیکن اس کے عزائم چٹاوں کی مانند مضبوط تھے اور اس کی ہمت ہمالیہ کی مانند اونچی اور بلند تھی۔ اس نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اور آئی اے ایس کا خواب پانے کے لیے گھر چھوڑ دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ جھگی کا کرایہ کہاں سے دے گی اور اس سے بڑی بات یہ کہ دو وقت کی روٹی کیسے کھائے گی۔ اگر تعلیم جاری رکھتی ہے تو فیس وغیرہ کہاں سے دے گی، کتابیں اور کاپیاں کیسے خریدے گی۔ اکیلی لڑکی کیا کرے گی۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے جھگی کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا۔ پچاس اور سو روپے ماہانہ پر وہ ان کو ٹیوشن پڑھانے لگی۔ اس طرح اس نے اپنے اخراجات پورے کیے۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے۔ ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں
ممکن ہے کہ اس نے یہ شعر نہ سنا ہو لیکن عملی طور پر وہ اس کی زندہ تصویر بن گئی۔ جب اس نے ہمت نہیں ہاری تو اس کو سہارا دینے والے کچھ ہاتھ بھی مل گئے۔ لیکن پھر بھی دشواریاں اس کے قدم بہ قدم تھیں۔ اپنی جھگی سے کالج تک بس سے آنا جانا۔ اور اس میں بھی یہ خطرہ کہ گر گئی تو ہڈی ٹوٹ جائے گی۔ جب بھی ہڈی ٹوٹتی اسے وھیل چیئر پر آنا پڑتا۔ لیکن اس باہمت لڑکی نے اپنا ایک ہدف مقرر کر رکھا تھا۔ یعنی آئی اے ایس بننا ہے تو بننا ہے۔ اس کو کچھ لوگوں نے اسپانسر کیا اور اس کی فیس وغیرہ کا انتظام ہو گیا۔ لیکن اتنے پیسے نہیں ملتے تھے کہ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھتی۔ اس نے ٹیوشن پڑھانے کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ رفتہ رفتہ وہ کالج پہنچی اور پھر جے این یو میں داخلہ لے لیا۔ اس نے گریجویشن Psychology یعنی نفسیات میں کیا۔ لیکن پوسٹ گریجویشن میں نفسیات اس لیے نہیں لے سکی کہ اس میں پریکٹکل کے لیے شام چھ بجے تک رکنا پڑتا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ شام چھ بجے تک رکے گی تو بچوں کو ٹیوشن کیسے پڑھائے گی۔ وہ تو تین بجے سے رات میں گیارہ بجے تک ٹیوشن پڑھاتی ہے۔ یہ سلسلہ بند ہو جائے گا تو جو تھوڑی بہت یافت ہوتی ہے وہ بھی بند ہو جائے گی۔ لہٰذا اس نے انٹرنیشنل ریلیشن میں داخلہ لینے کے لیے امتحان دیا اور اس کی قسمت اور محنت نے یاوری کی۔ اس کا داخلہ ہو گیا۔ جے این یو میں داخلہ ہو جانے کے بعد آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ رہنے کے لےے ہاسٹل مل گیا۔ کھانے کے لیے میس مل گیا۔ بس اس نے اپنی ساری توجہ پڑھائی پر مرکوز کر دی۔ چونکہ وہ معذور ہے اس لیے اس نے معذوروں سے متعلق متعدد تنظیموں میں شرکت کرنا اور ان میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے معذوروں کے لیے قابل ذکر خدمات انجام دینے پر اسے 2015 کا رول ماڈل چنا یعنی ایک مثالی شخصیت چنا۔ وہ کئی ملکوں میں ہندوستان کے معذوروں کی نمائندگی کر چکی ہے۔اس وقت وہ جے این یو میں ریسرچ اسکالر ہے۔ اس نے پہلی ہی کوشش میں اسی سال یعنی 2017 میں آئی اے ایس پاس کر لیا۔ زکوة فاونڈیشن نئی دہلی نے اس سلسلے میں اس کی مدد کی۔
وہ کہتی ہے کہ اس کے بھائی چوڑیاں بیچتے ہیں۔ والد کوئی چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں۔ بھائیوں کو نہیں معلوم کہ آئی اے ایس کیا ہوتا ہے۔ ہاں اس کے والد جانتے ہیں کہ کلکٹر کیا ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میری اس کامیابی میں میرے والدین کا بھی حق ہے۔ میں عید کے موقع پر ان سے ملنے جاؤں گی۔ ان کو پورا حق ہے کہ وہ ایک ایسی زندگی گزاریں جیسی ایک آئی اے ایس کے والدین گزارتے ہیں۔ آئی اے ایس میں اس کا نمبر 420 واں ہے۔ لیکن چونکہ وہ معذوروں کے رینک میں سر فہرست ہے اس لیے اس کو یقین ہے کہ اس کو کلکٹر کا عہدہ ملے گا۔ ایک ناخواندہ اور غریب خاندان سے تعلق رکھنے والی اس منحنی سی لڑکی نے اپنی زندگی میں نادانستہ طور پر ایک حدیث پر عمل کیا۔ یعنی اپنے سے چھوٹے لوگوں کو دیکھو۔ وہ کہتی ہے کہ جب میں اپنی معذوری اور کمزوری پر دھیان دیتی اور پریشان ہونے کو ہوتی تو میں اپنے سے بھی زیادہ کمزور اور غریب کا خیال کر لیتی اور اس طرح مجھے سکون مل جاتا۔
اس لڑکی کی سعادت مندی دیکھیے کہ گھر والوں نے پڑھائی میں سپورٹ نہیں کیا۔ الگ جھگی لے کر اور ٹیوشن پڑھا کر خود پڑھتی رہی لیکن اب کہتی ہے کہ اس کے والدین کو ایک آئی اے ایس کے والدین کی مانند زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اگر یہ لڑکی کے بجائے لڑکا ہوتی تو ممکن ہے کہ ایسا نہ سوچتی۔ اس میں شک نہیں کہ اس کی خوشیوں میں اس کے والدین کو بھی حصہ بٹانے کا حق ہے۔ اور وہ یہ حق ان کو دینا چاہتی ہے۔
جی ہاں آپ سمجھ گئے یہ وہی لڑکی ہے جس کا نام ام الخیر ہے اور جس کا آج ہر جگہ چرچا ہے۔ ہر اخبار میں۔ ہر نیوز چینل پر۔ ہر اسکول اور کالج میں۔ کاش مسلم گھروں میں ایسی مزید لڑکیاں پیدا ہوں تاکہ وہ اپنے ملک کا بھی نام روشن کریں، اپنے خاندان کا بھی اور ملت کا بھی۔ ام الخیر تم کو تمھاری یہ کامیابی بہت مبارک ہو۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: a tale of ummul khair | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )
Tags: ,