کل بھوشن سے عظمیٰ تک!

سہیل انجم
ادھر کچھ دنوں سے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ کے بادل گھرنے ہی والے ہیں۔ لیکن شکر ہے کہ ابھی تک ایسی نوبت نہیں آئی ہے اور دعا ہے کہ ایسی نوبت نہ آئے۔ یوں تو کنٹرول لائن پر 2006 سے ہی سیز فائر نافذ ہے۔ لیکن دونوں جانب سے اس کی خلاف ورزی کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں اور دونوں ان الزامات کی تردید بھی کرتے ہیں۔ دونوں جانب سے فائرنگ اور گولہ بارود کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور دونوں جانب انسانی جانوں کا اطلاف بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ایسی حرکتیں بھی کر دی جاتی ہیں جو صورت حال کو اور بھی نازک بنا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی افواج کی جانب سے ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ان کے سر قلم کر دینا۔ سابقہ یو پی اے حکومت میں بھی ایسے واقعات پیش آئے تھے اور موجودہ این ڈی اے حکومت میں بھی پیش آرہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے کہ اس کی افواج نے سر قلم کیے ہیں۔ جبکہ اس بارے میں ہندوستان پختہ ثبوتوں کی روشنی میں بات کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایسے دو واقعات پیش آئے ہیں جو پاکستانی حکومت اور فوج اور وہاں کے عوام کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ پہلا واقعہ کل بھوشن جادھو کا ہے اور دوسرا واقعہ عظمیٰ احمد کا ہے۔
کل بھوشن جادھو ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر ہیں۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے ایران میں اپنا بزنس شروع کیا۔ پاکستانی سیکورٹی جوانوں نے گزشتہ سال مارچ میں ان کو ایران سے گرفتار کر لیا اور یہ اعلان کیا کہ کل بھوشن ہندوستانی جاسوس ہیں۔ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ انھیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا الزام ہے کہ کل بھوشن ہندوستانی خفیہ ایجنسی RAW کے ایجنٹ ہیں اور اس کی ہدایت پر پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور انتہائی عجلت میں پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جادھو کے قبضے سے دو پاسپورٹ ضبط ہوئے ہیں۔ دوسرا پاسپورٹ کسی مبارک حسین پٹیل کے نام پر ہے۔ ہندوستان نے ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف فوجی عدالت کی کارروائی کی مخالفت کی۔ اس نے ان کی گرفتاری کے دوران سولہ مرتبہ پاکستان سے درخواست کی کہ وہ جادھو سے انڈین ہائی کمیشن کے افسران کو ملنے دے۔ لیکن اس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ انھیں کارروائی کے دوران اپنے دفاع کا بھی موقع نہیں دیا گیا۔ جب ہندوستان کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ جادھو کی زندگی خطرے میں ہے اور یہ کہ پاکستان انھیں پھانسی پر چڑھا دے گاتو اس نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جس نے اس بارے میں حتمی فیصلہ آنے تک پاکستانی عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد پر روک لگا دی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگست میں حتمی فیصلہ آئے گا۔ پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں جو دلائل دیے ان کو عدالت نے خارج کر دیا۔ جبکہ ہندوستان کے دلائل کو اس نے تسلیم کر لیا۔
پاکستان نے جادھو کے سلسلے میں انتہائی عجلت میں کارروائی کی جبکہ ممبئی میں دہشت گردی کے ایک بہت بڑے حملے میں جس میں 167 افراد ہلاک ہوئے تھے، پکڑے گئے حملہ آور اجمل قصاب کے خلاف کارروائی میں تمام قانونی ضوابط کی پابندی کی گئی۔ یہاں تک کہ اس کو بہترین وکلا کی خدمات بھی فراہم کی گئیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اس قسم کی سہولتیں فراہم کرنے سے انکار کرکے ہندوستان کو چڑھانا چاہتا ہے۔ وہ دنیا کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہندوستان پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور دہشت گرد عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں ہندوستان میں دہشت گردانہ اور تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اگر جادھو کسی قسم کی سرگرمی میں ملوث تھے تو آخر کیا وجہ رہی کہ انڈین ہائی کمیشن کے افسران کو ان سے ملنے نہیں دیا گیا اور اب بھی ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ان کا جو اقبالیہ بیان جاری کیا ہے اس کے بارے میں بھی بہت سے شکوک و شبہات ہیں۔ یہاں تک کہ عالمی عدالت انصاف کو بھی اس پر بھروسہ نہیں تھا اسی لیے اس نے عدالتی کارروائی کے دوران اس ویڈیو کو پلے کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پاکستان نے ایک طرف عالمی عدالت میں اپنا موقف رکھا اور دوسری طرف اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معاملہ عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اگر نہیں آتا تو آپ وہاں کیوں گئے۔ او راب پاکستان نے عالمی عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد کارروائی کرے۔ اس سے اس کے دوہرے رویے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جہاں تک عظمیٰ احمد کا معاملہ ہے تو یہ بالکل مختلف کیس ہے۔ یہ دو افراد کے مابین تعلق اور شادی کا معاملہ ہے۔ عظمیٰ دہلی کی باشندہ ہیں۔ وہ دو بار ملیشیا گئی تھیں۔ دوسری بار ان کی ملاقات ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور طاہر علی سے ہوئی۔ دونوں میں روابط بڑھے اور دونوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ عظمیٰ ہندوستان واپس آئیں اور طاہر پاکستان چلا گیا۔ یکم مئی کو عظمیٰ طاہر کے والدین کے ذریعے حاصل کردہ ویزہ پر پاکستان گئیں اور تین مئی کو ان کی طاہر سے اس کے آبائی وطن بنیر میں شادی ہو گئی۔ چند روز کے بعد عظمیٰ طاہر کو کسی بہانے سے اسلام آباد لائیں اور وہاں انڈین ہائی کمیشن گئیں۔ وہاں جا کر انھوں نے بتایا کہ وہ ہندوستانی ہیں اور ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ وہاں پناہ گزیں ہو گئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو معلوم نہیں تھا کہ طاہر پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ انھوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ان سے بندوق کی نوک پر شادی کی گئی۔ وہ اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں اور ہندوستان واپس جانا چاہتی ہیں۔ اسی درمیان طاہر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کر دی کہ انڈین ہائی کمیشن نے ان کی بیوی کو غائب کر دیا ہے اور یہ کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہندوستانی ہائی کمیشن کے افسروں نے عظمیٰ کی جانب سے پٹیشن داخل کروائی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے عظمی کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ انھوں نے کہا کہ جب ایک خاتون اپنے شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو اسے زبردستی رہنے کے لیے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے انسانی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔ طاہر علی نے یہ کہہ کر جج کو بہکانے کی کوشش کی کہ اس معاملے میں پاکستان کا وقار کا داؤ پر لگا ہوا ہے۔ لیکن جج نے کہا کہ یہ انسانی مسئلہ ہے اس میں ہندوستان اور پاکستان کہاں سے آگئے۔ بہر حال انھوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی عظمیٰ کو واگہہ سرحد تک لے جائے اور ہندوستانی اہلکاروں کے حوالے کرے۔ اس طرح عظمیٰ ہندوستان واپس آگئیں۔ یہاں آنے کے بعد انھوں نے جو تفصیلات بتائیں وہ انتہائی لرزہ خیز ہیں۔ ان تفصیلات کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے حالات کتنے خراب ہیں اور وہاں انسانی جانوں کو کس قدر خطرات لاحق ہیں، خاص طور پر عورتوں کی زندگی کس طرح جہنم بنی ہوئی ہے۔
طاہر علی بھی شادی شدہ ہے اور عظمیٰ بھی۔ لیکن عظمیٰ مطلقہ ہیں اور ان کی ایک تین ساڑھے تین سال کی بیٹی بھی ہے جو تھیلے سیمیا کے مرض میں مبتلا ہے۔ عظمیٰ سیلم پور کے پاس چوہان بانگر کی باشندہ ہیں۔ انھوں نے یمنا وہار میں ایک بوتیک کھولا تھا جو بہت اچھا چل رہا تھا۔ وہاں مقامی خواتین سے ان کے بڑے اچھے تعلقات بھی قائم ہو گئے تھے۔ وہ وہیں ایک مکان کرائے پر لے کر رہنے بھی لگی تھیں۔ راقم نے اس علاقے کا دورہ کیا اور ان کی دکان کے برابر والے مکان میں رہنے والے پرمود چودھری سے ملاقات کی اور ان سے عظمیٰ کے بارے میں بات چیت بھی کی۔ پرمود نے بتایا کہ ڈاکٹر عظمیٰ ایک بہت مہذب، تعلیم یافتہ اور ملنسار خاتون ہیں۔ جب انھوں نے یہاں بوتیک کھولا تو ہمسایہ ہونے کی وجہ سے ان سے مراسم بڑھے۔ وہ ہمارے گھر آنے جانے لگیں اور ہمارے اہل خانہ سے ان کے قریبی روابط قائم ہو گئے۔ یہ روابط یہاں تک گہرے ہوئے کہ ہم میاں بیوی عظمیٰ کو اپنی بیٹی ماننے لگے۔ پرمود بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ عظمیٰ کی طاہر سے ملیشیا میں ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان سے شادی کرنے کے بارے میں بہت زیادہ پرجوش نہیں تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ ”ہاں ملیشیا میں ایک پاکستانی سے ملاقات ہوئی ہے جو ٹیکسی چلاتا ہے اور جو مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے“۔ لیکن عظمیٰ نے اس بارے میں پرمود کے اہل خانہ سے کبھی کسی جوش خروش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ عظمیٰ کی بیٹی کو اکثر علاج اور خون چڑھوانے کی غرض سے اسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ پرمود نے بھی دو ایک بار ان کی بیٹی کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) میں لے جا کر خون چڑھوایا تھا۔ ان کا بوتیک سات آٹھ مہینے تک چلا اور خاصا چل پڑا تھا۔ بچی کی وجہ سے ہی انھوں نے اپنا بوتیک وہاں سے ہٹا کر چوہان بانگر کے قریب بھجن پورہ میں منتقل کر لیا تاکہ ان کی دادی اور چچا اس کی دیکھ ریکھ کر سکیں۔ پرمود کہتے ہیں کہ اس کے بعد بھی وہ ان کے گھر آتی جاتی رہیں۔ انھوں نے کئی بار یہ بات کہی تھی کہ بھجن پورہ میں ان کی شاپ نہیں چل رہی ہے۔ ان کی دادی بھی اس درمیان پاکستان اپنے کسی رشتے دار کے یہاں گئی تھیں اور ایک ماہ رہ کر آئی تھیں۔ لیکن پرمود کو اس کا علم نہیں کہ آیا ان کی دادی نے وہاں طاہر علی یا ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ عظمیٰ نے پرمود کے گھر سے ہی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اپنی دادی سے بات کی تھی اور ان لوگوں سے بھی کروائی تھی۔ عظمیٰ کے بوتیک کی جگہ اب وہاں ایک اور بوتیک ٹینو جی فیشن کھل گیا ہے جو ایک سردار جی چلا رہے ہیں۔ جب ہم وہاں گئے تو دوکان بند تھی اور دوپہر ہونے کی وجہ سے گلی میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ بہر حال یہ دونوں واقعات پاکستان کی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ عظمیٰ کے ساتھ ہونے والے دھوکہ کے باوجود جسٹس کیانی کا ان کے حق میں فیصلہ سنانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو انسانیت اور انصاف کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لیے تو وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان کی وزارت داخلہ و خارجہ اور جسٹس کیانی کا شکریہ ادا کیا۔ عظمیٰ تو ہندوستان واپس آگئی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ جادھو کب تک واپس آتے ہیں۔

Title: a tale of kulbhushan jadav to uzma | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )