حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں؟

سہیل انجم
ایک خبر دو روز قبل سوشل میڈیا پر پڑھی۔ خبر کیا ہے، مسلم معاشرے اور بالخصوص علما کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ خبر نے دل پر گھونسے چلائے، دماغ میں سنسناہٹ پیدا کی اور ذہن کو پراگندہ کر دیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے وہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ ”بدھ کے روز بنارس کے دارانگر علاقے میں پاتال پوری مٹھ کے سنکٹ موچن مندر میں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا گیا۔ یہ معمول کا عمل ا س وقت بہت غیر معمولی بن گیا جب مسلم خواتین نے ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا۔ انھوں نے سنکٹ موچن یعنی ہنومان جی سے التجا کی کہ وہ ان کو تین طلاقوں سے نجات دلائیں۔ یہ پاٹھ مسلم مہیلا فاونڈیشن کی کارکنوں کے ذریعے ایسے وقت کیا گیا جب طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کی آئینی بنچ سماعت شروع کرنے والی تھی۔ مسلم خواتین نے اردو میں چھپے ہنومان چالیسہ کا سو مرتبہ ورد کیا۔ فاونڈیشن کی قومی صدر نازنین انصاری نے کہا کہ ”یہ مندر بہت خاص ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ جو کوئی بھی سو مرتبہ ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کرتا ہے اس کی خواہش پوری ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہم نے بھی طلاق ثلاثہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے پاٹھ کیا اور ہنومان جی سے پرارتھنا کی کہ وہ ہمیں تین طلاقوں سے بچائیں“۔ ان مسلم خواتین کا ساتھ آر ایس ایس کی تنظیم راشٹریہ مسلم منچ کے سربراہ اندریش کمار اور پاتال پوری مٹھ کے پیٹھادھیشور بابا بالک داس نے بھی دیا“۔
بہت سے لوگ اس واقعہ کو یہ کہہ کر نظرانداز کر سکتے ہیں کہ یہ تو ان لوگوں نے کیا ہے جو اسلام سے بیزار ہیں اور جنھوں نے مسلم مہیلا آندولن نامی تنظیم بنا کر اسلام کو عدالتوں میں کھینچ کر پہنچا دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ آج چند مسلم خواتین نے ایک شرعی عمل سے نجات پانے کے لیے ہنومان جی سے پرارتھنا کی اور ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا، کل کو دوسری بہت سی خواتین اپنے مسائل کو لے کر مندورں میں جا سکتی ہیں او ربتوں سے فریاد کر سکتی ہیں کہ وہ ان کو ان کے مسائل سے چھٹکارہ دلائیں۔ گویا ہم پھر وہیں پہنچ جائیں گے جہاں اسلام کی آمد سے قبل تھے اور جس بت پرستی ختم کرنے کے لیے حضورﷺ تشریف لائے تھے۔ اس قسم کے واقعات پہلے بہت معمولی سطح پر شروع ہوتے ہیں لیکن اگر ان کا نوٹس نہ لیا جائے اور ان واقعات کے پس پردہ عناصر اپنی کوششیں جاری رکھیں تو یہی واقعات بڑے پیمانے پر بھی ہو سکتے ہیں۔ اس بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ عمل ان مسلم عورتوں نے کیا ہے جو آر ایس ایس کے بہکاوے میں آگئی ہیں یا پھر وہ مسلم خواتین تھیں ہی نہیں۔ وہ غیر مسلم خواتین تھیں اور ان کو برقعہ پہنا کر مندر میں لے آیا گیا تھا۔ پہلے تو ہمیں بھی یہی خیال آیا تھا مگر جب یہ لائن پڑھی کہ انھوں نے اردو میں چھپے ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کیا ہے تو شبہ دور ہو گیا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آر ایس ایس نے کچھ ہندو خواتین کو اردو سکھائی ہوگی اور انھوں نے یہ کام کیا ہوگا۔ تو سوال یہ ہے کہ کتنی خواتین نے اتنی جلد اردو سیکھ لی کہ انھوں نے اردو میں چھپے ہوئے ہنومان چالیسہ کا سو مرتبہ پاٹھ کر ڈالا۔ چلیے مان بھی لیا کہ وہ ہندو خواتین تھیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس قدم سے ایک پیغام تو دے ہی دیا گیا۔ اور پھر آر ایس ایس کو ایسا کرنے کا موقع کس نے دیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کو اس لیے بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر وہ واقعی مسلم خواتین تھیں تو یہ واقعہ ایک طرح سے ارتداد کی ایک شکل ہے۔ یعنی جن مسلم عورتوں نے یہ عمل کیا گویا انھوں نے اپنے دین سے اپنے اسلام سے پھر جانے کا بظاہر اعلان کر دیا۔ اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ جن خواتین نے اس میںحصہ لیا ان کے شوہروں اور اہل خانہ کو ان سے سخت بازپرس کرنی چاہیے اور ان کو اس کی سزا دینی چاہیے، اور ان خواتین کو بھی اس عمل سے رجوع کرنا چاہیے۔
اس وقت طلاق ثلاثہ کا معاملہ پورے ملک میں گرم ہے۔ سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی آئینی بنچ اس پر سماعت کر رہی ہے کہ کیا یہ عمل اسلامی ہے یا غیر اسلامی ہے۔ بنچ میں شامل پانچوں جج پانچ مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم فی الحال اس پر غور نہیں کریں گے کہ عدالت عظمی کیا فیصلہ سنائے گی لیکن ہاں یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ تین طلاق کے معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا ہے اور اس کو اس قدر متنازعہ بنا کر اچھالا گیا ہے کہ آج ایسا لگ رہا ہے کہ ہر مسلمان اپنی بیوی کو تین طلاق دے کر گھر سے نکال رہا ہے اور یہ کہ مسلم خواتین انتہائی مصیبت میں ہیں۔ ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ اس کی بہت بڑی ذمہ داری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور علما پر عائد ہوتی ہے۔ شیعوں اور اہل حدیثوں میں بیک وقت دی گئی تین طلاقیں تین نہیں ایک ہی مانی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں اللہ کے رسول کے زمانے میں کیا طریقہ کار تھا اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس نے کیا شکل اختیار کی، کافی کچھ سامنے آگیا ہے۔ علما بھی یہ کہتے ہیں کہ بیک وقت تین طلاق دینا غلط ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بیک وقت تین طلاقیں دے دیتا ہے تو وہ مان لی جاتی ہیں۔ حالانکہ کئی فقہی مسائل میں حنفی علما نے رجوع کیا ہے اور دوسرے مسلک کے مسئلے کو تسلیم کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں بھی تھوڑی فراخ دلی دکھاتے اور دوسرے مسلک کے مسئلے کو اختیار کر لیتے تو با ت بن جاتی اور معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا۔ آج تو صورت حال یہ ہے کہ ہر ایرا غیرا اسلامی قوانین کا ماہر اور قرآن کا شارح بن گیا ہے۔
میڈیا میں جس قسم کے واقعات پیش کیے جا رہے ہیں اور جس طرح مطلقہ خواتین کے مسائل سامنے لائے جا رہے ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں میں اس سلسلے میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ انھیں مسائل کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے۔ انھیں شرعی قوانین سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ایسے واقعات روزانہ سامنے آرہے ہیں کہ کسی نے کسی معمولی بات پر اور کسی نے کسی اور معمولی بات پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور گھر سے نکال دیا۔ این ڈی ٹی وی انڈیا پر لکھنو¿ کی ایک ایسی خاتون کی رپورٹ دکھائی گئی جس میں اس کے شوہر نے اسے اس لیے طلاق دے دی کہ اس کی کڈنی خراب ہو گئی ہے اور وہ ڈائلسس کروا رہی ہے۔ مذکورہ خاتون نے رو رو کر بتایا کہ وہ ڈائلسس کرواکر اسپتال کے باہر آئی تو اس کے شوہر نے کہا کہ تمھاری کڈنی خراب ہو گئی ہے اگر تم میرے ساتھ رہو گی تو میری بھی خراب ہو جائے گی لہٰذا اس نے وہیں اس کو طلاق دے دی اور اسے چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا۔ اس نے اپنے سالے کو فون کرکے کہا کہ تمھاری بہن فلاں جگہ کھڑی ہے اسے جا کر لے آو¿۔ اس واقعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں بیداری لانے کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ ان کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ طلاق کا عمل کیسے آگے بڑھتا ہے اور کیسے تین مہینے میں جاکر مکمل ہوتا ہے۔ وہ کوئی منتر نہیں ہے کہ طلاق طلاق طلاق کہا اور بیوی کو چھوڑ دیا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے گزشتہ دنوں اپنے ایک فیصلے میں اعلان کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دیتا ہے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ اس پر بھی بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے کہ یہ کیسے ہوگا اور کیونکر ہوگا۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بورڈ نے مسئلے کی سنگینی کا احساس کیا ہے۔ اگر اس نے اور پہلے اس قسم کے تدارکی اقدامات کیے ہوتے اور مسلمانوں میں رائج تین طلاق کی رسم کو ختم کرنے کے لیے کوئی مہم چلائی ہوتی تو یہ معاملہ یہاں تک نہیں پہنچتا۔ یہ بات گرہ سے باندھ لینی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ تین طلاقوں کے بارے میں کوئی سخت فیصلہ کرنے والی ہے۔ اگر اس نے نہیں کیا تو حکومت پارلیمنٹ سے قانون بنا کر اسے ختم کرنے کا اعلان کر سکتی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سنگین صورت حال کی ذمہ داری صرف ان خواتین پر عائد نہیں ہوتی جنھوں نے عدالتوں کا رخ کیا ہے بلکہ علما پر بھی اور خاص طور پر مسلم پرسنل لا بورڈ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اس سے انکار کی گنجائش بہت کم ہے۔
sanjumdelhi@gmail.com

Title: triple talaq and muslim ulema | In Category: ایک خبر ایک نظر  ( ek-khabar-ek-nazar )